30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یعنی یاد رکھ! جب تو دنیا میں آیا تھا رو رہا تھا اور لوگ مسکرا رہے تھے، اِس طرح کی زندگی بسر کر کہ تیری موت کے وقت لوگ رو رہے ہوں اور تُو مسکرا رہا ہو ۔
اللہ پاک کی اُن پر رَحمت ہو اور اُن کے صدقے ہماری بے حساب مغفرت ہو ۔ اٰمین بجاہ النّبی الامین صلّی اللہ تعالی علیہ والہ وسلّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
(3) مَحبُوبِ عطّار حاجی زَم زَم رضا عطّاری
مبلغِ دعوتِ اسلامی و مرحوم رُکنِ شوریٰ، حاجی ابوجنیدزَم زَم رضاعطاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الباری 10ستمبر1965ء (مطابق١٤جُمَادَی الْاُوْلیٰ١٣٨٥ھ) کو زم زم نگر حیدرآباد (باب الاسلام، سندھ) میں پیداہوئے ۔ ٦رَجَبُ المرَجَّب ١٤٠٥ھ (مطابق28مارچ 1985ء) کو کم وبیش 20 سال کی عمر میں دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابَستہ ہوئے اور امیرِاہلِ سنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے ہاتھ پربیعت ہو کر سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ عطاریہ میں داخل ہوگئے ۔ کچھ عرصے کے لئے مَدَنی ماحول سے دُوری رہی پھر ایک اسلامی بھائی کی اِنفرادی کوشش کے نتیجے میں کم وبیش پانچ سال بعدتقریباً١٤٠٩ھ مطابق1989ءمیں دعوتِ اسلامی سے دوبارہ وابستہ ہوئے اور اِس مَدَنی تحریک کا مَدَنی کام کرنا شروع کیا ۔ پہلے آپ کا نام ’’جاوید‘‘ تھا، مگر امیرِاہلِ سنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے تبدیل کر کے نام ’’محمد‘‘ اور پکارنے کے لئے ’’زَم زَم رضا‘‘ رکھا، آپ کی کنیت ابوجنیدتھی ۔ حاجی زم زم عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الاکرم ترقّی کرتے کرتے ١٥ رَمَضانُ المبارَک ١٤٢٥ھ مطابق30اکتوبر2004ء کودعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رُکن بنے اور سالہا سال تک مَدَنی کاموں کی دُھومیں مچائیں، پھرمِعدے کے مَرَض میں مبتَلاہوئے اور طویل عَلالت کے بعدہجری سن کے اعتبار سے تقریباً 48 سال6 ماہ 8دن اس دنیائے فانی میں گزارنے کے بعد ٢١ ذوالقعدہ ١٤٣٣ھ مطابق 8اکتوبر 2012ء کوپیر اور منگل کی درمیانی شب تقریباً11بج کر45 منٹ پر بابُ المدینہ (کراچی) میں انتِقال فرماگئے ۔ اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ ۔
تاجدارِ مَدَنی انعامات، حاجی زم زم عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الاکرم کی وِصال سے کم وبیش 21 برس پہلے بابُ الاسلام (سندھ) کے مشہور شہر حیدرآباد میں شادی ہوئی، دوبیٹیاں تھیں جن کی اُنہوں نے اپنی زندگی میں شادی کردی تھی، جبکہ تقریباً15سال کابڑاشہزادہ بوَقْتِ وفات جامعۃ المدینہ (حیدرآباد) میں دَرَجۂ ثالِثہ کاطالبِ علم تھا، دوسرابیٹاآٹھ سال اورتیسرابیٹاپانچ سال کاتھا ۔ حاجی زَم زَم عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللّٰہِ الْاَکْرَم کے بچوں کی امّی نے اپنے تینوں بیٹوں کووقفِ مدینہ (یعنی عمر بھر دعوتِ اسلامی کے مَدَنی کاموں کے لئے وَقْف) کردیاہے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
مَدَنی بَہار
مَدَنی چینل کے سلسلے ’’کھلے آنکھ صلِّ علیٰ کہتے کہتے‘‘ میں حاجی زم زم عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الاکرم نے دعوتِ اسلامی سے وابَستہ ہونے کے بارے میں کچھ یوں بیان کیا : بچپن ہی سے میری طبیعت میں شرارتی پن بہت تھا ۔ شُعور آنے کے بعدسے یہ حال تھاکہ گلیوں میں نکل جاتے اور ڈھونڈتے رہتے کہ شرارت کاکوئی موقع ملے ۔ جیسی میری طبیعت تھی ویسے ہی دوست تھے ۔ رات کوجو لوگ سڑک پر چارپائی بچھا کرسوتے تھے اُن کو اُٹھاکر بیچ روڈ میں رکھ دیتے ۔ لوگوں کے گھروں کا دروازہ بجاکرچھپ جانا، ڈراؤنا ماسک پہن کرلوگوں کو ڈرانا ۔ شُروع سے میری طبیعت خوش طبعی، مذاق مسخری کرنے والی رہی ہے ۔ میرے دوست میرا انتِظارکرتے تھے کہ ابھی یہ آئیں گے توسب کوہنسائیں گے، ہنستے ہنستے کوئی یہاں گِرے گا تو کوئی وہاں! ایک دوسرے پر ہُوٹِنگ کرنا، شرارتوں کی پلاننگ کرنا، مل کر ہوٹلوں پر کھانے کیلئے جانا اور پیسے ہونے کے باوُجود بھاگنے کی کوشش کرنا، گویا ایک عجیب قسم کی دنیامیں زندگی گزر رہی تھی اور کچھ پتا ہی نہ چلتاتھا، آنکھیں بالکل بندتھیں ۔ نماز کا کوئی خاص اِہتمام نہ تھا، کبھی کبھارپڑھ لی تو پڑھ لی ورنہ نہیں (اللہ تعالیٰ مُعاف فرمائے) ۔ اِن سب چیزوں کے باوجود سُنّی عُلَما کی تقریریں سننے کی سعادت ملتی تھی اور یہ ذِہن بنا ہوا تھا کہ مُریدبنناچاہئے، دل اِس جستجومیں تھا کہ کوئی پیرِکامل ملے تواُس کا مریدبنوں ۔ اِسی طرح میری زندگی کے بیس اِکّیس سال گزر گئے ۔ میں نے شیخِ طریقت، امیر اہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا نام سن رکھا تھا ۔ ایک بار آپ حیدرآباد تشریف لائے تو مجھے کسی نے بتایا کہ ہم ملاقات کیلئے جارہے ہیں آپ بھی چلیں، میں نے کہا : چلو چل کر دیکھتے ہیں ۔ اُس وَقْت میں نے پینٹ شرٹ پہن رکھی تھی اور کلین شیو تھا ۔ ایک ذِہْن تھا کہ کوئی ایسی شخصیت ہوگی جس نے ہزاروں روپے کا عمامہ پہن رکھا ہوگا اور خوبصورت لباس ہوگا ۔ جب میں وہاں پہنچا تو حیران رہ گیاکہ بالکل سادہ لباس میں ملبوس شخصیت موجود ہے ۔ میں ملاقات کیلئے قِطار میں لگ گیا، باری آنے پر ہاتھ ملاتے ہوئے جوں ہی نظراٹھائی تو ایک مسکراتا ہوا چہرہ میرے سامنے تھا ۔ نہ جانے ایساکیاہواکہ مجھ پررقّت طاری ہوگئی ۔ مختصر ملاقات کے بعد میں الگ ہوگیا، غالباً یہ ٦رجب المرجب ١٤٠٥ھ کی بات ہے ۔ پھرکسی نے مرید بننے کی ترغیب دلائی اور بیعت کا اعلان ہوا تو اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ ! مجھے گناہوں سے توبہ کرکے عطاری بننے کی سعادت حاصل ہوئی ۔ اُسی وَقْت میں نے داڑھی کی نیّت کرلی اور گاہے گاہے اجتماعات میں شرکت کرنے لگا ۔ اِس طرح مَدَنی ماحول سے وابستگی نصیب ہوئی لیکن افسوس! یہ زیادہ عرصہ برقرار نہ رہ سکی کیونکہ میں نے اپنے پرانے دوستوں کی صحبت نہیں چھوڑی تھی ۔ بدقسمتی سے اُسی دوران مجھے یہ شوق چڑھا کہ اب مجھے اداکاری کرنی ہے، گانے گانے ہیں، لطیفے سنانے ہیں ۔ میں مِزاحیہ اسٹیج ڈراموں کی کیسٹیں سنتا اور اپنی آواز میں اُن کی نَقْل تیار کرتا ۔ کسی ٹی وی آرٹسٹ کا پتہ چلتا تو اُس سے ملنے چلا جاتااو ر فرمائش کرتا کہ میرے لئے کوشش کرو کہ مجھے ٹی وی پر آنے کا موقع مل جائے ۔ اِسی طرح ایک اسٹیج پروڈیوسر سے ملاقات ہوئی اور اُنہوں نے میرا شوق دیکھا تو مجھے کام کرنے کی آفر کی ۔ یوں میں بدقسمتی سے اس طرف چلا گیا اور ایک عرصے تک اسٹیج ڈرامے اور فنکشنز وغیرہ کرتا رہا ۔ اسی طرح کم وبیش چار پانچ سال کا عرصہ گزر گیا ۔ غالباً 1989ء میں مرکزُ الاولیاء (لاہور) میں ہونے والے اجتماع میں شرکت کیلئے حاضر ہوا ۔ ویسے توپہلی ملاقات کے بعد ہی میرے دل میں امیر اہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی محبت پیدا ہوگئی تھی ۔ ان پانچ سالوں کے دوران میں کبھی کبھی اجتماع میں جاتا تھا لیکن بارگاہِ امیر اہلِ سنّت میں بار بار جاتا رہتا اور چھپ چھپ کر زیارت کرتا رہتا ۔ جب میں مَدَنی ماحول سے دور ہوا تھا تو ایک عجیب کیفیت تھی اور بے بسی سی محسوس ہوتی تھی ۔ دل بہت چاہتا تھا کہ میں اس طرف چلا آؤں مگر دنیا کی رنگینی مجھے کھینچ کر رکھتی تھی ۔ ایک دفعہ ہم دوستوں نے رات
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع