30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حوصلہ بڑھایا اورکہا : صرف پڑھ کر تو سنانا ہے، اس میں کونسی مشکل بات ہے! انہوں نے کہا : درس کی ابتدا کس طرح کروں گا؟ دعا کس طرح مانگوں گا؟ امیرِقافلہ اسلامی بھائی نے کہا : اس سے آپ بالکل بھی نہ گھبرائیں، صرف آپ نے پڑھ کر سنانا ہے، دعا میں کردوں گا، اس طرح زندگی میں پہلی بار انہیں مَدَنی قافلے میں درسِ فیضانِ سنّت دینا کا موقع ملا، عشا کی نماز کے بعد انہوں نے درسِ فیضانِ سنّت دیا، درس سننے والوں میں رحیم یار خان کے ذمّہ دار (مرحوم) سعید عطاری بھی شریک تھے، جو بہت ہی پیارے، شفیق اور نرم طبیعت کے مالک تھے ۔ درس کے اختتام پر انہوں نے دعا کروائی اور حوصلہ افزائی کرتے ہو ئے فرمایا : آپ نے اچھا درس دیا ہے، کوشش جاری رکھیں، مزید بہتری آجائے گی، حوصلہ افزائی پر مبنی کلمات سن کر کافی حوصلہ ملا اور یوں ان کا درسِ فیضانِ سنّت دینے کا مَدَنی ذِہْن بننے لگا ۔
پِہلی بار نیکی کی دعوت دی
جب دوسری بار انہیں مَدَنی قافلے میں سفر کرنے کی سعادت حاصل ہوئی تو انہوں نے مَدَنی حلقہ میں سب سے پہلے نیکی کی دعوت یاد کرکے امیرِ قافلہ کو سنائی، جسے سن کروہ خوش ہوئے اور کہا : آپ کو نیکی کی دعوت یاد ہے، لہٰذا آج آپ نیکی کی دعوت پیش کریں گے، انہوں نے گھبراتے ہوئے کہا : حضور! میں کس طرح پہلی بار مسجد سے باہر لوگوں کے سامنے نیکی کی دعوت دو ں گا! امیرقافلہ نے کہا : آپ گھبرائیں نہیں، میں آپ کے ساتھ ہوں، اگر آپ نیکی کی دعوت کے دوران بھولیں گے تو میں سنبھال لوں گا، یہ سن کر انہیں ہمّت ہوئی اورزندگی میں پہلی بار رحیم یار خان کے شہر اقبال آباد میں انہوں نے مجمع میں کھڑے ہوکر نیکی کی دعوت پیش کرنے کی سعادت حاصل کی، نیکی کی دعوت کے دوران جب بھولنے لگے تو امیرِقافلہ نے نیکی کی دعوت دینا شروع کردی اور یہ خاموش ہوگئے ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ دوسری جگہ انہوں نے مکمل نیکی کی دعوت پیش کرنے کی سعادت حاصل کی ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
یوں آہستہ آہستہ ان پر دعوتِ اسلامی کا مَدَنی رنگ چڑھتا چلا گیا، پچھلے گناہوں پر ندامت ہونے لگی اور دل میں خوفِ خدا اور عشقِ مصطفٰے کی شمع فروزاں ہونے لگی، کَرَم بالائے کرم یہ کہ دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے اجتماعی سنّت اعتکاف میں شریک ہونے کی سعادت نصیب ہوگئی جہاں انہیں خوب خوب بَرَکتیں لوٹنے کا سنہری موقع ملا، عاشقانِ رسول کی صحبت سے ان کے دل ودماغ کامحور بدلنے لگا، زندگی کی انمول سانسوں کی قدر ومنزلت ان کے دل میں پیدا ہونے لگی اور راہِ سنّت پر گامزن ہوگئے ، مَدَنی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لینا ان کا معمول بن گیا، جوں جوں وقت گزرتا گیا ان کے دل میں نیکی کی دعوت دینے کا جذبہ پروان چڑھتا گیا، آخر وہ وقت بھی آگیا کہ انہیں ذمّہ داریاں ملنا شروع ہوگئیں اور مُرشِد کی نگاہِ فیضِ اَثَر سے مختلف تنظیمی ذمّہ داریاں سرانجام دیتے ہوئے١٢ذوالقعدہ ١٤٣٣ھ مطابق 18 اکتوبر 2012ء کو مرکزی مجلسِ شوری کی رُکن بن گئے ۔ تادمِ تحریر مجلس مَدَنی کورسز، مجلس اعتکاف، مجلس خصوصی اسلامی بھائی ، مجلس ہفتہ وار اجتماع و مدنی مذاکرہ، بڑی راتوں اور OB Van کے اجتماعات اور مجلس مدنی بہاریں کے نگران کی حیثیت سے اپنی خدمات سرانجام دینے کا شرف پارہے ہیں ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
(20) حاجی ابو بلال محمد رفیع عطاری
مبلغِ دعوتِ اسلامی و رُکنِ شورٰی، حاجی ابوبلال محمد رفیع عطاریمَدَّ ظِلُّہُ الْعَالِی کا دعوتِ اسلامی کے مشکبار مَدَنی ماحول سے منسلک ہونے سے قبل بُرے دوستوں کے ساتھ اُٹھنا بیٹھنا تھا، نیز فلمیں ڈرامے دیکھنا اور گانے باجے سننا ان کا معمول تھا ۔ گانوں کے اس قدر شوقین تھے کہ رات کو ٹیپ ریکارڈر پر گانے سنتے سنتے سوجاتے، ان کی والدہ محترمہ ٹیپ ریکارڈر بند کر تیں ۔ اسی طرح جب صبح آنکھ کھلتی تو سب سے پہلے ٹیپ ریکارڈر آن کرتے اور گانے سن کر نفس وشیطان کو خوش کرتے، روزانہ سنیما گھر جاکر ایک فلم ضرور دیکھتے اور اگر کسی دن سنیما گھر جاکر فلم نہ دیکھ پاتے تو اگلے دن دو فلمیں دیکھ کر کوٹہ پورا کرتے، دعوتِ اسلامی کے مشکبار مَدَنی ماحول سے وابستہ ہونے سے قبل بُرے کردار میں گرفتار تھے جس کی وجہ سے رشتہ دار اپنے گھروں میں ان کے داخلے کو ناپسند کرتے تھے، ان کی خزاں رسیدہ زندگی میں اچھے اخلاق وکردار کی مَدَنی بہار یوں آئی کہ ایک بار اوکاڑہ شہر میں امیرِاہلِ سنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی آمد کے حوالے سے ایک پمفلٹ ان کے ہاتھ لگ گیا، جسے دیکھ کر ان کا سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کرنے کا مَدَنی ذِہْن بن گیا اور یہ مقررہ دن طبیعت ناساز ہونے کے باوجود غوثیہ مسجد کچہری بازار میں حاضر ہوگئے، جہاں عاشقانِ رسول جمع تھے، طبیعت خراب ہونے کی وجہ سےسنّتوں بھرا بیان تو توجّہ سے سننے میں کامیاب نہ ہوسکے مگر امیرِاہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی رقّت انگیز دعا اور ذِکْرُاللّٰہ کرانا انہیں بہت پسند آیا، اس سنّتوں بھرے اجتماع میں جب امیراہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے تمام حاضِرین کو دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے 12ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماعات میں شرکت کرنے کی نیّت کی ترغیب دلائی تو انہوں نے بھی ولیٔ کامل کی دعوت پر لَبَّیْک کہتے ہوئے 12 اجتماعات میں شرکت کی نیّت کرلی ۔
1988ء میں ایک بار پھر انہوں نے امیرِاہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی اوکاڑہ شہر میں آمد کی خبر سنی، چونکہ پہلے ہی آپ کی دعا و ذِکْر سے متأثّر ہو چکے تھے لہٰذا مقرّرہ دن سنّتوں بھرے اجتماع سے فیض یاب ہونے کے لئے غوثیہ مسجد کے قریب واقع بلدیہ گراؤنڈمیں پہنچ گئے، امیرِاہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے سنّتوں بھرے بیان میں حضرتِ سیّدنا عمر بن عبد العزیز رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی سیرت کےبارے میں سن کر بہت متأثّرہوئے، الغرض! ایک ولیٔ کامل کے پُر تاثیر الفاظ نے ان کے دل میں ایک ہلچل مچادی، دورانِ بیان انہیں یوں محسوس ہورہاتھا کہ گویا امیراہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ انہیں سمجھا رہے ہوں ۔ بیان کے آخر میں جب آپ نے اپنے مخصوص انداز میں فلمیں، ڈارمے، گانے باجے چھوڑنے اور داڑھی شریف منڈوانے سے توبہ کرنے اور نمازوں کی پابندی کرنے کی نیّت کروائی توانہوں نے بھی عاشقانِِ رسول کے ہمراہ مل کر پُرجوش انداز میں اِنْ شَآءَ اللہعَزَّ وَجَلَّ کا نعرہ بلند کیا ۔ کَرَم بالائے کَرَم یہ کہ اجتماع میں شرکت کی برکت سے سلسلہ ٔعالیہ قادریہ رضویہ عطاریہ میں داخل ہونے کی سعادت حاصل ہوگئی ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع