30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نصیب ہوتی رہی، یوں شروع ہی سے انہیں امیراہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی نظرِ شفقت سے فیض یاب ہونے کا موقع ملا، جوں جوں وقت گزرتاگیا ان پر مَدَنی رنگ چڑھتا گیا، سوچ وفکر سے دنیا کی بے جا محبّت کا زنگ دور ہوتا گیا، فِکْرِ آخرت کی تڑپ دل میں پیدا ہوتی گئی اور انہیں نگاہِ مُرشِد سے نیکی کی دعوت عام کرنے کا ایسا جذبہ ملا کہ شروع ہی سے صدائے مدینہ لگانا، فجر کے مَدَنی حلقے میں شرکت کرنا، ایک دن میں چھ چھ مسجد درس دینا، مدرسۃ
المدینہ بالغان میں شرکت کرنا، چھٹّی کے دن مسجد اعتکاف کرنا اور درس وبیان کے ذریعے نیکی کی دعوت عام کرنا ان کا معمول بن گیا ۔
مَدَنی کاموں کے لئے بیرونِ ملک سفر
تادمِ تحریر مَدَنی کاموں کی ترقّی وعروج کے لئے سری لنکا، ملائیشیا، ساؤتھ کوریا، ہانک گانگ، دبئی، کینیا، موزنبیق اور نیپال وغیرہ ممالک کا سفر کرچکے ہیں ۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ یہ ذیلی حلقہ، حلقہ، علاقہ، تحصیل، ڈویژن، مدارس المدینہ، مجلسِ لنگر رضویہ، مجلس طِبّی علاج، مجلس مزاراتِ اولیا، مجلس تحفّظِ رِزْق اور مجلس معاونت اسلامی بہنیں کے ذمّہ دار ہونے کی حیثیت سے اپنی خدمات سرانجام د ے چکے ہیں اور تادمِ تحریر مکی ریجن (عطاری، رضوی، مصری، محبوبی، اصحابی، برکاتی زون) مجلس مکتبۃالمدینہ اور مجلس تقسیم رسائل کے نگران کے طور پر دینی خدمات پیش کررہے ہیں ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
(14) ابو زیاد محمّد عِماد عطّاری مَدَنی
مبلغِ دعوتِ اسلامی ورُکنِ شوریٰ، ابو زِیاد محمد عِماد عطاری مَدَنیمَدَّ ظِلُّہُ الْعَالِی دعوتِ اسلامی کے مشکبار مَدَنی ماحول سے وابستہ ہونے سے پہلے عام نوجوانوں کی طرح پینٹ شرٹ میں ملبو س رہتے تھے، جہاں ان کی رہائش تھی وہاں کوئی ایسی مسجد نہیں تھی جس سے یَارَسُوْلَ اللّٰہ کی صدائیں سنائی دیتیں، جب یہ دوسری جگہ شفٹ ہوئے تو وہاں عاشقانِ رسول کی مسجد موجود تھی جس میں اذان سے پہلے صلوٰۃ وسلام پڑھا جاتا تھا مگر مسجد میں درسِ فیضانِ سنّت کی ترکیب نہیں تھی، دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ اسلامی بھائی تقریباً ایک کلومیٹر کے فا صلے سے درسِ فیضانِ سنّت دینے تشریف لاتے اور مسجد سے باہر درس دینے کی سعادت پاتے، جب کبھی انہیں والدصاحب کے ساتھ مسجد کی حاضری نصیب ہوتی تو نماز ادا کرنے کے بعد درسِ فیضانِ سنّت سننے کی سعادت حاصل کرتے، یوں درسِ فیضان سنّت کی بَرَکت سے دعوتِ اسلامی کے مشکبار مَدَنی ماحول سے منسلک ہوگئے ۔
ان کے محلے کے ایک عالم صاحب کے صاحبزادے جو عطاری تھے انہوں نے ایک دن ان کے والد صاحب محمد منیر سروری قادری کو عمامہ شریف تحفۃً پیش کیا، والد صاحب وہ عمامہ شریف گھر لے آئے، دعوتِ اسلامی کے ماحول کی بَرَکت سے انہیں عمامہ شریف کے چند فضائل معلوم ہوگئے تھے، لہٰذا جب انہوں نے گھر میں عمامہ شریف دیکھاتو اس کی بَرَکتیں پانے کی خواہش دل میں پیدا ہوگئی، جمعۃ المبارک کے دن عمامہ شریف باندھنے کے فضائل سے مالامال ہونے کے جذبے کے تحت انہوں نے عمامہ شریف اُٹھایا اور سر پر باندھنا شروع کردیا، چونکہ زندگی میں پہلی بار عمامہ شریف باندھنے کی سعادت حاصل کررہے تھے اس لئے کافی دیر عمامہ شریف باندھنے کی کوشش کرنے کے باوجود کامیاب نہ ہوسکے، آخر جب تھک گئے تو عمامہ شریف لے کر مسجد پہنچ گئے، وہاں دعوتِ اسلامی کے مشکبار مَدَنی ماحول سے وابستہ ایک اسلامی بھائی موجود تھے، اسلامی بھائی سے انہوں نے عمامہ شریف باندھنے کی درخواست کی، اسلامی بھائی نے انکار کئے بغیر ان کے سر پر عمامہ شریف کا تاج سجادیا، اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ اس دن سے عمامہ شریف کا تاج ان کے لباس کا حصّہ بن گیا ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
جب میٹرک میں تھے تب پہلی بار والد صاحب محمد منیر سروری قادری کے ہمراہ دعوتِ اسلامی کے عالَمی مَدَنی مرکز فیضان مدینہ (کراچی) میں ہونے والے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی سعادت حاصل کی، اس وقت عالَمی مَدَنی مرکز فیضانِ مدینہ زیر تعمیر تھا، جب یہ فیضانِ مدینہ پہنچے تو انہوں نے کثیر اسلامی بھائیوں کو اجتماعی طور پر ذِکْرِ خدا کی صدائیں بلند کرنے میں مشغول پایا، انہوں نے سیڑھیوں پر بیٹھ کر سنّتوں بھرے اجتماع کی بَرَکتیں سمیٹنے کی سعادت حاصل کی، ذِکْر کے بعد بارگاہِ رسالت میں درود وسلام کے گجرے نچھاور کئے، پھر دعا کا رُوح پَروَر سلسلہ شروع ہوا، تمام حاضرین نے ایک ساتھ دعا کے لئے بارگاہِ الٰہی میں ہاتھ بلند کردئیے، انہوں نے بھی دعا مانگی اور پھر اختتام پروالد صاحب اور بڑے بھائی کے ساتھ گھر لوٹ آئے ۔
دعوتِ اسلامی کے تحت مدینۃ الاولیاء ملتان شریف میں ہونے والے سب سے پہلے بین الاقوامی سنّتوں بھرے اجتماع کی دھوم تھی، اسلامی بھائی بڑے جوش وخروش سے تیّاریوں میں مشغول تھے، انفرادی کوشش کے ذریعے اجتماع کی دعوت عام کی جارہی تھی، ان کی بھی سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کرنے کی دلی تمنّا تھی مگر عمر چھوٹی ہونے کی وجہ سے گھر والوں کی طرف سے اجازت نہ ملی ۔ مگر جب دوسرے بین الاقوامی سنّتوں بھرے اجتماع کا پُر بہار موسم تشریف لایا تو ایک بار پھر دل مدینۃ الاولیاء ملتان شریف جانے کے لئے بے قرار ہو گیا، دل کی حسرت تھی کہ اس بار تو سنّتوں بھرے اجتماع کی بہاریں دیکھنے ضرور جاؤں گا مگر اس بار بھی کم سِنی ان کے لئے آڑ بن رہی تھی، آخر کَرَم ہوگیا اور انہیں اس بار اجازت کا پروانہ مل گیا، سبب کچھ یوں بنا کہ ان کے علاقے میں دعوتِ اسلامی کے مشکبار مَدَنی ماحول سے وابستہ ایک عاشقِ رسول رہائش پزیر تھے جن کا تعلق زَم زَم نگر حیدر آباد سے تھا، اس اسلامی بھائی نے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع