30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مرکزالاولیاء سطح پر 4 رُکنی نگران مجلس بنائی گئی تو تقریباً 3سال نگرانِ مجلس کی رُکنیت کی سعادت سے مشرف رہے، پھر جب پاک ہجویری کابینہ بنی تو اس کی رُکنیت حصّے میں آگئی ۔ شوّالُ المکرّم 1433ھ میں مرکزی مجلسِ شورٰی میں شمولیت کی سعادت مل گئی ۔ تادمِ تحریر مجلس مَدَنی انعامات، نمازی بناؤ تحریک اور مجلس مَدَنی درس کی ذِمّہ داری سرانجام دے رہے ہیں ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
(28) حاجی ابو منصور یعفور رضا عطاری
مبلغِ دعوتِ اسلامی و رُکنِ مرکزی مجلسِ شورٰی حاجی ابو منصور یعفور رضا عطاری مَدَّ ظِلُّہُ الْعَالِیکی مَدَنی بہار کا خلاصہ ہے کہ یوں تو شروع ہی سے مرکزالاولیاء (لاہور ) کے ایک مذہبی گھرانے سے ان کا تعلق تھا، جس کی وجہ سے مَدَنی ماحول سے منسلک ہونے سے قبل بھی نمازیں پڑھنے کا معمول تھا مگر سنّتوں پر عمل کرنے سے محروم تھے، ایک کالج کے اسٹوڈنٹ تھے، زندگی میں مَدَنی بہار کا ظہور کچھ یوں ہوا کہ ان کے علاقے کی مسجد میں ایک عاشقِ رسول اسلامی بھائی درسِ فیضانِ سنّت دینے تشریف لاتے تھے، جس میں انہیں بھی شرکت کی سعادت نصیب ہوتی، درس کے پُرتاثیر الفاظ سن کر جہاں عمل کا ذِہْن بنتا وہاں قبر وآخرت سنوارنے کی مَدَنی سوچ ان کے دل ودماغ میں گردش کرتی، ایک دفعہ حسبِ عادت کالج کا یونیفارم پہنے نماز پڑھنے مسجد میں حاضر ہوئے تو انہیں درس دینے والے مبلغ اسلامی بھائی نظر نہ آئے، پوچھنے پرپتا چلا کہ آج وہ تشریف نہیں لائیں گے، چنانچہ انہوں نے ہمّت کرکے زندگی میں پہلی بار درسِ فیضانِ سنّت دینے کی سعادت حاصل کی، یوں دعوتِ اسلامی کی جانب پہلا قدم اٹھا، اس کے بعد ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماعات میں شرکت کرنا ان کا معمول بن گیا ۔ مرکزالاولیاء (لاہور) میں امیرِاہلِ سنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی زیارت اور آپ کے ساتھ افطار کرنے کا شرف ملا، دورانِ افطار آپ کا سنّتوں پر عمل دیکھ کر بے حد متأثّر ہوئے اور ان کے دل میں محبّتِ عطار کی شمع فروزاں ہوگئی ۔
امیرِ اہلِ سنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے ہمرا ہ انہیں داتا صاحب رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کے دربار پر حاضر ی دینے کا بھی شرف ملا، امیرِاہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے داتاصاحب کی خدمت میں عاجزانہ سلام پیش کرنے، قبرِ منوّر سے کچھ فاصلے پر کھڑے ہوکر تلاوتِ قرآن پاک کرکے ایصال ثواب کرنے اور پھر داتا صاحب کے وسیلے سے بارگاہِ خداوندی میں معروضات پیش کرنے کے منفرد انداز نے اس قدر متأثّر کیا کہ اسی وقت انہوں نے دل سے امیراہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کو اپنا راہ بَر و راہ نُما مان کر زندگی کی بقیہ سانسیں دعوتِ اسلامی کے مشکبار مَدَنی ماحول میں بسر کرنے کا عزم کرلیا ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
غالباً 1989ء میں امیرِاَہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ پنجاب تشریف لے گئے، اوکاڑہ کی سرزمین پر ہونے والے سنّتوں بھرے اجتماع میں آپ کا سنّتوں بھرا بیان تھا، اس کے بعد آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کو مرکزالاولیاء (لاہور) تشریف لانا تھا، چنانچہ مرکزالاولیاء سے امیر اہلِ سنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی خدمت میں حاضری اور پھر اوکاڑہ سے مرکز الاولیاء لاہور سفر کرنے کی سعادت ان کے حصّے میں آئی، اس دوران امیراہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی شفقتوں بھرا واقعہ کچھ یوں بیان کرتے ہیں کہ جب یہ مرکز الاولیاء لاہور سے اوکاڑہ پہنچے اور سنّتوں بھرے اجتماع کے بعد خدمتِ امیراہلِ سنّت میں جانے لگے تو ان کا پاؤں کانچ کے ٹکڑے سے زخمی ہوگیا اور اس سے خون بہنے لگا جسے دیکھ کرامیراہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ بے قرار ہوگئے اور فوراًپاؤں پر رومال باندھنے کا حکم ارشاد فرمایا، اس طرح رُخِ امیر اہلِ سنّت پر بے قراری کے آثار دیکھ کر محبّت وعقیدت میں مزید اضافہ ہوگیا، کَرَم بالائے کَرَم یہ کہ اوکاڑہ سے مرکزالاولیاء کے سفر کے دوران امیراہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی خصوصی شفقتوں اور علم وحکمت کے مَدَنی پھولوں سے فیض یاب ہونے کا شرف ملا ۔
ان کی دِلی خواہش تھی کہ امیرِاہلِ سنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ ان کے غریب خانے پر بھی قدم رنجہ فرمائیں، جب انہوں نے گھروالوں کے سامنے اپنی خواہش کا اظہار کیا تو وہ بھی بہت خوش ہوئے، چنانچہ والد صاحب اور تین بھائیوں کے ساتھ امیر اہلِ سنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنی دِلی تمنّا کا اظہار کیا، آپ نے دل جوئی کرتے ہوئے ان کی درخواست قبول فرمالی اور مقررہ وقت پر چند اسلامی بھائیوں کے ہمراہ ان کے گھر تشریف لے گئے، اس دوران امیراہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نےجہاں حکمت بھرے مَدَنی پھولوں سے نوازا، وہاں انہیں اور ان کے والد صاحب ، بھائیوں اور دیگر عزیزوں کو سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ میں داخل فرماکر غوثِ اعظم کے غلاموں کی فہرست میں شامل فرمادیا ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ فیضانِ عطار کا ایسا ظہور ہوا کہ نہ صرف ان کے تمام بھائی دعوتِ اسلامی سے وابستہ ہوگئے بلکہ ان کا گھر بھی سنّتِ رسول کے خوشنما پھولوں سے مہک اُٹھا ۔ ان کی زندگی میں بھی عمل کی بہار آگئی، فرائض وواجبات کے ساتھ ساتھ تہجّد کی نماز ادا کرنا ان کا معمول بن گیا ۔
مُرشِد کے ہمراہ مَدَنی قافِلے میں سَفَر
مَدَنی ماحول کی بَرَکت سے وقتاً فوقتاً زیارت ِامیرِاہلِ سنّت سے مشرّف ہونے کے ساتھ ساتھ آپ کے مُبارَک معمولات کوقریب سے دیکھنے کا موقع ملا ۔ انہوں نے امیراہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی ہر ہر ادا کو سنّتِ مُصطفٰے کی عملی تصویر پاپا ۔ غالباً 1990ء میں جب امیراہلِ سنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے دریا ئے فیض سے اپنا خالی کشکول بھرنے بابُ المدینہ کراچی حاضِر ہوئے تو آپ کے ہمراہ مَدَنی قافلے میں سفر کرنے کی سعادت حصّے میں آئی، آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے مَدَنی قافلے میں امیرِقافلہ بننے کی بجائے دوسرے اسلامی بھائی کو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع