30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بھی ہوش نہ رہتا جس کی وجہ سے دن بدن جسم کمزور ہوتا جارہا تھا، ٹیم کے بہترین کھلاڑیوں میں ان کا شمار ہوتا تھا، کھیل کے میدان میں اچھی کارکردگی دکھا کر ناظرین سے داد پانا ان کا شوق تھا، بہت سی ٹرافیز اور تمغے حاصل کرچکے تھے ۔ مقصدِ حیات کو فراموش کرکے کھیل کے میدان میں نام کمانا ہی ان کی زندگی کا مقصد بن چکا تھا، افسوس! اسی طرح زندگی کے شب وروز بسر ہورہے تھے ۔
ایک دن حسبِ عادت کھیل سے تھک ہار کر جب گھر پہنچےتو دروازے پردستک ہوئی، جاکر دیکھا تو سامنے ایک کلاس فیلو ان کے منتظر کھڑےتھے، سلام ومصافحہ کے بعد دوست نے خیریت معلوم کی اور انفرادی کوشش کرتے ہوئے ان سے کہا : دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ایک عاشقِ رسول اسلامی بھائی مسجد میں درس دیتے ہیں جس میں دلچسپ کہانیاں سناتے ہیں، آپ بھی شرکت کی نیّت کرلیجئے ۔ زندگی میں پہلی بار’’اسلامی بھائی‘‘ سنا تو انہیں بہت اچھا لگا، چونکہ انہیں کہانیاں سننے کا بے حد شوق تھا اس لئے بخوشی شرکت کی نیّت کرلی اور اگلے روز عشا کی نماز علاقے کی مسجد میں ادا کی اور درسِ فیضانِ سنّت میں شریک ہوگئے ۔ نماز کے بعد مبلغِ دعوتِ اسلامی نے اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلامُ عَلَیْکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہ کی صدائیں بلند کرتے ہوئے درسِ فیضانِ سنّت کا آغاز کیا، مبلغ کا اندازِ بیان اورشرم وحیا سے جھکی جھکی نظریں دیکھ کر متأثّر ہوئے بغیرنہ رہ سکے، فکرِ آخرت اُجاگر کرنے والی پُرتاثیر تحریر سن کر انہیں قلبی سُکون کا احساس ہوا، درس کے بعد سلام ومصافحہ کی سنّت اداکی گئی، انہوں نے بھی آگے بڑھ کر اسلامی بھائی سے سلام کیا، مبلغِ دعوتِ اسلامی نے ان پر انفرادی کوشش کرتے ہوئے باقاعدگی سے درسِ فیضانِ سنّت کی بَرَکتیں لُوٹنے کی ترغیب دلائی، انہوں نے درس میں شرکت کرنے کی نیّت کی اور گھر آگئے، مگر نجانے کیوں ان کی کیفیت بدلی ہوئی تھی، کھیل کود سے دل اُچاٹ سا ہوچکا تھا اور عشاکے وقت کا بڑی شدّت سے انتظار تھا، جب نمازِ عشا کا وقت ہوا تو انہوں نے فوراً مسجد کا رُخ کیا، نماز باجماعت ادا کی اور درسِ فیضانِ سنّت میں شرکت کی سعادت حاصل کی، مبلغ ِدعوتِ اسلامی نے درس کے بعد گلزارِطیبہ (سرگودھا) میں ہونے والے سنّتوں بھرے اجتماع کی بھرپور ترغیب دلائی جس میں امیراہلِ سنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا خصوصی بیان تھا، جب اسلامی بھائی نے آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے حُبِِّ خدا اور عشقِ مصطفٰے کے چند ایمان افروز واقعات سنائے تو انہیں بہت اچھا لگا، دل میں آپدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی زیارت کا شوق مچلنے لگا اور شدّت سے سنّتوں بھرے اجتماع کاانتظار رہنے لگا ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
دیدار امیر اَہل سُنّت
آخرِ کار انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں اور علاقے کے اسلامی بھائیوں کے ہمراہ اجتماع گاہ پہنچ گئے، وہاں کے رُوح پرور مناظر دیکھ کر بہت خوش ہوئے ، ہرطرف عماموں کی بہار تھی، لوگوں کا کثیر اِزْدِحام دیکھ کراَش اَش کر اُٹھے، پُرسوز بیان جاری تھا، حاضِرین ہمہ تن گوش ہوکر بیان سن رہے تھے، یہ بھی قریب بیٹھ کر بیان سننے لگے، ایک روشن چہرے والے مبلغ جن کے سر پر عمامے کا تاج تھا، سنّت کے مطابق سفید لباس زیبِ تن تھا اور آنکھیں حیاسے جھکی ہوئی تھیں، بڑے دل موہ لینے والے انداز میں پُرسوز بیان فرمارہے تھے، لیکن ان کا دل زیارتِ امیرِاہلِ سنّت کے لئے بے تاب تھا اورامیراہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کےبارے میں اس طرح کے تصوّرات اِن کے ذِہْن میں تھے کہ آپ ضعیفُ العمرہونگے، بڑی اورخوبصورت دستار سر پر سجا رکھی ہوگی، جب آپ آئیں گے تو فلک شگاف نعروں سے فضا گونج اٹھے گی وغیرہ وغیرہ، کچھ دیر بعد انہوں نے قریب بیٹھے ہوئے ایک عاشقِ رسول سے آہستہ سے پوچھا کہ امیر اہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کب تشریف لائیں گے؟ ا س نے کہا : جو بیان فرمارہے ہیں یہی تو امیرِاہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ ہیں، یہ سن کر ان کی آنکھیں حیرت سے کھلی رہ گئیں، چنانچہ انہوں نے ٹکٹکی باندھ کر امیراہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کو دیکھتے ہوئے بیان سنا، بیان کے بعد فضا صلوٰۃ وسلام کی صداؤں سے گونجنے لگی، اجتماعی طو پر سب نے ذِکْرُاللّٰہ کی سعادت حاصل کی، پھر دوبارہ بارگاہِ نَبَوی میں صلوٰۃ وسلام پیش کیا گیا، اس کے بعدتمام حاضِرین نے دعا کے لئے اپنے ہاتھ بارگاہ ِخداوندی میں اُٹھا دئیے، امیرِاہلِ سنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے اپنی پُرتاثیر زبان سے جب بارگاہِ الٰہی میں التجائیں کیں تو مجمع پر ایک رِقّت طاری ہوگئی، ان کےاندر بھی ایک ہلچل برپا ہوگئی، آہ و بُکا کی آوازیں بلند ہونا شروع ہوگئیں، بہت سی آنکھوں سے آنسوؤں کی برسات ہونے لگی، زندگی میں پہلی بار خوفِ خدا کا یہ منظر دیکھ کر بہت متأثّر ہوئے ۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ ان کا تعلق یوں تو شروع سے ہی ایک سُنّی گھرانے سے تھا مگر اسکول لائف میں بدمذہب دوستوں نے جو اولیائے کِرام رحمہم اللہ السلام کے بارے میں وساوِس پیدا کردئیے تھے وہ امیراہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے فیضان سے دور ہوگئے، اِسی طرح انہوں نے کتابوں میں جو اولیا کے خوفِ خدا میں رونے رُلانے کے واقعات سنے تھے اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ آج اپنی سر کی آنکھوں سے ان کی عملی تصویر دیکھ کر حیران رِہ گئے، خوفِ خدا اور عشقِ مصطفٰے کے پُر کیف مناظر دیکھ کر محبّتِ امیر اہلِ سنّت سے دل سرشار ہوگیا اور انہوں نے ملاقات کا پختہ ارادہ کرلیا، جب اعلان ہوا کہ آج رات بہارِ مدینہ مسجد میں امیراہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ عام ملاقات فرمائیں گے تو سن کران کا دل خوشی سے جھومنے لگا ۔
ملاقاتِ امیراَہل سُنّت
چنانچہ یہ ٹیم کے چند لڑکوں کو اپنے ہمراہ لے کر زیارت کی سعادت پانے کے لئے چل پڑے، پوچھتے پوچھتے بہارِمدینہ مسجد پہنچ گئے جہاں محبین ومریدین کا تانتابندھا ہواتھا، جب ملاقات کا وقت ہواتو زائرین قطار میں کھڑے ہو کر فرداًفرداً خدمتِ امیر اہلِ سنّت میں حاضر ہونے لگے، عجیب رُوحانی مناظر تھے، جنہیں دیکھ کر ان پر ایک کیفیت طاری تھی، امیراَہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ سے ملاقات کرنے کے لئے دل مچل رہا تھا، آخِر وہ مبُارَک لمحہ بھی آہی گیا جس کا انہیں شدّت سے انتظار تھا، چنانچہ امیرِاہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی خدمت میں دست بستہ حاضِر ہو کر نہایت محبّت وعقیدت سے عاجزانہ سلام عرض کیا اور دست بوسی کا شرف پایا، آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے شفقت بھری نظر فرماتے ہوئے انہیں داڑھی شریف سجانے کی ترغیب دلائی، جس کی بَرَکت سے انہوں نے ہاتھوں ہاتھ چہرہ سنّتِ رسول سے آراستہ کرنےکی نیّت کرلی، اس دوران ان پر اچانک ایسی رِقّت طاری ہوئی کہ بے ساختہ آنکھوں سے آنسوؤں کادھارابہہ نکلا، پچھلے گناہوں پر ندامت ہونے لگی اور انہوں نے دل وجان سے امیراہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کو اپنا راہ بَر و راہ نُما مان لیا ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع