30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
شرف ملا، اکتوبر 2007ء تا جنوری 2009ء نگرانِ پاکستان کابینہ کی علالت کے سبب پنجاب مکی کے ساتھ ساتھ بطورِ معاون نگران پاکستان کابینہ کی ذمّہ داری بھی نباہنے کی کوشش رہی، 2009ء اپریل تا جولائی مرکزی مجلسِ شوری کی طرف سے مدرسۃ المدینہ للبنین وللبنات کی ذمہ داری سونپ دی گئی، جولائی 2009ء تا دسمبر 2010ء پاک قادری کابینہ (بالائی ا وروسطی پنجاب وفاقی دار الحکومت اسلام آباد، کشمیر، خیبر پختونخواہ بشمول شمالی علاقہ جات، گلگت، بلوچستان، اور قبائلی علاقہ جات) کے نگران کی حیثیت سے دعوتِ اسلامی کے مَدَنی کاموں کی دھوم مچانے کا موقع ملا، تادمِ تحریر مُعاوِن نگرانِ مجلس بیرونِ ملک (قادری ممالک) ، مجلس دار المدینہ ویک اینڈ اسلامک اسکول(بیرون ملک) ، مجلس مدرسۃ المدینہ (بالغان) اور عطاری ممالک (یورپ) کے نگران کی حیثیت سے دین کی خدمت میں مصروف ہیں ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
(19) ابو قُمَیل محمّد فُضَیل رضا عطاری
مبلغِ دعوتِ اسلامی ورُکنِ شوریٰ، ابو قُمیل، محمد فضیل رضاعطاری مَدَّ ظِلُّہُ الْعَالِی دعوتِ اسلامی کے مشکبار مَدَنی ماحول کی پاکیزہ فضاؤں میں داخل ہونے سے پہلے عام نوجوانوں کی طرح گناہوں بھری زندگی گزار رہے تھے ۔ نمازیں قضا کرنا، دن رات گھومنا پھرنا، دوستوں کی منڈلیوں میں وقت ضائع کرنا اور ہنسی مذاق کرنا ان کا معمول تھا، کرکٹ کھیلنے کا اِس قدر جُنون سر پر سوار رہتا تھا کہ اپنے چھوٹے بھائی کے ساتھ گھر میں بھی کرکٹ کھیلتے ہوئے وقت گزارتے، اسی طرح زندگی کے لیل ونہار گزر رہے تھے، آخر کَرَم ہوا اور انہیں مَدَنی ماحول کے قریب آنے کی سعادت نصیب ہوگئی، سبب کچھ یوں بنا کہ جس گلی میں دوستوں کے ہمراہ ان کی منڈلیا ں لگتی تھیں، اُسی گلی کے رہائش پذیر مَدَنی ماحول سے وابستہ اسلامی بھائی نے مسجد دور ہونے کی وجہ سے گھر کی قریبی مارکیٹ رنچھوڑ لائن کی جمپ والی گلی (قادری چوک) میں مدرسۃ المدینہ بالغان کا آغاز کیا، اس اسلامی بھائی کو تعلیمِ قرآن عام کرنے کا اس قدر جذبہ تھا کہ خود مدرسے میں دریاں بچھاتے، ڈیسکیں لگاتے اور ایک ایک کے پاس جاکر مدرسۃ المدینہ بالغان میں شریک ہوکر نورِ قرآن سے منوّر ہونے کی دعوت دیتے، اسی اسلامی بھائی کی انفرادی کوشش سے انہیں بھی مدرسۃ المدینہ بالغان میں شرکت کی سعادت مل گئی، اس کے بعد مدرسۃ المدینہ بالغان میں باقاعدگی سے شریک ہونا معمول بن گیا، اسلامی بھائی خوب دل جمعی کے ساتھ انہیں پڑھاتے، محنت اور شوق سے پڑھنے کی رغبت دلاتے جس کی بَرَکت سے ان کے دل میں قرآنِ پاک پڑھنے کا شوق گھر کر گیا، چلتے پھرتےبھی ان کی زبان پر حُروف کی دُرُست ادائیگی کی مشق جاری رہتی ۔
ہفتہ وار اجتِماع میں حاضِری
ایک بار ایک اسلامی بھائی ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع کی دعوت دینے ان کے گھر پہنچ گئے، انہوں نے مبلغِ دعوتِ اسلامی کو گھر کے پاس دیکھا تو سمجھ گئے کہ ضرور ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع کے لئے بلانے آئے ہیں، یہ چُھپ گئے اور اسلامی بھائی کے جانے کاانتظار کرنے لگے، کافی دیر تک وہ اسلامی بھائی انتظار کرتے رہے، ان کا بغیر کسی دنیوی غرض کے یوں کھڑے ہوکر انتظار کرنا ان کے دل پر اَثَر کر گیا اورانہوں نے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی نیّت کرلی، جب سنّتو ں بھرے اجتماع میں حاضر ہوئے تو امیرِاہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا خوفِ خدا کے موضوع پر سنّتوں بھرا بیان سننے کی سعادت ملی ۔ ایک بار قادری چوک پر انہوں نے مبلغ ِدعوتِ اسلامی کا چوک درس سنا جس سے اس قدر متأثّر ہوئے کہ ہاتھوں ہاتھ داڑھی شریف سے چہرہ سجانے کی نیّت کرلی اور یوں ہمیشہ کے لئے سنّتِ رسول ان کے رُخ کی زینت بن گئی ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
ان کے علاقے کے مَدَنی قافلہ ذمّہ دار مَدَنی قافلے کی دھومیں مچانے والے اسلامی بھائی تھے، جو ان پر بھی انفرادی کوشش کرتے اور راہِ خدا کا مسافر بننے کی بھرپور ترغیب دلاتے مگر یہ ٹال دیتے، ایک عر صہ تک وہ مَدَنی قافلے کے لئے ان پر انفرادی کوشش کرتے رہے، ایک دن انہوں نے مَدَنی قافلے میں سفر کرنے کی نیّت کرلی، مقرّرہ تاریخ سے قبل بھی وہ ان کے پاس نیکی کی دعوت دینے آتے رہے اور مَدَنی قافلے کے حوالے سے ان کا ذِہْن بناتے رہے، مَدَنی قافلے کی روانگی کا دن آیا تو وہ اسلامی بھائی ان کے گھر پہنچ گئے، جب اسلامی بھائی نے انہیں آواز دی تو انہوں نے کھڑکی سے جھانک کر دیکھا تو حیران رہ گئے کہ مَدَنی قافلے کی دعوت دینے والے اسلامی بھائی انہیں لینے آئے ہیں، اسلامی بھائی نے انہیں دیکھ کر کہا : آجائیے! آج مَدَنی قافلہ راہِ خدا میں سفر کرے گا، یہ سن کر سوچنے لگے : اگر یہیں سے انکار کرتاہوں تو اسلامی بھائی کا دل ٹوٹ جائے گا لہٰذا مناسب ہے کہ پاس جاکر کوئی بہانہ بنا کر ٹال دوں، چنانچہ نیچے آکر ٹال مٹول سے کام لیتے ہوئے انہوں نے مَدَنی قافلے میں سفر کرنے سے انکار کردیا، اس پر اسلامی بھائی نے بڑی شفقت سے فرمایا : اگر آپ اس بار نہیں جاسکتے تو کوئی بات نہیں، آئندہ سفر کرنے کی نیّت کرلیجئے اور اس بار اپنے والد صاحب یا بھائی کو مَدَنی قافلے میں روانہ کردیجئے، انہوں نے کہا کہ وہ مَدَنی قافلے میں سفر نہیں کریں گے، جب اسلامی بھائی واپس لوٹنے لگے تو اچانک انہیں خیال آیا کہ میں نے اسلامی بھائی کے ساتھ اچّھا سلوک نہیں کیا، بے ساختہ ان کی آنکھیں اشکبار ہوگئیں، اسی وقت انہوں نے نیّت کی کہ میں آئند ہ ضروربالضّرور مَدَنی قافلے کا مسافر بنوں گا، آخر کار انہوں نے مَدَنی قافلے میں سفر اختیار کرلیا ۔ مَدَنی قافلہ سنّتوں کی دھومیں مچانے رحیم یار خان کی ایک مسجد میں پہنچا، وہ 15 شعبان کی رات (یعنی شبِ براءت) تھی، اس لئے بذریعہ ٹیلی فون امیرِاہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا سنّتوں بھرا بیان ہوا، بیان کا موضوع قبر کے حوالے سے تھا، جب ایک ولیٔ کامل کی زبان مُبارَک سے قبر کے احوال سنے تو دل کی کیفیت بدلنے لگی، اس مَدَنی قافلے میں جہاں سنتیں، دعائیں اور دیگر مسائل سیکھنے کا انہیں موقع ملا وہاں قلبی سکون بھی میسّر آیا ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
مَدَنی حلقے میں امیرِقافلہ اسلامی بھائی نے درسِ فیضانِ سنّت دینے کی تربیت فرمائی، جب انہوں نے درسِ فیضانِ سنّت سنایا تو امیرِ قافلہ اسلامی بھائی نے حوصلہ بڑھاتے ہوئےکہا کہ آج عشا کی نماز کے بعد درسِ فیضانِ سنّت آپ دیں گے، آپ کی اردو اچھی ہے ۔ یہ سن کر گھبراہٹ طاری ہوگئی اور انہوں نے عرض کی : حضور! میں درس نہیں دے سکتا، امیر قافلہ اسلامی بھائی نے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع