30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فرمایا مگر وہ مجھے یاد نہیں ۔ پھر آنکھ کھل گئی ۔
مجرموں کو شہا بخشواتا ہے تُو اپنی اُمّت کی بگڑی بناتا ہے تُو
غم کے ماروں کو سینے لگاتا ہے تُو غمزدوں بےکسوں کا تُو غمخوار ہے([1])
حاجی مشتاق عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللّٰہِ الرَّزَّاق چُونکہ اُن دنوں سخت علیل تھے، شیخِ طریقت، امیرِاہل سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہنے یہ ایمان افروزخواب والامکتوب دلجوئی کی خاطر اُنہی کوپیش کردیا ۔ امیرِاَہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہفرماتے ہیں : میراحُسنِ ظنّ ہے کہ حاجی مشتاق پر رَحمتِ عالَم، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ کی خُصوصی نظرِکَرَم تھی ۔
ایک اسلامی بھائی نے امیرِاہل سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کو کچھ اِس طرح لکھا : اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ!پیر اور منگل کی درمیانی شب میں نے یہ ایمان افروز خواب دیکھا کہ مسجدُالنَّبَوِیِّ الشَّریف علٰی صاحِبِہا الصَّلٰوۃ وَالسَّلام میں سرکارِمدینہ، سلطانِ باقرینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ رونق افروز ہیں اور اِرْدگِرد انبیائے کِرام عَلَیْہمُ السَّلام، خُلَفائے راشِدین، حَسَنین کریمین اور بے شمار اولیائے کِرامرِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالیٰ عَلَیْہِم اَجْمَعِین حاضِر ہیں ۔ ہر طرف سُکوت (یعنی خاموشی) طاری ہے، اِتنے میں میٹھے میٹھے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ حضرتِ سیِّدُنا ابوبکرصِدّیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی طرف مُتَوَجِّہ ہوئے، لبہائے مُبارَکہ کو جُنبش ہوئی، رَحمت کے پھول جَھڑنے لگے اور الفاظ کچھ یوں ترتیب پائے : (اے ابوبکر!) محمدمشتاق عطاری آنے والے ہیں، میں اُن سے مُصافَحہ کروں گا، تم بھی مُصافَحہ کرنا، وہ یہاں آکر ہمیں نعتیں سنائیں گے ۔ پھر میری آنکھ کُھل گئی ۔ جب دن نکلا تو خبر آئی کہ آج٢٩شَعبانُ المُعظَّم١٤٢٣ھ(مطابق 5.11.2002) صبح سوا آٹھ اور ساڑھے آٹھ بجے کے درمیان حاجی مشتاق عطاری علَیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہ البَارِی کی وفات ہوگئی ہے ۔
شہا عطار کا پیارا ہے یہ مشتاق عطاری یہی مژدہ اسے تم بھی سنادو یا رسولَ اللہ([2])
پیارے پیارے اِسلامی بھائیو! اِس ایمان افروز خواب سے یہ حُسنِ ظن قائم ہورہا ہے کہ مرحوم حاجی مشتاق عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالرَّ زَّاق بارگاہِ رسالت کے مقبول ثناخوان تھے ۔ جبھی تو وفات سے کچھ گھنٹے پہلے آمد کا انتظار کرنے اور نعتیں سننے کی بِشارت سنائی گئی ۔
جس وقت نکیرین مِری قبر میں آئیں
اُس وقت مِرے لب پہ سجی نعتِ نبی ہو([3])
نِشترپارک (بابُ المدینہ کراچی) میں مرحوم کی نَمازِجنازہ ادا کی گئی ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
امیرِاہل سنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہفرماتے ہیں : میں نے بڑے بڑے حضرات کے جنازوں میں حاضِری دی ہے لیکن اِس سے پہلے کبھی کسی کے جنازے میں لوگوں کا اِتنا اِزدِحام نہیں دیکھا تھا جتنا حاجی مشتاق عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالرَّ زَّاقکے جنازے میں تھا ۔ بَہُت رقّت انگیز مناظر دیکھنے میں آرہے تھے، غمِ مُشتاق میں دیوانے بِلَک بِلَک کر رورہے تھے ۔ آہوں اور ہچکیوں کی جگر پاش صداؤں اور نَمناک آنکھوں کے ساتھ انتہائی پُر سوز ماحول میں مرحوم کو صحرائے مدینہ (ٹول پلازہ با بُ المدینہ کراچی) کے اندر سپردِخاک کیا گیا ۔
واسِطہ پیارے کا ایسا ہو کہ جو سُنّی مرے یوں نہ فرمائیں تِرے شاہِد کہ وہ فاجِر گیا
عرش پر دُھومیں مچیں وہ مومنِ صالح ملِا فرش سے ماتم اٹھے وہ طیّب و طاہِر گیا([4])
دعوتِ اسلامی کے عالَمی مَدَنی مرکز فیضان مدینہ (بابُ المدینہ کراچی) میں مرحوم کا سوئم ہوا جس میں کثیراِسلامی بھائیوں نے شرکت کی ۔ حاجی مشتاق عطاری علَیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہ البَارِی کے سوئم میں مختلف شہروں سے ایصالِ ثواب کی جو سوغاتیں آئیں اُن کی اِجمالی فہرس یہ ہے :
قرآن پاک 13919 سورۂ مزّمّل 10
متفرق پارے 5613 آیۃ الکرسی 33592
سورۂ یٰسین 1038 متفرق سورتیں 93186
سورۃ الملک 1140 درود شریف 13888087
سورۂ رحمٰن 165 کلمۂ طیّبہ 348400
مختلف تسبیحات 357200 ٭…٭…٭ ٭…٭…٭
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع