30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
علوم حاصل کرنے کا شُعور بیدار ہونے لگا …٭سچّائی، ایمانداری، ہمدردی، بھائی چارہ، اِتّفاق و اتّحاداور پیار محبّت عام ہونے لگا …٭عید کی نماز تک نہ پڑھنے والے تائب ہو کر اِمام و مؤذّن بننے لگے …٭مُعاشرے میں برائی کی دعوت دینے والے توبہ کر کے نیکی کی دعوت عام کرنے لگے …٭اِسلامی بہنوں کو حَیا اور پردہ کی دولت نصیب ہونے لگی …٭مغرب اور مغربی تہذیب کے دلدادہ عشقِ رسول میں جھومنے اور مچلنے لگے …٭الغرض! ’’فیضانِ امیرِ اَہلِ سنّت‘‘ سے لاکھوں مسلمانوں کی خزاں رسیدہ زندگی میں دیکھتے ہی دیکھتے ’’مَدَنی بہار‘‘ آگئی ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
اَلْحَمْدُ للہ! دعوتِ اِسلامی کی علمی و تحقیقی مجلس ’’اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیَہ‘‘ کا شعبہ ’’فیضانِ امیرِ اَہلِ سنّت‘‘ گزشتہ کئی سالوں سے ایسے سینکڑوں اسلامی بھائیوں اور اِسلامی بہنوں کی دعوتِ اِسلامی کے مَدَنی ماحول سے مُنسلک ہو کر نیکیوں بھری زندگی گزارنے کی ’’مَدَنی بہاریں‘‘ مرتّب کر کے شائع کرچکا ہے، جو کئی رسائل پر مشتمل ہیں، اُن میں سے 6 رسائل کے نام مُلاحَظَہ کیجئے :
قاتِل اِمامت کے مُصلّے پر اَسلحے کا سوداگر شرابی مؤذِّن کیسے بنا؟
خُونی کی توبہ میں حیادار کیسے بنی؟ ڈاکوؤں کی واپسی
اِن ’’مَدَنی بہاروں‘‘ کا فیضان رَحمتِ خداوندی سے ایسا عام ہوا کہ انہیں پڑھ سن کر کئی اسلامی بھائیوں اور اسلامی بہنوں کی زندَگی میں ’’مَدَنی بہار‘‘ آگئی، جس کی ایک کڑی کتابی صورت میں اِسی شعبہ کا رِسالہ ’’مجوسی کا قبولِ اسلام‘‘ ہے ۔
تادمِ تحریر مَدَنی بہاروں کے 100 سے زائد رسائل چَھپ کر منظر ِعام پر آچکے ہیں جو مکتبۃ المدینہ (دعوتِ اسلامی) کی کسی بھی شاخ سے ہدیۃً طلب کئے جاسکتے ہیں ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
اِس وقت آپ کے ہاتھوں میں موجود کتاب ’’اراکینِ شورٰی کی مَدَنی بہاریں‘‘ دعوتِ اسلامی کی ’’مرکزی مجلسِ شوری‘‘ کے 3 مرحوم اور 26 موجودہ اراکین کی ’’مَدَنی بہاروں‘‘ پر مشتمل ہے ۔ آئیے! اِن مَدَنی بہاروں کو پڑھنے سے قبل ’’مرکزی مجلسِ شوری‘‘ کے متعلق چند سُطور مُلاحَظہ کیجئے!
کسی بھی اِدارے، تنظیم اور آرگنائزیشن کے لئے زِیرک اور ماہِرانہ رائے کے حامِل تجربہ کار افراد کا تھنک ٹینک (Think tank) ضروری ہوتا ہے جو اپنے ادارے یا تنظیم کی ضروریات کو سمجھتا، مفید مشورے دیتا اور مزید بہتری لانے کی کوشش کرتا ہے ۔ ایسے افراد ادارے یا تنظیم کا قابلِ قدْر سرمایہ اور مضبوط سُتون ہوتے ہیں ۔
شیخِ طریقت، امیر اَہلِ سنّت، حضرتِ علّامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّار قادِری رَضَوی ضِیائی دَامَتْ بَرَکَاتُھُمُ العَالِیَہ نے ’’اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش‘‘ کے عالمگیر اور عظیم ترین مقصد کے تحت ستمبر1981عیسوی مطابق شوّالُ المکرّم 1401 ہجری میں ’’دعوتِ اسلامی‘‘ بنائی تو ابتداءً چند افراد کا ساتھ تھا، لیکن امیرِ اہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکَاتُھُمُ العَالِیَہ کی للہیت اور خالص فکرِ اُمّت کا یہ ثَمَر ظاہر ہوا کہ دیکھتے ہی دیکھتے بابُ المدینہ کراچی کے علاقے ’’کھارادر‘‘ سے شروع ہونے والی یہ تحریک پہلے بابُ الاسلام سندھ، پھر پاکستان، اس کے بعد برِّاعظم ایشیا اور پھر رحمتِ خداوندی سے ہَفْت اِقلیم کی طرف نیکی کی دعوت کی دھومیں مچانے کےلئے بڑھنے لگی ۔ جب کام وسیع ہو تو اِنتظام میں بھی وُسعت لانا ناگزیر ہوجاتا ہے، اِسی وجہ سے مختلف علاقوں، شہروں، صوبوں اور ملکوں پر ذِمّہ داران کا تقرّر کیا جانے لگا جو وہاں ’’مَدَنی مقصد‘‘ کی سربلندی کے لئے کوششیں کرنے لگے اور دنیائے دعوتِ اِسلامی کے اِس سارے تنظیمی سیٹ اپ کی اِصلاح اور بہتری کے لئے 2000 عیسوی میں ’’مرکزی مجلسِ شورٰی‘‘ کی بنیاد رکھی گئی، ابتداءً چند اراکین تھے، جن میں وقتاً فوقتاً اِضافہ ہوتا رہا اور تادمِ تحریر مرکزی مجلسِ شورٰی کے اراکین کی تعداد ’’26‘‘ ہے ۔ مرکزی مجلسِ شوری کے اوّلین نگران، بُلبلِ روضۂ رسول، حاجی محمد مشتاق عطاری علیہ رحمۃ اللہ الباری تھے، آپ کی وفات کے بعد حضرت مولانا محمد عمران عطاری مَدّ ظِلّہُ العالی کو نگرانِ شورٰی بنایا گیا ۔ مرحوم نگرانِ شورٰی کے علاوہ مرکزی مجلسِ شورٰی کے مزید دو اراکین (1) مفتیٔ دعوتِ اسلامی ، حافظ محمد فاروق عطاری اور (2) محبوبِ عطار، حاجی محمد زم زم عطاری رحمہما اللہ تعالی بھی سنّتوں کی عظیم خدمت کے بعد اس دارِفانی کو داغِ مُفارَقَت دے چکے ہیں ۔
اللہ کریم کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری بے حساب مغفرت ہو ۔ اٰمین بجاہِ النّبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ واٰلہ وسلم
موجودہ 26 اراکینِ مرکزی مجلسِ شورٰی کے اسمائے گرامی یہ ہیں :
[1]مولانا حاجی ابو حامِد محمد عمران عطاری [2]حاجی ابو رَجَب محمد شاہد عطاری [3]حاجی ابو مَدَنی عبد الحبیب عطاری [4]حاجی ابو مُبِین محمدامین قافلہ عطاری [5]ابو واصف سیّد محمدعارف علی عطاری [6]حاجی ابو امجد محمداسد عطاری مَدَنی [7]ابو ثَوبان محمداطہر عطاری [8]ابو سجّاد محمد بغداد رضا عطاری [9]ابو میلاد بَرَکت علی عطاری [10]حاجی ابو الحسن محمد امین عطاری [11]ابو زِیاد محمدعماد عطاری مَدَنی [12]حاجی ابو رَضا محمد علی عطاری [13]حاجی ابو البیان محمد اظہر عطاری [14]حاجی ابو اکرم محمد اسلم عطاری [15]حاجی ابو شعبان محمد بلال رضا عطاری [16]حاجی ابو قُمیل محمد فُضیل رضا عطاری [17]حاجی ابو بلال محمد رفیع عطاری [18] حاجی ابو خلیل محمد عقیل عطاری مَدَنی [19]حاجی ابو عُمر محمد فاروق جیلانی عطاری [20]حاجی قاری ابو کلیم محمد سلیم عطاری [21]حاجی ابو ماجِد محمد شاہد عطاری مَدَنی [22]حاجی ابو انوارُ المدینہ محمد وقارُ المدینہ عطاری [23]حاجی ابو القافلہ سیّد محمد لقمان عطاری [24]حاجی ابو مسرور محمدمنصور عطاری [25]حاجی ابو منصور یعفور رضا عطاری [26]حاجی ابو الحسن سیّد محمد ابراہیم عطاری ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع