30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پھانسنے کی کوشش کی اور بیان بند کرکے گانے سننے کا ذِہْن دیا مگر اس بار بھی ضمیر نے جھنجھوڑتے ہوئے انہیں بیان بند کرنے سے روک دیا، انہیں خیال آیا کہ آخِر دیکھوں تو سہی کہ یہ کون سے مولاناہیں جن کے پُرتاثیر جملوں نے میرے پتّھر دل کو موم کردیا ہے، انہوں نے سامنے رکھا ہوا کیسٹ کَوَر اُٹھایا تو اُس پر بیان کا موضوع ’’جہنّم کی تباہ کاریاں‘‘ اور ’’حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّار قادری رضوی‘‘لکھا ہوا پایا، یوں زندگی میں پہلی بار شیخِ طریقت، امیرِاہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی ذاتِ مُبارَکہ کی معرفت حاصل ہوئی، دورانِ بیان جب گنہگاروں، فنکاروں، اداکاروں اور نافرمانوں کے عذابات کے حوالے سے یہ رِوایت سنی کہ’’آ گ کی شدّت سے ان کا دماغ اس طرح کھولے گا جس طرح آگ پر رکھی ہوئی پتیلی کھولتی ہے‘‘ تو ان کے جسم کا رُوآں رُوآں کانپنے لگا، جہنّم کے وَحشت ناک عذابات سن کر دل پر چھائی گناہوں کی کالک دور ہونے لگی، یہ خیال ذِہْن میں گردش کرنے لگا کہ اگر نمازیں قضا کرنے، فلمیں، ڈرامے، گانے، باجے دیکھنے سننے کی وجہ سے اللہ پاک اور اس کے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ ناراض ہوگئے اور جہنّم میں جھونک دیا گیا تو کیا بنے گا! کس طرح عذاباتِ الٰہی برداشت ہوسکیں گے!اس وقت کس سے فریاد کی جائے گی! اور بیان کے آخر میں جب شیخِ طریقت، امیرِاہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے اپنے مخصوص اندازمیں گنہگاروں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا : اے ویڈیوسینٹرچلانے والو! اے میوزک سینٹر چلانے والو! اے نمازیں قضا کرنے والو! اے رمضان کے روزے چھوڑنے والو! اے اللہعَزَّ وَجَلَّ کی نافرمانی کرنے والو! کیا اللہعَزَّ وَجَلَّ کا ہلکا عذاب برداشت کرسکوگے!!! یہ جملے سنتے ہی ان پر ایسی رِقّت طاری ہوئی کہ بے ساختہ آنکھوں سے اشکوں کا دھارا بہہ نکلا، پُرسوز بیان نے ایسی کاری ضرب لگائی کہ دل کی کیفیت بدل گئی، گناہوں سے گِھن آنے لگی، ذِہْن نیکی کی جانب مائل ہونے لگا، یہ کیسٹ بیان مکمل سننے کے بعد سامنے رکھا ہوا دوسراکیسٹ بیان ’’زمیں کھاگئی نوجواں کیسے کیسے؟‘‘ سنا، جس میں نوجوانوں کی سنسنی خیز اموات کے واقعات سن کر دل میں ایک ہلچل برپا ہوگئی، فِکرِ آخِرت کا چراغ دل میں روشن ہوگیا، ہاتھوں ہاتھ گناہوں بھری زندگی چھوڑنے اور نیکیوں بھری راہ اختیار کرنے کا پختہ ارادہ کرلیا، یہ رات انہوں نے کَرْب واِضطراب کے عالَم میں بسر کی، یہ خیال انہیں بار بار تڑپا رہا تھا کہ اگر فلمیں، ڈرامے، گانے، باجے اوردیگر گناہ کرتے ہوئے موت آگئی، گناہوں کا انبار لے کر قبر میں لا شَہ اُتر گیا، بروز قیامت اللہ قہّار ناراض ہوگیا اور جہنّم میں جانے کا حکم سنادیاگیا تو کیا بنے گا! الغرض! ایک ولیٔ کامل کے پُرسوز بیانات سننے کی بَرَکت سے ان کے خیالات کا رُخ بدل گیا اور انہوں نے ہاتھوں ہاتھ ویڈیوسینٹر اور میوزک سینٹر بند کرنے کا عزم کرلیا، خوفِ خدا کے باعث نیند آنکھوں سے کوسوں دور ہوچکی تھی، ساری رات عجیب کیفیت میں کَٹ گئی، یہاں تک کہ فجر کی نماز کا وقت ہوگیا، مسجد سے اذان کی آواز بلند ہونے لگی، جسے سن کر سعادت مند مسلمان بیدار ہوکر حقیقی فلاح وکامرانی کے لئے مسجد کی طرف چل پڑے، آج کی صبح اِن کی زندگی کی خوشنما صبح تھی، بستر سے اُٹھے اور بارگاہِ الٰہی میں سر بسجود ہوکر بَرَکتوں اور رحمتوں کو اپنے دامن میں سمیٹنے لگے، نمازِ فجرادا کرنے کے بعد بھی ان پر ایک عجب کیفیت طاری تھی، آنکھیں نَم تھیں ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
صبح جب اِنہوں نے اپنی نانی جان، بھائی اور ہمشیرہ کو ویڈیوسینٹر بند کرنے کے بارےمیں بتایا تو سب بہت خوش ہوئے اور حوصلہ افزائی فرمانے لگے، چنانچہ ویڈیو سینٹر بندکرنے کے پختہ ارادے سے گھر سے نکلے، راستے میں ملنے والے دوستوں کے سامنے جب انہوں نے ویڈیوسینٹر بند کرنے کا اظہار کیا تو وہ خفا ہوئے اور ویڈیو سینٹر بند کرنے کی وجہ پوچھنے لگے، اِنہوں نے امیراہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے بیانات کے بارے میں بتایا تو کہنے لگے : یار مولویوں کی باتوں کا اِتنا اثر نہ لو، ابھی مزید کچھ دن بند نہ کرو ۔ انہوں نے یہ کہہ کر کہ اسے ہرصورت میں بند کرنا ہے دوستوں کو خاموش کردیا اور دکان کی طرف چل دئیے ۔ راستے میں ایک جاننے والے سے ٹھیلا اور کاٹن مانگے تو انہوں نے پوچھ لیا کہ ان کی کیا ضرورت پڑگئی؟ انہوں نے کہا : ویڈیوسینٹراور میوزک سینٹر بند کررہا ہوں، چنانچہ کاٹن اور ٹھیلا لے کر ویڈیو سینٹر پہنچے اور فلموں اور گانوں کی کیسٹیں کاٹن میں بھرنے لگے، قریبی دکانداروں نے جب یہ منظردیکھا تو دوڑے دوڑے ان کے پاس آئے اور پوچھنے لگے : یہ کیا ہورہا ہے؟ کیا صفائی کا پروگرام ہے؟ اتنی جلدی اس کی کیا حاجت پڑگئی؟ انہوں نے کہا کہ شیخِ طریقت، امیرِاہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے فکرِ آخرت کے حوالے سے بیانات سن کر میرا اس گناہوں بھرے کام سے دل اُچاٹ ہوگیا ہے، بس میں اللہ پاک کی ناراضی والا کام چھوڑ رہا ہوں، یہ سن کر سب کی آنکھیں حیرت سے کھلی کی کھلی رہ گئیں ۔ سارا سامان پیک کرکے ٹھیلے پر ڈالا اور دکان کا شٹر بند کرکے تالالگانے لگے، اتنے میں بھتہ مافیا کے لوگ آگئے اور بھتہ مانگنے لگے، انہوں نے کہا : میں نے ویڈیو سینٹر اور میوزک سینٹر ہمیشہ کے لئے بند کردیا ہے، کہنے لگے : یہ نہیں ہو سکتا کہ تم ایسا کرو! انہوں نے کہا : واقعی میں نے اسے بند کردیا ہے، پوچھنے لگے : کیا مسئلہ ہےجو تم ایسا کر رہے ہو؟ انہوں نے کہا : شیخِ طریقت، امیرِاہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے بیانات سننے کی برکت سے مجھے یہ احساس ہوگیا ہے کہ گانے باجوں کے کیسٹ فروخت کرنے کا کام آخرت تباہ کرنے والا ہے ۔ بھتہ مافیا والے کہنے لگے : دیکھ لینا! جیسے ہی بیانات کا اَثَر تمہارے دل ودماغ سے زائل ہوگا تم ایک بار پھر اِسی دنیا میں لوٹ آؤ گے ۔
عمامہ شریف سجا لیا
خوش قسمتی سے جب انہیں دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والےسنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی سعادت ملی تو وہاں عاشقانِ رسول اسلامی بھائیوں کے اَخلاق وکِردار دیکھ کر اور سنّتوں بھرا بیان سن کر بہت متأثّر ہوئے، بیان کے اختتام پر لائٹیں بند کردی گئیں، اندھیرے میں تمام عاشقانِ رسول نے یک زبان ہوکر ذِکرِالٰہی کیا، پھررِقّت انگیز دعا ہوئی، حاضرین نے دعا کے لئے ہاتھ اُٹھا دئیے، دعا پُرسوز تھی، دورانِ دعا بے ساختہ ان پر ایسی رِقّت طاری ہوئی کہ زاروقطار رونے لگے، فکرِآخرت نےانہیں بے چین کردیا، انہوں نے گڑگڑاتے ہوئے بارگاہِ الٰہی سے مغفرت کی بھیک طلب کی، دعا کے بعد اسلامی بھائیوں نے باادب کھڑے ہوکر صلوٰۃ وسلام پڑھا، آپس میں سلام ومصافحہ کیا، ایک جاننے والے اسلامی بھائی نے ذمّہ داراسلامی بھائیوں سے ان کی ملاقات کروائی اور ان کی زندگی میں آنے والے مَدَنی انقلاب کے بارے میں آگاہ کیا جسے سن کر وہ بہت خوش ہوئے، الغرض! اسلامی بھائیوں کے اخلاق وکردار نے انہیں بہت متأثّر کیا، انہوں نے جب علاقے کے اسلامی بھائی سے گھر جانے کے بارے میں کہا تو اسلامی بھائی نے کہا : دعوتِ اسلامی کے مبلّغین رات کو مسجدمیں قیام کرتے ہیں، آپ بھی رات کا اعتکاف
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع