30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تلاوت میں رونا ثواب ہے
فَإِذَا قَرَأْتُمُوهُ فَابْكُوْا، فَإِنْ لَمْ تَبْكُوْا فَتَبَاكَوْا
(ابن ماجہ،2/129، حدیث:1337)
فرمان ِمصطفے صلی اللہ علیہ والہ وسلم :قرآنِ پاک کی تلاوت کرتے ہوئے روؤ اور اگر رو نہ سکو تو رونے کی سی شکل بناؤ۔
شرح حدیث: غم کی کیفیت میں اس طرح قراءَت کرنا کہ آنکھوں سے آنسو بہیں، اس سے قراءَت کرنے والے کولذت حاصل ہوگی جس کے ذریعے سے وہ اللہ پاک کے قریب ہوگا۔
(حاشیہ سندی علی سنن ابن ماجہ ،1/ 402)
امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:قرآنِ کریم پڑھتے ہوئے رونے کا طریقہ یہ ہے کہ قرآن میں آنی والی تنبیہات(یعنی نصیحتوں)،وعیدات اور عہد وپیمان کو یاد کرے، پھر جن باتوں کا حکم ہے اور جن باتوں سے روکا گیا ہے اُن میں اپنی کوتاہیوں میں غور وفکر کرے تویقیناً وہ غمگین ہو گا اور رونے لگے گا۔ اگر اس پر غم اور رونے کی کیفیت طاری نہ ہو جیسے صاف دل والوں پر طاری ہوتی ہے تو اسے نہ رونے اور غمگین نہ ہونے پر رونا چاہئے کیونکہ یہ سب سے بڑی مصیبت ہے۔
(احیاء العلوم، ۱/836،837 بتصرف)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع