30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بھائی نے امام صاحب کے سلام پھیرنے کے بعد کھڑے ہو کر بقیہ نماز کے بعد ہونے والے سنّتوں بھرے بیان کی دعوت پیش کی، جب بقیہ نماز کے بعد اسلامی بھائی نے بیان شروع کیا تو متعدّد نمازی بیان سننے کے لئے قریب جاکر بیٹھ گئے، سنّتوں بھرے بیان کے مَدَنی پھولوں سے مُزَیّن ہونے کے لئے یہ بھی شریک ہوگئے، مبلغ اسلامی بھائی نے اَحسن اندازمیں فکرِآخرت پربیان فرمایا جسے سن کر انہیں بہت اچھا لگا، درس کے اختتام پر اسلامی بھائی محبّت وپیار سے نمازیوں سے ملاقات کرکے سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کا مَدَنی ذِہْن بنانے لگے، انہوں نے بھی آگے بڑھ کر ایک اسلامی بھائی کو سلام کرنے کی سعادت حاصل کی، اسلامی بھائی نے بڑے پُر تَپاک انداز میں ان کے سلام کا جواب دیا اور سنّتوں کی خوشبوؤں سے معطّر و مُعَنْبر ہونے کے لئے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کرنے کی دعوت پیش کی، جو انہیں بہت اچھی لگی مگران دنوں میٹرک کے سالانہ امتحانات ہونے والے تھے، اس لئے انہوں نے امتحانات کی مصروفیت سے فارغ ہوکر سنّتوں بھرے اجتماع میں شریک ہونے کی نیّت کا اظہار کیا، جسے سن کر مبلغِ دعوتِ اسلامی نے بہت ہی پیارے اندازمیں انہیں سمجھا تے ہوئے کہا : یہ بتائیے کہ اگر آپ کو کہیں سے ایک بہت بڑی رقم ملنے والی ہو تو کیا آپ اس وقت بھی امتحان کی مصروفیت کا عُذر پیش کریں گے؟ مبلغِ دعوتِ اسلامی کی بات ان کی سمجھ میں آگئی کہ واقعی اگر کوئی دنیا وی مفاد ہو تو امتحانات کی مصروفیت کے باوُجود اسے حاصل کرنے کی کوشش کروں گا جبکہ نیکیوں کا خزانہ پانے میں امتحان رُکاوٹ بن رہاہے، اس مثال نے ان کے دل کے بند دریچے کھول دئیے اور انہوں نے سنّتوں بھرے اجتماع کی بہاریں لوٹنے کے لئے جانے کی نیّت کرلی، چونکہ ہفتہ وار سنّتوں بھرا اجتماع ان کے علاقے سے دور واقع جامع مسجدمحمدی حنفیہ (سوڈیوال کالونی ملتان روڈ) میں ہوتاتھا اس لئے ایک اسپیشل بس پر سوار ہوکر اسلامی بھائی اجتماع کے لئے جایا کرتے تھے، چنانچہ یہ حسبِ نیّت جمعرات کے دن بس کے کھڑے ہونے کے مقام ’’آر ۔ اے بازار‘‘ پہنچ گئے اور وہاں کسی سے بس کے بارے میں پوچھا تو انہیں بتایا گیا کہ بس تو ابھی تھوڑی دیر پہلے روانہ ہوچکی ہے، یہ سن کر انہیں بہت افسوس ہوا چونکہ جذبہ جوان تھا اور ان پر دُھن سوار تھی کہ دعوتِ اسلامی کے سنّتوں بھرے اجتماع میں ضرور شرکت کرنی ہے، مَدَنی ماحول دیکھنا ہے، لہٰذا جب جامع مسجد محمدی میں ایک نمازی اسلامی بھائی سے ان کی ملاقات ہوئی توانہوں نے دورانِ گفتگو بتایا کہ میں سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کرنے کے ارادے سے آیا تھا مگر میرے آنے سے پہلے بس اجتماع کے لئے روانہ ہو گئی، اسلامی بھائی نے ان کی بات سن کر کہا کہ میرے پاس فیضانِ سنّت ہے جوبانیٔ دعوتِ اسلامی، شیخِ طریقت، امیراہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی لکھی ہوئی ہے، آپ اسے اپنے ہمراہ لے جائیے اور اس کا بغور مطالعہ کیجئے، آپ کو ڈھیروں ڈھیر معلومات کا خزانہ ہاتھ آئے گا، چنانچہ یہ اسلامی بھائی سے فیضانِ سنّت لے کر بخوشی گھر روانہ ہوگئے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
سیرتِ عطار پڑھ کر آنکھیں اشکبار
انہوں نے گھر پہنچ کر جب مشہورِ زمانہ کتاب فیضانِ سنّت کھولی تو حیاتِ امیر اہلِ سنّت سے متعلق لکھی ہوئی تحریر پر ان کی نظر پڑی، جس میں امیراہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے اعلیٰ کردار و اخلاق، حُبِّ خد ا و عشقِ مصطفے اور تقوی وپرہیزگاری کے واقعات پڑھ کر ان پر ایسی کیفیت طاری ہوئی کہ بے ساختہ ان کی آنکھیں اشکبار ہوگئیں، الغرض! امیراہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی روشن سیرت پڑھ کر اس قدر متأثّر ہوئے کہ علمِ دین کے موتی چننے کے لئے دعوتِ اسلامی کے سنّتوں بھرے اجتماع میں جانے کاعَزْم بالْجَزْم کرلیا اور جمعرات کا شدّت سے انتظار کرنے لگے، چنانچہ آنے والی جمعرات کو بس کی روانگی کے وقت سے پہلے ہی ’’آر ۔ اے بازار‘‘ پہنچ گئے، کچھ ہی دیر کے بعد بس آگئی، انہوں نے بس میں داخل ہوکر عاشقانِ رسول اسلامی بھائیوں کو سلام کیا، جس کا محبّت بھرے انداز میں جواب سن کر انہیں ایک اپنائیت کا احساس ہوا، بس میں موجود اسلامی بھائیوں کے روشن چہرے اور ان کا اخلاق وکردار دیکھ کر دل میں دعوتِ اسلامی کی محبّت گھر کرگئی ۔
درس کا آغاز اور عمامہ کی بَہَار
جب ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع کی پُرنور فضاؤں میں داخل ہوئے تو ان کے دل پر ایک عجیب سُکون کی کیفیت طاری ہوگئی، پُرسوز بیان اور ذِکْر و دُعا سے اس قدر متأثّر ہوئے کہ انہوں نے آئندہ جمعرات بھی سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کرنے کی نیّت کرلی، چنانچہ اگلی بار جب یہ سنّتوں بھرے اجتماع میں حاضر ہوئے تو ان کی ملاقات ایک مبلغِ دعوتِ اسلامی سے کروائی گئی، اسلامی بھائی نے شفقت فرماتے ہوئے انہیں نیکی کی دعوت دینے کی ترغیب دلائی، جس کی بَرَکت سے انہوں نے ہمّت کرکے جامع مسجد محمدی (نشاط کالونی لاہور کینٹ) میں درس کا آغاز کردیا ۔ عمامہ شریف باندھنے کا شوق ہوا تو قریبی علاقے موضوع چرڑکے ایک اسلامی بھائی نے اپنا عمامہ شریف تحفۃً دیتے ہوئے ان کے سرپر باندھ دیا ۔ جلد ہی انہیں نشاط کالونی کا ذیلی نگران بنادیا گیا ۔ (اس وقت ذیلی حلقے میں 5 مساجد ہوتی تھیں) انہوں نے کئی مساجد میں درسِ فیضانِ سنّت شروع کیا اور کروایا، اس کے علاوہ ہفتہ وار اجتماع کےلئے گاڑی چلانے کی ترکیب بھی بنائی ۔ اِن مَدَنی کاموں کی بَرَکت سے کئی اسلامی بھائی مَدَنی ماحول سے وابستہ ہوئے اور کئی اسلامی بھائیوں نے چہرے پر داڑھی مُبارَک سجالی ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
مدرسۃ المدینہ بالغان میں پڑھاتے
یقیناً قرآن پاک اللہ کریم کا پاکیزہ کلام اور مکمل ضابطۂ حیات ہے، مسلمانوں کی ایک تعداد کلامِ الٰہی پڑھنا نہیں جانتی، انہیں تعلیمِ قرآن دینے کے لئے دعوتِ اسلامی کے تحت مساجد میں مدرسۃ المدینہ بالغان لگایا جاتا ہے، جہاں بے شمار خوش نصیب اسلامی بھائی قرآن پاک اور دیگر شرعی مسائل سیکھتے ہیں، اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ اسلامی بھائیوں کی شفقتوں سے انہیں بھی مدرسۃ المدینہ بالغان میں پڑھنے پڑھانے کی سعادت کچھ یوں میسّر آئی کہ صَفَرُالمُظَفّر ١٤١٣ھ مطابق اگست 1992ء میں گھروالوں نے انہیں صدر بازار کے گورنمنٹ کینٹ کالج میں داخل کروادیا ۔ کالج کے قریب ایک اسلامی بھائی کی رہائش تھی، جن سے یہ چھٹی کے بعد دُرُست مخارِج اورمدرسۃ المدینہ بالغان پڑھانے کا طریقہ سیکھتے اور جو سیکھتے اسے اپنے علاقے کی جامع مسجدمحمدی کے مدرسۃ المدینہ بالغان میں اسلامی بھائیوں کو پڑھاتے ۔ خوش قسمتی سے اِسی سال امیر اہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ مرکز الاولیاء لاہور مَدَنی مشورہ کے لئے تشریف لائے، اس مَدَنی مشورے میں نہ صرف انہیں حاضری کی سعادت ملی بلکہ سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ عطاریہ میں بھی داخل ہونے کا شرف مل گیا مگر اسلامی بھائیوں کی کثرت کی وجہ سے ملاقات سے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع