30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کیا مُعامَلہ فرمایا؟ اُنہوں نے جواب دیا کہ اللہ کریم نےمجھ پر رَحم فرمایا، میری مغفرت فرمادی اور مجھے جنّت میں داخل فرمایا ۔ پوچھا گیا : کس عمل کے سبب؟ جواب دیا : جب بارگاہِ خداوندی میں حاضر ہوا تو اللہ پاک نے فرشتوں سے میرے گناہوں اور میرے پڑھے گئے دُرود کا حساب لگانے کا حکم دیا، جب حساب لگایا گیا تو میرے دُرود میرے گناہوں سے زیادہ نکلے تو اللہ پاک نے اِرشاد فرمایا : اے میرے فرشتو : اس کی قدرومنزلت تمہارے لئےواضح ہوگئی ہے، لہٰذا اس سے مزید حساب مت لو !اور اِسے جنّت میں لے جاؤ ۔ ([1])
دُرود اُن پہ بھیجو سلام اُن پہ بھیجو یہی مؤمنوں سے خدا چاہتا ہے
اگر کوئی اپنا بھلا چاہتا ہے اُسے چاہے جس کو خدا چاہتا ہے
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
(1) مرحوم نگران شورٰی محمّد مشتاق عطّاری
ثنا خوانِ رسولِ مقبول، بُلبلِ روضۂ رسول، مَدّاحِ صحابہ وآلِ بتول، گلزارِ عطاّؔر کے مہکتے پھول، مرحوم نگرانِ شورٰی و مبلغِ دعوتِ اِسلامی، الحاج القاری ابو عبید محمدمشتاق احمد عطاّریعلَیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہ البَارِی کی وِلادت غالِباً بروز اتوار ١٨ رَمَضانُ المبارَک ١٣٨٦ھ (مطابِق67-1-1) کوبَنُّوں (خیبر پختونخواہ، پاکستان) میں ہوئی، کچھ عرصہ بعد سردارآباد (فیصل آباد، پاکستان) میں بھی قِیام رہا اور بعد میں بابُ المدینہ (کراچی) میں مُستَقِل بُودوباش اِختیار کرلی ۔ ’’مدینہ مسجد‘‘ (اورنگی ٹاؤن بابُ المدینہ کراچی) میں کئی سال تک اِمامت فرماتے رہے ۔ 1995ء تا وفات جامِع مسجد کنزُالایمان (بابری چوک بابُ المدینہ کراچی) میں امامت وخِطابت کے مَنصب پر فائِز رہے ۔ قرآنِ پاک کے 8پارے حِفظ تھے، بَہُت اچّھے قاری تھے، درسِ نظامی کے چار دَرَجے پڑھے ہوئے تھے مگر دینی مَعلومات کسی اچّھے خاصے عالِم سے کم نہیں تھیں، اکاؤنٹ ڈِپارٹمنٹ (Account Department) میں سینئرآڈیٹر (Senior Auditor) کی حیثیت سے سالہا سال گوَرنمِنٹ جاب رہی، جامعۃ المدینہ (سبزمارکیٹ، بابُ المدینہ کراچی) میں انگلِش کا دَرَجہ (Class) بھی پڑھاتے رہے، اَلْحَمْدُ لِلّٰہ! اُنہیں چار مرتبہ حج و زیارتِ مدینہ منوَّرہ کی سعادتیں نصیب ہوئیں ۔
طوافِ خانۂ کعبہ کا تم مجھ کو شرف دےدو
پیوں مکّے میں آکر آبِِ زَم زَم یا رسولَ اللہ([2])
مَدَنی بَہَار
دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول میں تشریف لانے سے قَبل بھی حاجی مشتاق عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالرَّزّاق کا مذہبی ذِہن تھا، باریش نوجوان اور خوش اِلحان نعت خوان تھے ۔ دعوتِ اسلامی میں اپنی شُمولیت کا واقِعہ اُنہوں نےشیخِ طریقت، امیرِاہل سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کو کچھ اِس طرح بتایا کہ’’میں پہلی بارہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتِماع میں حاضِری کیلئے دعوتِ اسلامی کے اوَّلین مَدَنی مرکز جامع مسجد گلزارِ حبیب (گلستانِ اوکاڑوی سولجر بازارباب المدینہ کراچی) آیا، اجتِماع کے بعدسب لوگ مُنْتَشِر ہونے لگے تومیں بھی چل پڑا، اتنے میں ایک بار یش باعمامہ اسلامی بھائی نے خود آگے بڑھ کر مجھ سے مُصافَحہ کیا، اُن کے ملنے کا انداز مجھے بَہُت بھلا لگا ۔ بڑی مَحَبَّت کے ساتھ انفِرادی کوشِش کرتے ہوئے اُنہوں نے آپ سے میری ملاقات کروائی ۔ میں بَہُت مُتاثّر ہوا اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابَستہ ہو گیا ۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰہ! حاجی محمد مشتاق عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللّٰہِ الرَّزَّاق کو اللہ کریم نے آواز بَہُت ہی سُریلی بخشی تھی، بڑے بڑے اجتِماعات ِذِکر ونعت میں آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ کی نعتیں سنانے اور عاشِقانِ رسول کو تڑپانے لگے، مبلغ بھی بَہُت اچّھے تھے، مَدَنی کام کاجذبہ بھی خوب تھا ۔ اللہ پاک نے اُن کو بَہُت ترقّی عطا فرمائی، جنوری2000ء میں شہربھر کے نگرانوں کی منظوری سے بابُ المدینہ (کراچی) کے نگران بنے اور اِسی بَرَس اکتوبر میں دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے نگران کے منصب پرفائز ہو گئے ۔ تقریباً 2 بَرَس یہ ذِمّہ داری نبھانے اور سنّتوں کی دھوم مچانے کے بعد 5 نومبر 2002 کو آپ رحمۃ اللہ تعالی علیہ اِس دارِ فانی سے کُوچ کرگئے ۔ اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
حاجی محمد مشتاق عطاری علَیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہ البَارِی کی وفات سے چند ماہ قَبل شیخِ طریقت، امیرِاہل سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کوکسی اسلامی بھائی نے ایک مکتوب اِرسال کیاتھا، اُس میں اُنہوں نے بَقسم اپنا واقِعہ کچھ یوں تحریر کیا تھا : میں نے خواب میں اپنے آپ کو سنہری جالیوں کے رُوبروپایا ۔ جالی مبارک میں بنے ہوئے تین سوراخوں میں سے ایک سوراخ میں جب جھانکا تو ایک دِلرُبا منظر نظر آیا ۔ کیا دیکھتا ہوں کہ مکی مَدَنی آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ تشریف فرما ہیں اور ساتھ ہی شیخینِ کریمین یعنی حضرتِ سیِّدُنا ابوبکرصِدّیق اور حضرتِ سیِّدُناعُمرفاروقِ اعظم رَضِی اللّٰہ تَعالٰی عَنْہُمَا بھی حاضِرِ خدمت ہیں ۔ اِتنے میں حاجی محمد مشتاق عطاّری علَیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہ البَارِی بارگا ہِ رسالت میں حاضِر ہوئے، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ نے اُنہیں سینے سے لگایا اور کچھ ارشاد
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع