30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مَدَنی کاموں کی ترقّی وعروج میں انہوں نے اپنا کردار ادا کرنا شروع کردیا ۔ مَدَنی ماحول کے قریب ہوگئے، مَدَنی مرکز کی طرف سے انہیں ذیلی حلقے کی ذمّہ داری سونپ دی گئی، (اُس وقت تنظیمی ترکیب کے مطابق پانچ مساجد پر ایک ذیلی حلقہ ہوتا تھا) ، یوں کچھ عرصہ اپنے شہر گلزارِ طیبہ میں علاقائی سطح پر بھی دعوتِ اسلامی کے مَدَنی کاموں کی دُھومیں مچانے میں مصروف رہے ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ فیضانِ عطار سے ان کے دل میں نیکی کی دعوت عام کرنے کا اس قدر شوق پیدا ہواکہ دنیاوی تعلیم سے فراغت کے بعد بڑھ چڑھ کر مَدَنی کاموں میں حصّہ لینا ان کا معمول بن گیا ۔
مَدَنی کاموں میں آزمائش کا سامنا
اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ! مَدَنی مرکز کے حکم پر انہیں مَدَنی کاموں کے لئےخوشاب جانے کا بھی موقع ملا، 5سال وہاں مَدَنی کام کرنے کی سعادت ملی، اس دوران مختلف مشکلات سے دوچار ہونا پڑا ۔ 1997ء کی بات ہے، اس وقت خوشاب میں نئی نئی ذمّہ داری تھی، سنّتوں کا پیغام عام کرنے کے عظیم جذبے کے تحت ہفتے میں 2دن گلزارِ طیبہ سے خوشاب حاضر ہونے کا معمول تھا، ایک بار اپنے جدول کے مطابق خوشاب پہنچ کر مَدَنی کاموں میں مشغول ہوگئے، حسب ِمعمول دوسرے دن واپسی تھی مگر دریائے جہلم میں سیلاب آنے کی وجہ سے راستے بند ہوگئے ۔ آخر کئی دن گزر نے کے بعدپیدل ہی گھر روانہ ہونا پڑا، راستہ انتہائی پُر خَطَر تھا، سیلابی پانی میں تقریباً 13کلو میٹر چلنا پڑا، یوں بڑی مشکل سے 40کلومیٹر کا سفر طے کرکے خوشاب سے گلزارِ طیبہ پہنچے ۔ الغرض! خوشاب میں مَدَنی کام کرتے وقت آنے والی پریشانیوں سے کئی بار ان کا حوصلہ ٹوٹا، نفس وشیطان نے مَدَنی کام چھوڑ کر واپس گھر جانے اور دنیا وی مستقبل روشن کرنے کا ذِہْن دیا مگر فیضانِ مرشد سے استقامت ملی رہی اور نفس وشیطان کے ہاتھوں کھلونا بننے سے محفوظ رہے ۔ خوشاب میں دعوتِ اسلامی کی ترقّی وعروج کے لئے مسلسل کوششیں جاری رکھیں، آخر کَرَم ہوا، مشکلات دور ہوئیں اور عاشقانِ رسول کی ایک بڑی تعداد دعوتِ اسلامی کے مشکبار مَدَنی ماحول سے وابستہ ہوکر سنّتوں پر عمل کرنے والی بن گئی ۔ پھر جب مَدَنی مرکز کی طرف سے ذمّہ داریوں کی تبدیلی کا سلسلہ ہوا تو انہیں میانوالی کی ذمّہ داری عطا کردی گئی ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
امیر اَہل سنّت سے پہلی ملاقات
1990ء میں امیرِاہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ گلزارِ طیبہ (سرگودھا) تشریف لائے، یہ بھی دیدار کی خواہش دل میں لئے آپ کی خدمت میں پہنچے، جب ملاقات کا وقت آیا تو اسلامی بھائی قطار میں کھڑے ہوگئے، امیر اہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی بارگاہ میں اپنی معروضات زبانی اور تحریری صورت میں پیش کرنے کے لئے یہ بھی قطار میں شامل ہوگئے مگرجب خدمت میں حاضر ہوئے تو دل کی دنیا زیر و زبر ہوگئی اور ان پر ایسی کیفیت طاری ہوئی کہ اپنی معروضات پیش کرنا ہی بھول گئے، ایک بار پھر ہمّت کی اور معروضات پیش کرنے کی غرض سے قطار میں کھڑے ہوگئے مگر اس بار بھی جب خدمت میں پہنچے تو ایسی کیفیت طاری ہوئی کہ معروضات پیش نہ کرسکے ۔
مُرشِد کے ساتھ کھانا کھانے کی سعادت
2002ء میں ڈیرہ اسماعیل خان میں دعوتِ اسلامی کا 2روزہ سنّتوں بھرا اجتماع منعقد ہوا، امیراہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ بھی برکتیں لٹانے تشریف لائے، یہ بھی زیارت و ملاقات کے لئے خوشاب کے اسلامی بھائیوں کے ساتھ ڈیرہ اسماعیل خان پہنچ گئے، انہیں اس اجتماع میں ایک عجیب روحانیت نصیب ہوئی ۔ اجتماع کے اختتام پر دیدارِ مُرشِد سے فیض یاب ہوکر اسلامی بھائیوں کی ایک تعداد خوشاب روانہ ہوگئی اور یہ چند اسلامی بھائیوں کے ہمراہ امیراہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی خدمت میں حاضر ہوگئے، اُس وقت مرحوم نگرانِ شوری حاجی محمد مشتاق عطاری علیہ رحمۃ اللہ الباری اور اراکینِ شورٰی بھی خدمت میں حاضر تھے، الغرض! اس وقت رُوح پَروَر مناظر دیکھنے کو ملے، خوش قسمتی سے مُرشِد کے ساتھ کھانا کھانے کا شرف ملا، اس دوران آپ کے مسکراتے روشن چہرے کا دیدار کرتے رہے ۔ ایک دن بعد امیراہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ ڈیرہ اسماعیل خان سے مدینۃ الاولیاء (ملتان شریف) روانہ ہوگئے اور یہ مُرشِد کے نورانی جلوے آنکھوں میں بسائے جدائی کا غم دل میں لئے خوشاب لوٹ آئے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
2002ء میں باب المدینہ (کراچی) میں ہونے والے مَدَنی قافلہ کورس میں شرکت کرنے کی انہیں سعادت ملی، جس میں مَدَنی کام کرنے کا مزید طریقہ وسلیقہ سیکھنے کو ملا ۔ اس کے علاوہ وقتاً فوقتاً ذمہ داران کے سنتوں بھرے اجتماعات میں بھی حاضری کا سلسلہ رہا، جس کی بَرَکت سے مَدَنی کام کرنے کا جذبہ وشوق بڑھتا گیا ۔ اِسی شوق وجذبے کے تحت تادمِ بیان سنّتوں کی خدمت کے سلسلے میں بنگلہ دیش، نیپال، تُرکی، برازیل، کیوبا، پاناما، ٹرینیڈآڈ اینڈ ٹوباگو (ویسٹ انڈیز) ، قطر، تھائی لینڈ، ملائیشیا، سنگاپور، یو اے ای، سی لنکا، مالدیپ، امریکہ، ہِند اور عَرَب شریف وغیرہ ممالک میں سفر کرچکے ہیں ۔
گلزارِ طیبہ (سرگودھا) میں ذیلی حلقہ نگران کی حیثیت سے سنّتوں کی خدمت کا موقع ملا، اس دوران نورانی مسجد میں لگنے والے مدرسۃ المدینہ بالغان کے بھی ذمّہ دار رہے، اس کے بعد گلزارِطیبہ میں علاقائی نگران کی ذمّہ دار ی مل گئی، 1996ء کے آخر میں خوشاب شہر اور 1999ء میں خوشاب شہر کی ضلعی سطح کے نگران بنے (اس وقت ضلعی محتسب کی اصطلاح تھی) ، 2001ء میں نئی ترکیب کے مطابق خوشاب میں بطور تحصیل سطح اور 2003ء کے آغاز میں میانوالی ڈویژن کے نگران مقرر ہوئے، اکتوبر 2003ء میں سردار آباد، جھنگ، دارالسلام، پاکپتن، ساہیوال، بہاولنگر، میانوالی، بھکّر، لیّہ، خوشاب، اور گلزارِ طیبہ کے اضلاع پر مشتمل پنجاب بغدادی کے صوبائی نگران کی حیثیت سے پاکستان انتظامی کابینہ کی ذمّہ دار ی ان کے حصّے میں آئی، 2004ء کے آخر میں فیضانِ امیراہلِ سنّت سے دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ میں شمولیت ملی اور مئی 2005ء میں اٹک، راولپنڈی، جہلم، گجرات، گوجرانوالہ، نارووال، ضیاکوٹ، شیخوپورہ، منڈی بہاؤالدین، حافظ آباد، قصور، اوکاڑہ اور اسلام آبادکی اضلاع پر مشتمل پنجاب مکی میں صوبائی مشاورت کے نگران کی حیثیت سے دعوتِ اسلامی کا پیغام عام کرنے کا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع