30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
امیرِقافلہ بناکر اِطاعتِ امیر کا ایسا عملی درس عطافرمایا جس سے اِطاعتِ امیر کی اَہمیت ان کے دل میں بھی جاگُزِیں ہوگئی ۔ تادمِ تحریرمجلس وُکَلاء اور عطاری ریجن کے نگران کی حیثیت سے اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
ان کے والد صاحب کا بیان ہے کہ اللہ پاک کا شکر ہے کہ جس نے میرے بیٹے یعفور عطاری کو دامنِ عطار اور دعوتِ اسلامی کامہکا مہکا مشکبار مَدَنی ماحول عطافرمایا، جس کی بَرَکتسے انہیں سنّتِ رسول کی خدمت کرنے اور مَدَنی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لینے کا ایسا جذبہ ملا کہ ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع والے دن لوگوں کو اجتماع میں شرکت کی دعوت دینا اور وقت سے پہلے ہی اپنی سائیکل پر سوار ہوکر اجتماع گاہ پہنچ جانا، وہاں دریاں بچھانا، سنّتوں بھرابیان کرنا اور حاضرین کو مَدَنی ماحول سے وابستہ ہونے کی خوب ترغیب دلانا ان کا معمول بن گیا ۔ اللہ کریم کے فضل وکَرَم سے شروع ہی سے ان کے اخلاق وکردار بہتر تھے مگر دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہونے کے بعد تو ان کے اخلاق وکردار کو مدینے کے چار چاند لگ گئے، یوں تو مَدَنی ماحول سے پہلے بھی اپنی والدہ اور میرا ادب کرتے تھے مگر ماحول میں آنے کے بعد ادب و احترام میں مزید اضافہ ہوگیا، ایک مرتبہ ان کی والدہ بیمار ہوگئیں تو بے حد پریشان ہوگئے اور اپنی والدہ کی دل وجان سے خدمت کر نے کی سعادت حاصل کی ۔
ایک دودھ فروش اسلامی بھائی کا بیان ہے کہ رُکنِ شوری حاجی یعفور عطاری مَدَّ ظِلُّہُ الْعَالِیمیری دکان پردودھ لینے تشریف لایا کرتے تھے، ان کا اخلاق بہت اچھا تھا جب بھی آتے سلام کرتے اور موقع دیکھ کر مجھ پر اِنفِرادی کوشش کرتے، قبر و آخرت کی تیاری اور دعوتِ ا سلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہونے کی مَدَنی فکر دیتے، مجھے ان کا اندازِ گفتگو بہت اچّھا لگتا، ان کی باتوں کو بغور سنتا مگر عملی طور پر ان کے عطا کردہ مَدَنی پھولوں سے اپنے دل کے گلدستے کو سجانے سے محروم رہتا، مگر قربان جائیے ان کے نیکی کی دعوت کے جذبے پر! انہوں نے نیکی کی دعوت دینا ترک نہیں فرمایا، آخر ان کی اِنفِرادی کوشش رنگ لائی اور دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماعات میں شریک ہونا میرا معمول بن گیا، پُرسوز بیانات اور رقّت انگیز دعا کا دل پرایسا اثر ہوا کہ دل پر چھائے غفلت کے پردے چاک ہونے لگے، مقصد ِحیات کا پتا چلا اور قبر وآخِرت کو بہتر بنانے اور اللہ پاک اور اس کے پیارے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ کی رِضا پانے اور جہنّم کے عذاب سے بچنے کے جذبے کے تحت دامنِ عطار سے وابستہ ہوگیا، سنّتوں پر عمل کرنا شروع کردیا، عمامہ شریف سجالیا اور دُکان پر مَدَنی چینل دیکھنا دکھانا معمول بنالیا ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
(29) حاجی ابو الحسن سیّد محمد ابراہیم عطاری
مبلغِ دعوتِ اسلامی ورُکنِ شورٰی، حاجی ابو الحسن سیّد محمد ابراہیم عطاریمَدَّ ظِلُّہُ الْعَالِی دعوتِ اِسلامی کے مشکبار مَدَنی ماحول سے وابستہ ہونے سے قبل عام نوجوانوں کی طرح دنیاوی تعلیم کے حصول میں مصروف تھے، برے اخلاق وکردار والے لڑکوں سے دوستی تھی جس سے ان کے اخلاق وکردار بھی متأثّر ہورہے تھے، والد صاحب کا انتقال ہوچکا تھا اس لئے بڑے بھائی اور چاچا کی کفالت میں تھے، ان کے والد صاحب نے ایک وسیع کاروبار چھوڑا تھا، بڑے بھائی اپنی مصروفیات کی وجہ سے انہیں وقت نہیں دے پاتے تھے، کوئی باز پرس کرنے والا نہ تھا، شاید اسی وجہ سے برے دوستوں کی گرفت ان پر مضبوط ہوتی چلی گئی اور ان کا زیادہ وقت آوارہ دوستوں کے ساتھ ضائع ہونے لگا، ایسے ناگفتہ بہ حالات میں انہیں دعوتِ اسلامی نے سہاراد یا، برے دوستوں کے چُنگل سے آزادکیا اورمقصدِ حیات سے روشناس کیا ۔ مَدَنی ماحول میں آنے کا سبب کچھ یوں بنا کہ ایک دن محلے میں دوستوں کے ساتھ کھیل کود میں مشغول تھے کہ ایک مبلغِ دعوتِ اسلامی ان کے پاس تشریف لائے اور اَحسن انداز میں ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع کی دعوت پیش کی، چونکہ ان کے گھر میں نہایت عقیدت وشوق سےمحافلِ میلاد شریف اورگیارہویں شریف کا انعقاد ہوتا تھا اس لئے انہیں نعت شریف سننے کا شوق تھا چنانچہ انہوں نے پوچھا : کیا وہاں نعت شریف بھی پڑھی جاتی ہے؟ مبلغ دعوت ِاسلامی نے کہا : جی ہاں، یہ سن کر انہوں نے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کرنے کی نیّت کرلی اور توفیقِ الٰہی سے دعوتِ اسلامی کے سنّتوں بھرے اجتماع میں پہنچ گئے، سنّتوں بھرے اجتماع کے رُوح پرور مناظر اور عام ملاقات میں اسلامی بھائیوں پر امیراہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی شفقتوں کی بارش دیکھ کر اس قدر متأثّر ہوئے کہ برے دوستوں سے کنارا کشی اختیار کرنے کے بعد گناہوں سے توبہ کر کےمَدَنی ماحول سے وابستہ ہوگئے ۔
دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول میں داخل ہونے کے بعد امیراہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ سے ملاقات کرنے کا شوق ان کے دل میں مچلنے لگا، چنانچہ ایک دن انہوں نے اس کا اظہار اپنے خیرخواہ اسلامی بھائی کے سامنے کیا، اسلامی بھائی نے شفقت فرمائی اور انہیں اپنے ہمراہ زیارت وملاقاتِ امیراہلِ سنّت کے لئے نور مسجد(کاغذی بازار ) اولڈ سٹی لے کر حاضر ہو گئےجہاں انہوں نے امیراہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی اِقتِدا میں نمازِ ظہر ادا کرنے کی سعادت حاصل کی اور نماز کے بعد نہایت قریب سےآپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی زیارت کی اورملاقات کا شرف بھی پایا، آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا مسکراتا روشن چہرہ اور شفقتیں دیکھ کر ان کا دل شاد ہوگیا، آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے ہمراہ کھانے کی سعادت بھی حصّے میں آئی، آپ کے حکمت بھرے مَدَنی پھول دل کے گلدستے میں سجانے کا موقع ملا، کھانے کے دوران ایک اسلامی بھائی کے ہاتھ پر مہندی لگی ہوئی دیکھ کرآپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے نیکی کی دعوت دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : مہندی لگانا عورتوں کاکام ہے، مردوں کو ہاتھوں میں مہندی لگانا حرام اور جہنّم میں لے جانے والا کام ہے ۔ الغرض! ایک ولیٔ کامل کی چند گھڑی کی صحبت سے ان کا دل
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع