30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
ایک اسلامی بھائی نے تجربات و مُشاہَدات کی روشنی میں حاجی مشتاق عطاری علَیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہ البَارِی کے بارے میں تَأ ثُّرات لکھ کر دئیے تھے جو کچھ یوں ہیں : جن دِنوں حاجی مشتاق عَلیْہ رَحْمَۃُاللّٰہِ الرَّزَّاق اورنگی ٹاؤن (بابُ المدینہ کراچی) میں مقیم اور دعوتِ اسلامی کے عَلاقائی نگران تھے، میرا بھی تقریباً 6برس وَہیں قیام رہا ٭میں نے اُنہیں غیبت کرتے یا غصّے میں آکر کسی کو جھاڑتے لَتاڑتے کبھی نہیں دیکھا ٭بڑے سے بڑا آپَسی تَنَازَعَہ یاتنظیمی مَسئلہ درپیش آتاحکمتِ عملی کے ساتھ ہنس بول کر حل فرمادیتے ٭کوئی کتنی ہی دل آزاربات کہہ گزرتا سُن کر غضبناک ہونا تو ایک طرف کبھی اُن کے ماتھے پر شِکن تک نہیں دیکھی ٭جب کسی کو وَقت دیتے تو حتَّی الامکان اُس کی پابندی فرماتے ٭بارہا دیکھاکہ جب اجتِماعِ ذِکْرونعت میں نعت شریف پڑھنے یا نکاح پڑھانے کیلئے سُواری کی آفرکی جاتی تو یہ کہہ کر انکارفرما دیتے کہ میرے پاس بائیک (bike) موجود ہے، اِنْ شَآءَ اللہعَزَّ وَجَلَّ اُسی پر حاضِر ہوجاؤں گا، بس مجھے پتا بتادیجئے ٭آنے جانے کا کِرایہ وغیرہ مانگنا تو ایک طرف رَہا کوئی از خودپیش کرتا تب بھی اکثر مُسکرا کرٹال دیتے تھے ٭ 19.12.1996 کو میرا نکاح تھا، میری درخواست پر بارات کے ساتھ لانڈھی قائدآبادتشریف لے آئے، نکاح بھی پڑھایا اور سہرا بھی پڑھا ۔ واپَسی پر گھروالوں نے کافی اصرار کیا کہ آپ کودولھاکی گاڑی میں گھر پہنچا دیتے ہیں یا ٹیکسی کروادیتے ہیں مگر نہ مانے اور بکمالِ انکِسارلانڈھی قائدآباد تا اور نگی ٹاؤن کا طویل سفر عام روٹ کی بس میں اِختیار فرمایا ۔
مِری عادتیں ہوں بہتر، بنوں سنّتوں کا پیکر
مجھے متّقی بنانا مَدَنی مدینے والے([1])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
مزار پر حاضِری کی دو مَدَنی بہاریں
اَلْحَمْدُ لِلّٰہ! صحرائے مدینہ (با بُ المدینہ کراچی) میں دربارِ مشتاق مَرجَعِ خَلائق ہے، اسلامی بھائی دور دورسے آتے اور فیض پاتے ہیں ۔ چُنانچِہ
(1) ایک اسلامی بھائی نے کچھ اِس طرح تحریر پیش کی : میرے بچوں کی امی ’’اُمّید‘‘ سے تھیں ۔ میڈیکل رِپورٹ کے مطابِق بیٹی کی آمد ہونے والی تھی مگر مجھے بیٹے کی آرزو تھی کیوں کہ ایک بیٹی پہلے ہی گھر میں موجود تھی ۔ میں نے صحرائے مدینہ میں آکر دربارِمشتاق عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالرَّ زَّاق میں حاضِری دی اور بارگاہِ الٰہی میں دعامانگی ۔ میڈیکل رپورٹ غلط ثابت ہوگئی اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہ ہمارے گھر میں چاند سے چہرے والے مَدَنی مُنّے کی ولادت ہوگئی ۔
(2) ایک اِسلامی بھائی کابیان ہے : مجھ پر گندے اثرات تھے ۔ اپنے حلقے کے اِسلامی بھائیوں کے ساتھ صحرائے مدینہ میں دربارِمشتاق پر میں نے حاضِری دی اور دُعا مانگی، ایسامَحسوس ہواجیسے مجھے کسی نے پکڑ لیاہے، کچھ دیر کے بعدوہ کیفیت جاتی رہی اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ میری طبیعت بہتر ہوگئی ۔
دُعائے امیر اَہلِ سنّت
امیرِاہل سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ دعا کرتے ہیں : یاربِّ مصطَفٰے عَزَّوَجَلَّ و صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ، مجھے، حاجی محمدمشتاق عطاری، ہر دعوتِ اِسلامی والے اور والی اور تمام امّتِ مسلمہ کی مغفِرت فرما ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
(2) مفتیٔ دعوتِ اسلامی محمّد فاروق عطاری
مفتیٔ دعوت ِ اِسلامی و مَرحوم رُکنِ شورٰی، الحافظ، القاری، ابوعمرمحمد فاروق عطاری مَدَنی عَلَیْہ رَحْمَۃ اللّٰہ الغَنِی کی وِلادت 26 اگست 1976ء ماہِ رَمَضانُ المُبارَک میں بابُ الاسلام (سندھ) کے شہر لاڑکانہ (جس کا نام امیرِاہل سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُھُمُ العَالِیَہ نے آپ کی وفات کے بعد’’فاروق نگر‘‘رکھ دیاہے) میں ہوئی ۔ اِسکول سے واپَسی پر والدہ کوقرآنِ پاک سنایا کرتے تھے ۔ ابتدائی تعلیم اور حفظِ قرآن دارُ العلوم اَحسنُ البَرَکات (زم زم نگرحیدرآباد) سے کیا ۔ فاروق نگر سے حیدرآباد اور پھر 1989ء میں بابُ المدینہ (کراچی) منتقل ہوگئے ۔
مَدَنی بَہَار
مفتیٔ دعوت ِ اسلامی قدّس سرّہ السّامی نے دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستگی کے بارے میں خود کچھ اس طرح بتایا تھا کہ میں نے جب پہلی مرتبہ ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی تو وہاں کی جانے والی اِختِتامی رِقّت انگیز دُعا سن کربَہُت مُتَأثّر ہوا، اُس دعاکا انداز پسند آگیا، اُس کے بعددعوتِ اسلامی کی منزلیں طے ہوتی چلی گئیں ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
ہم دَرَجہ اِسلامی بھائیوںکے تأثّرات
آپ نے دعوتِ اسلا می کے جامعۃ المدینہ میں درسِ نظامی یعنی عالم کورس کرنے کےلئے 1995ء میں داخلہ لیا ۔ آپ اپنی عادات واطوار میں دیگر طَلَبَہ سے ممتاز تھے ۔ آپ کے ساتھ پڑھنے والے مَدَنی عُلَما کا بیان ہے : دورانِ طا لبِ علمی جب پڑھائی کے درمیانی وقفہ میں ہم لوگ چائے وغیرہ پینے کے لئے ہوٹل میں چلے جاتے تو یہ اُس وقفہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع