30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
باغ باغ بلکہ باغِ مدینہ بن گیا ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
مُرشِد کی گھر تشریف آوری
ابراہیم باپو کے دل میں یہ حسرت تھی کہ پیر ومُرشِد امیراہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ ان کے غریب خانے پر قدم رنجہ فرمائیں، چنانچہ ایک دن جب یہ گھر پہنچے تو ان کے گھر والوں نے بتایا کہ آج امیراہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ ہمارے گھر تشریف لائے تھے، یہ سن کر آنکھیں حیرت سے کھلی کی کھلی رہ گئیں، مزید گھروالوں نے بتایا : سامنے والے گھر میں ایک سیّد صاحب رہتے ہیں جن سے ملاقات کرنے تشریف لائے تھے، یوں ہمارے گھر بھی آمد ہوگئی، اَلْحَمْدُ لِلّٰہ! جب امیراہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ ہمارے گھر تشریف لائے تو ہم نے بڑے ادَب واحترام سےاستِقبال کیا، اس دوران آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی ساداتِ کِرام سے محبّت وعقیدت دیکھ کر دل اش اش کر اُٹھا، ہوا کچھ یوں کہ امیراہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ صوفے پر تشریف فرماتھے اور ہم سب صوفوں پر بیٹھے ہوئے آپ کی زیارت وملفوظات سے مستفیض ہورہے تھے کہ اچانک وہ پڑوسی سیّد صاحب بھی آگئے اور صوفوں پر بیٹھنے کی جگہ نہ ہونے کی وجہ سے نیچے ہی بیٹھ گئے، یہ دیکھ کر امیراہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ فوراً صوفے سے اُٹھ کر ان سیّد صاحب کے ساتھ نیچے تشریف فرماہوگئے، جب آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی خدمت میں صوفے پر بیٹھنے کی درخواست پیش کی گئی تو صوفے پر بیٹھنے سے انکار فرمادیا، یہ دیکھ کر ہم نے فورا ًًصوفے پر سیّد صاحب کے لئے بیٹھنے کی جگہ خالی کردی، جب سیّد صاحب فرش سے اُٹھ کرصوفے پر بیٹھے تو آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ بھی صوفے پر تشریف فرماہوئے، اس دوران جب حاضِرین کی خدمت میں بوتلیں پیش کی گئیں تو آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے لینے دینے اور کھانے پینے میں بایاں ہاتھ استعمال کرنے والوں کو یہ مَدَنی پھول عطا فرمایا کہ دائیں ہاتھ سے کھانا پینا سنّت ہے، الغرض! امیراہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے حکمت بھرے مَدَنی پھول سُن کر اور ساداتِ کِرام کی تعظیم کے ایمان افروز نظارے دیکھ کر ابراہیم باپو کے گھر والے بے حد متأثّر ہوئے، ان کے بھائیوں نے چہرہ داڑھی شریف کی سنّت سے آراستہ کرنے کا عزم کرلیا اور رفتہ رفتہ مَدَنی ماحول سے وابستہ ہوگئے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
ابراہیم باپو نے سائنس کالج میں انٹر تک تعلیم حاصل کی اور پھر حالات کے پیش نظر ان کا تعلیمی سلسلہ موقوف ہوگیا، آج ان کے بعض کلاس فیلوز اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ڈاکٹر، انجینئر اور بزنس مین بن چکے ہیں، بعض دوست ملک سے باہر ہیں، جب کبھی ان کی دوستوں سے ملاقات ہوتی ہے تو انہیں مختلف دنیاوی افکار میں گرفتار دیکھ کر ربِّ کریم کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے دعوتِ اسلامی کا مشکبار مَدَنی ماحول عطا فرماکر دنیاوی افکار سے نجات اور قلبی سکون سے مالامال فرمایا، کَرَم بالائے کَرَم یہ کہ انہیں میٹھے میٹھےمرشد امیراہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے ساتھ حَرَمَین طیّبَیْن کی باادَب حاضِری بھی نصیب ہوچکی ہے ۔ بعض دوست پریشانیوں سے نجات پانے کے لئے انہیں دعاؤں کی درخواست پیش کرتے رہتے ہیں ۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰہ ان کی انفرادی کوشش سے چند ماڈرن دوست دعوتِ اسلامی کے مشکبار مَدَنی ماحول سے وابستہ ہوکر مبلغِ دعوتِ اسلامی بھی بن چکے ہیں ۔ تادمِ تحریر مجلس مالیات، مجلسِ چرم قربانی، مجلس حج و عمرہ، مجلسِ لنگرِ رَضَویہ اور مجلس تعمیرات کے نگران کی حیثیت سے مَدَنی کاموں میں مصروفِ عمل ہیں ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
ترغیب کے لئے سراپائے ترغیب بننا پڑتا ہے
ایک بادشاہ کو شہزادے سے بہت محبّت تھی، خدا کا کرنا یہ ہوا کہ شہزادہ شدید بیمار ہوگیا، بادشاہ نے طبیبوں کو بلایا اور شہزادے کے تندرست نہ ہونے کی صورت میں سخت سزا دینے کا وعدہ کرلیا ۔ طبیبوں (ڈاکٹروں) نے اتفاقِ رائے سے یہ علاج تجویز کیا کہ شہزادہ گوشت کھانا چھوڑ دے ۔ شہزادے نے انکار کردیا اور کہا : مجھے مرنا گوارا ہے مگر گوشت چھوڑنا نہیں ۔ طبیبوں نے بہت سمجھایا مگر شہزادہ نہ مانا ۔ اُن میں سے ایک طبیب گیا اور غسل کرکے بارگاہِ اِلٰہی میں خوب گِڑگِڑایا، ساتھ ہی نیّت کی کہ جب تک شہزادہ گوشت نہیں کھائے گا تب تک یہ بھی نہیں کھائے گا ۔ اِس کے بعد وہ شہزادے کے پاس آیا اور گوشت نہ کھانے کا کہا، شہزادے نے حامی بھرلی اور کچھ دنوں میں وہ تندرست ہوگیا ۔ یہ دیکھ کر دیگر طبیبوں کو تعجّب ہوا تو اُنہوں نے اُس طبیب سے وجہ پوچھی جس پر اُس نے سارا ماجرا بیان کردیا ۔ (الابریز، الباب السادس فی ذکر شیخ التربیۃ، فصل فی الاشیاخ الذین ورثھم الشیخ عبد العزیز الدباغ، ۲ / ۱۶۹)
مَدَنی ماحول سے وابستہ ہوجائیے
اے عاشقانِ رسول! آپ نے اراکینِ مرکزی مجلسِ شورٰی دَامَتْ بَرَکَاتُھُمُ العَالِیَہ کی مَدَنی بہاریں مُطالَعہ کیں، یقیناً آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اِن حضرات کی پچھلی زندگی اور اب کی زندگی میں زمین آسمان کا فرق ہے، اور ایسا کیوں نہ ہوتا کہ یہ سب شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُھُمُ العَالِیَہ کا فیضانِ نظر تھا جس نے اِن حضرات کو گناہوں کی سرزمین سے اُٹھا کر نیکی کے آسمان کی مَدَنی کہکشاں بنادیا ۔ مَدَنی مشورہ ہے کہ اگر آپ اب تک کسی جامع شرائط پیر صاحب کے مرید نہیں ہیں تو امیرِ اَہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُھُمُ العَالِیَہ کے مرید ہوجائیے! آپ دَامَتْ بَرَکَاتُھُمُ العَالِیَہ سردارِ اَولیا، حضور سیّدی غوثِ اَعظم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم کا مرید کرتے اور سلسلۂ عالیہ قادِریّہ رَضَویّہ عطّاریّہ میں داخل فرماتے ہیں، اور غوثِ اَعظم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم کا اِرشادِ عالیشان ہے : میرا قیامت تک آنے والا کوئی مرید بغیر توبہ کئے نہیں مرے گا ۔ (بھجۃ الاسرار، ص۱۹۱) تو آئیے! گناہوں، فُضُولیات اور بے مقصد کاموں میں ضائع ہونے والی زندگی کو چھوڑ کر نیکی کی دعوت، تحصیلِ علم دین، فکرِ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع