30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
تھوڑی دیر بعد اعلان ہوا کہ امیرِاہلِ سنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ سحری فرمائیں گے، غیر رمضان میں سحری کا سنا تو بڑے حیران ہوئے، ایک اسلامی بھائی نے یہ کہہ کر ان کی حیرانی کو دور کردیا کہ ا میرِاہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ بکثرت نفلی روزے رکھتے ہیں ۔ یہ سن کر دل میں محبّتِ امیر اہلِ سنّت مزید گھر کر گئی ۔ جب سحری کا وقت ہوا تو دستر خوان بچھایا گیا، امیرِاہلِ سنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے سحری کے کھانے میں چاول تھے، ایک نمک دانی بھی تھی جس میں نمک ختم ہوچکا تھا، جب آپ کو نمک کی حاجت ہوئی تو ایک اسلامی بھائی نے خدمت میں نمک پیش کردیا، آپ نے نمک لانے والے سے پہلے پوچھا : بیٹا! کیا یہ نمک آپ کا ہے؟ اس نے عرض کی : نہیں، آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے نمک لینے سے ہاتھ روک لیا اور نمک واپس کردیا، آپ کے تقوی کا یہ نظارہ دیکھ کر ذِہْن میں یہ خیال گردش کرنے لگاکہ آپ کس قدر احتیاط فرماتے ہیں! مالک کی اجازت کے بغیر ذرا سا نمک لینا گوارا نہیں فرمایا تو آپ کے خوفِ خدا اور عشقِ مصطفٰے کا کیا عالَم ہوگا!! فکرِ آخرت کا کیا عالم ہوگا!! باطن کس قدر روشن اور چمکد ار ہوگا!! امیراہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی احتیاط دیکھ کر بے ساختہ دل آپ کے اخلاص ووِلایت کی گواہی دینے لگا اور یہ مَدَنی ذِہْن بن گیا کہ یہی وہ ہستی ہیں جن کا دامن تھام کر قبر وآخرت کی اچھے طریقے سے تیاری کی جاسکتی ہے، لہٰذا سیرتِ امیر اہلِ سنّت سے اس قدر متأثّر ہوئے کہ انہوں نے زندگی کی بقیہ سانسوں کو غنیمت جانتے ہوئے کھیل کود کو خیرباد کہہ دیا، نیکیوں بھری زندگی بسر کرنے کے عظیم جذبے کے تحت دعوتِ اسلامی کے سنّتوں بھرے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہوگئے اور امیر اہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کو اپنا آئیڈیل بنالیا ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
ایک ولیٔ کامل سے نسبت کیا قائم ہوئی ان کی زندگی میں سنّتوں کی بہار آنے لگی، مَدَنی کام کرنے کا شوق دل میں پیدا ہونے لگا، انہوں نے مسجد درس کے ذریعے مَدَنی کاموں کا آغاز کیا اور تین دن کے اندر دوسرے اسلامی بھائی کو درس دینے کے لئے تیار کرلیا، اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ جلد ہی انہیں ذیلی حلقے کی ذمّہ داری مل گئی، فیضانِ عطار سے نیکی کی دعوت کی ایسی دھوم مچانے کی سعادت نصیب ہوئی کہ کچھ ہی عرصے میں قُرب و جوار کی 35 مساجد میں درسِ فیضانِ سنّت جاری کروادیا، کَرَم بالائے کَرَم یہ کہ گھر میں مَدَنی ماحول بنتا چلا گیا اور ان کے گھراور خاندان کے دیگر افراد سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ عطاریہ میں داخل ہوگئے ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ دعوتِ اسلامی کے مشکبار مَدَنی ماحول کی بَرَکت سے دن بدن ان کے دل میں نیکی کی دعوت کا جذبہ بڑھتا دیکھ کر ان کے والدین نے نہ صرف انہیں بلکہ ان کے ایک چھوٹے بھائی کو فِی سبیلِ اللہ دین کی خدمت کرنے کے لئے دعوتِ اسلامی کے سپرد کردیا ۔ خوش قسمتی سے پھر وہ وقت بھی آیا کہ قُربِ عطار اور ملفوظاتِ عطار کی بَرَکتیں حاصل کرنے لگے، جس کی بَرَکت سے مصائب و آلام کا مقابلہ کرنے، مَدَنی قافلوں میں سفر کرنے اور مزید بہتر سے بہتر انداز میں سنّتوں کا پیغام عام کرنے کا جذبہ دل میں پیدا ہوتا چلا گیا ۔ تادمِ تحریر مجلس ذرائع آمدو رفت (ٹرانسپورٹرز) ، خصوصی مجلس فیضانِ مُرشِد اور ضیائی ریجن کے نگران کی حیثیت سے سنّتوں کی خدمت میں مصروف ہیں ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
(26) ابو القافلہ سیّد محمّد لقمان عطاری
مبلغِ دعوتِ اسلامی و رُکنِ شورٰی، ابو القافلہ سیّد محمد لقمان عطاری مَدَّ ظِلُّہُ الْعَالِی کے والد حکیم سیّد مہربان علی شاہ بخاریرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ ایک نیک اِنسان اور ماہر طبیب تھے، انہوں نے کئی حج ادا کئے تھے ۔ لقمان باپو دعوتِ اسلامی کے مشکبار مَدَنی ماحول کی پاکیزہ فضاؤں میں آنے سے قبل عام نوجوانوں کی طرح ماڈرن اور کرکٹ کے شائق نوجوان تھے ۔ ان کی مَدَنی بہار کچھ یوں ہے کہ جب ان کے والدِ محترم کا وِصال ہوا تو ان کوبڑا صدمہ ہوا، اسی دوران علاقے کے اسلامی بھائیوں نے ان پر انفرادی کوشش کا سلسلہ شروع کردیا، جس کی بَرَکت سے یہ مَدَنی ماحول کے قریب ہو کر فیضانِ دعوتِ اسلامی سے فیض یاب ہونے لگے، مزید جب شیخِ طریقت، امیرِاہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے قُرب کی بَرَکتیں پانے میں کامیاب ہوئے تو آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے اَخلاق وکردار دیکھ کر ایسے متأثّر ہوئے کہ انہوں نے دیدارِ امیر اہلِ سنّت اور دعوتِ اسلامی کے مَدَنی کاموں کو حرزِ جاں بنالیا، مَدَنی مرکز کے حکم پر لَبَّیْک کہتے ہوئے ایسے مَدَنی کاموں میں مصروف ہوئے کہ تیزی کے ساتھ ترقّی کے زینے طے کرتے چلے گئے، مَدَنی مرکز کی اِطاعت اور شیخِ طریقت کی نگاہِ کرم سے 2000ء میں رُکنِ شورٰی کے عظیم منصب پر فائز ہوگئے ۔
دعوتِ اسلامی سے وابستہ ہونے کے بعد لقمان باپو کے قلب میں سنّتِ رسول سے ایسی محبّت پیدا ہوئی کہ انہوں نے داڑھی شریف سجانے کا ارادہ کرلیا، فیشن پرستی سے تعلق توڑ لیا اور اپنی آخرت کے لئے نیکیوں کا ذخیرہ جمع کرنے میں مشغول ہوگئے، ’’ملٹی نیشنل کمپنی‘‘ میں یہ پُرکشش تنخواہ پر ملازمت کرتے تھے، جس میں پینٹ شرٹ پہننا ضروری تھا، جس کی وجہ سے اکثر بے چین و پریشان رہا کرتے تھے، مزید جب ان کا چہرہ سنّتِ رَحمتِ عالمیان سے سجا تو کمپنی والوں نے ایک دن انہیں بلایا اور ’’سنّتِ رسول یعنی داڑھی مبارک مونڈنے کا حکم دیا‘‘ مگر یہ رِضا مند نہ ہوئے بالآخر جب کئی دن گزر گئے اور انہوں نے داڑھی شریف نہ منڈوائی تو انہیں سنّت یا ملازمت میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کے لئے کہا گیا ، تو انہوں نے ایک لمحہ سوچے بغیر آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ کی سنّت کا انتخاب کیا اور انتہائی پُرکشش ملازمت ٹھکرادی ۔
لقمان باپو مجلسِ مَدَنی قافلہ کے نگران بننے سے پہلے ہی اکثر مَدَنی قافلے کے مسافر رہا کرتے تھے اور نگران بننے کے بعد تو مَدَنی قافلے کی دُھن ایسی سر پر سوار ہوئی کہ مَدَنی قافلوں کی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع