30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تَخَصُّصْ فِیْ الْفِقْہ مکمل کرنے کے بعد2003ء تا 2006ء کے اختتام تک دار الافتاء میں دینِ متین کی خدمت کا شرف پایا، تقریباً 9سال مجلسِ اجارہ اور اسی دوران 3سال مجلس مدرسۃ المدینہ اور 12ماہ المدینۃ العلمیۃ اور کچھ وقت مجلس مکتبۃ المدینہ کی ذمّہ داریاں سرانجام دینے کا موقع ملا، تادمِ تحریر مجلس اثاثہ جات، مجلس وقف املاک کےنگران کی حیثیّت سے خدمتِ دین کی سعادت حاصل کررہے ہیں ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
(22) حاجی محمّد فاروق جیلانی عطاری
مبلغِ دعوتِ اسلامی ورُکنِ شورٰی، حاجی ابو عمرمحمدفاروق جیلانی عطاری مَدَّ ظِلُّہُ الْعَالِی دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول کی پاکیزہ فضاؤں میں داخل ہونے سے قبل بُرے دوستوں کے ساتھ رہنے، فلمیں ڈرامے دیکھنے، لڑائی جھگڑے کرنے اور بے جا ضد کرنے کے عادی تھے ۔ زندگی کی انمول سانسیں فضولیات میں ضائع ہورہی تھیں، والدہ محترمہ کی خواہش تھی کہ میرا بیٹا فاروق دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہوجائے اور مدرسۃ المدینہ بالغان میں شرکت کرے ۔
غالباً 1984ء کی بات ہے، ایک دن دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے منسلک ایک اسلامی بھائی ان کی دکان پر تشریف لائے اور بڑی محبّت سے سمجھاتے ہوئے مدرسۃ المدینہ بالغان میں شرکت کا ذِہْن دیا، نجانے اسلامی بھائی کی باتوں میں ایسی کیا تاثیر تھی کہ انہوں نے شرکت کی ہامی بھرلی اور وقتِ مقرّرہ پر مسجدکی طرف چل پڑے، بھلا شیطان کب چاہتا ہے کہ کوئی راہِ جنّت کا مسافر بن جائے، چنانچہ اس نے اس طرح کے وسوسوں کے شکنجے میں جکڑنے کی کوشش کی کہ تم کہاں جارہے ہو؟ تمہارا مولویوں کے پاس کیا کام ہے؟ تم کس طرح ان کے ماحول میں اپنے آپ کو ڈھالوگے؟ وغیرہ وغیرہ ۔ آخر شیطان کا وار چل گیا اوریہ مسجد میں داخل ہونے کی بجائےگھر واپس لوٹ آئے، جب خیرخواہ اسلامی بھائی کو پتا چلا تو وہ موٹر سائیکل پر ان کے گھرپہنچ گئےاور محبّت بھرے انداز میں مدرسۃ المدینہ بالغان میں شرکت کرنے کے لئے کہا، چنانچہ یہ سوچتے ہوئے اسلامی بھائی کے ساتھ جانے کے لئے آمادہ ہوگئے کہ آج چلاجاتا ہوں کل نہیں جاؤں گا ۔ اسلامی بھائی نے انہیں موٹر سائیکل پر بٹھایا اور مسجد کی طرف چل دئیے، یوں زندگی میں پہلی بار مدرسۃ المدینہ بالغان میں شرکت کی سعادت ملی، اسلامی بھائی نے انہیں پیار سے پڑھا یا اور جب گھر جانے لگے تو بڑی محبّت سے پوچھا : فاروق بھائی! کل تشریف لائیں گے؟ اسلامی بھائی کے محبّت بھرے انداز کی وجہ سے بے ساختہ ان کی زبان سے ہاں نکل گیا، اس کے بعد مدرسۃ المدینہ بالغان میں شرکت کرنا ان کا معمول بن گیا ۔ مزید یہ کہ مَدَنی ماحول کی بَرَکت سے پچھلے گناہوں پر نادِم ہوکر توبہ کرنے کی سعادت بھی نصیب ہوگئی ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
مُرشِدکے ہاتھوں سے دستار بندی
ایک دفعہ زَم زَم نگر حیدر آباد میں چھٹی تھی، جس کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے اسلامی بھائیوں کا ایک مَدَنی قافلہ دعوتِ اسلامی کے اوّلین مرکز گلزارِ حبیب (باب المدینہ کراچی) روانہ ہوا، انفرادی کوشش کی بَرَکت سے یہ بھی مَدَنی قافلے کے مسافر بن گئے، بابُ المدینہ کراچی پہنچ کر سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی، اس اجتماع میں ان کی چپلیں گم ہوگئیں تو ایک اسلامی بھائی نے بڑی محبّت سے انہیں اپنی چپلیں پیش کردیں، جس سے بہت متأثّر ہوئے اور یوں ان کے دل میں دعوتِ اسلامی کی محبّت مزید گھر کر گئی، کَرَم بالائے کَرَم یہ کہ اسلامی بھائی کی انفرادی کوشش سے عمامہ شریف کا تاج سجانے کا ذِہْن بھی بن گیا، چنانچہ امیراہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے دستِ شفقت سے عمامہ شریف سجانے کی سعادت حاصل کی، یوں عمامہ شریف ان کے لباس کا حصّہ بن گیا ۔
امیر اہل سنّت کے ہمراہ قافلے میں سفر
ایک مرتبہ امیراہلِ سنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ سنتیں عام کرنے کے لئے پنجاب کے سفر پر روانہ ہوئے تو اسلامی بھائیوں نے انہیں بھی ساتھ چلنے کے لئے آمادہ کرلیا، اس سفر کے لئے والدہ محترمہ نے ان کا بھرپور تعاوُن فرمایا اوربخوشی اجازت عطا فرمانے کے ساتھ ساتھ انہیں مَدَنی قافلے کے خرچ کے لئے 500 روپے عطا فرمائے، زندگی میں پہلی بار مُرشد کے ساتھ مَدَنی قافلے میں سفر کی سعادت حاصل ہوئی، اس سفر میں انہوں نے آپدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے قُرب کی خوب خوب بَرَکتیں حاصل کیں، پنجاب پہنچ کر شرکائے مَدَنی قافلہ کو امیراہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے سنّتوں بھرے بیان سننے کی دعوت عام کرنے کے لئے مختلف مساجد میں روانہ کردیا گیا، جہاں انہوں نے بیان کرنے کی سعادت حاصل کی، الغرض! انہیں اس سفر میں قُربِ مُرشِد کی بَرَکتوں سے سرشار ہونے کا سنہری موقع ملا ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
جب پنجاب کے سفر سے واپس لوٹے تو علاقہ ذمّہ دار اسلامی بھائی نے انہیں مسجد درس کی ذمّہ داری سونپ دی، کچھ عرصے کے بعد اسٹیشن روڈ اور پھر کوٹ عطاری مسجد(کوٹری) میں یومِ تعطیل اعتکاف کی ذمّہ داری مل گئی، تقریباً چار سال تک یومِ تعطیل اعتکاف کی بَرَکتیں حاصل کرتے رہے، رفتہ رفتہ تنظیمی طور پر ترقّی کے زینے چڑھتے رہے، پھر انہیں زَم زَم نگر حیدر آباد کے علاقے’’سرفراز کالونی‘‘ کا نگران بنادیاگیا، اس کے بعد تحصیل اور پھر باب الاسلام سندھ سطح پر مَدَنی قافلہ مجلس کی رُکنیت کی سعادت حصّے میں آگئی، اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ باب الاسلام سندھ انتظامی کابینہ میں دادو اور بدین کے نگران کی حیثیت سے سنّتوں کی خدمت کرنے کا بھی موقع ملا، پھر پورے باب الاسلام (سندھ) میں مَدَنی قافلوں اور صوبائی مشاوَرت کی نگرانی اوروکیلِ عطار بننے کی سعادت سے مشرف ہوئے، اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ 1997ء، 2001ء اور 2002 ء میں چل مدینہ کی سعادت سے مالامال ہونے کا شرف ملا ۔ 1999ء میں امیراہلِ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع