30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
امیر اہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی زیارت وملاقات کا انہیں اس قدر شوق تھا کہ آپ کی نظرِ شفقت پانے کے لئے ملاقات کرنے والوں کی لمبی قطار میں رات گئے تک کھڑے رہتے، ملاقات کا شرف پاکر عجب کیف وسرور سے سرشار ہوتے، آپ سے پہلی ملاقات گلزارِ حبیب مسجد میں ہوئی، سحری کے وقت کھانے میں چاول پیش کئے گئے، آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے بُو سونگھ کر فرمایا : یہ چاول ناراض ہوگئے ہیں، انہیں اُٹھالیجئے ۔ انہوں نے کسی سے پوچھا : چاول کیسے ناراض ہوتے ہیں؟ جواب ملا کہ اصل میں چاول رات سے دیگ میں تھے اور اب کھانے کے قابل نہیں رہے تھے، امیر اہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے رِزْق کے ادب کی وجہ سے اس طرح کے الفاظ استعمال کئے ہیں، ادب کا یہ منفرد اور پیارا انداز دیکھ کر مرشد کی محبّت وعقیدت میں مزید اضافہ ہوگیا ۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ! اب تک مختلف ذمّہ داریاں سرانجام دینے کی سعادت حاصل کرچکے ہیں، ذمّہ داریوں کا آغاز ایک مسجد سے ہوا، فاروق نگر (لاڑکانہ) شہر مشاورت کی رکنیت کے علاوہ جب 2000ء میں باب الاسلام سندھ کابینہ کا قیام عمل میں آیا تو اس کے رکن ہونے کی حیثیت سے بھی مَدَنی کام کرنے کی سعادت ملی، پھر جب باب الاسلام سندھ کابینہ کے تحت شہروں کے ڈویژن بنائے گئے تو انہیں ایک ڈویژن کی ذمّہ داری سونپ دی گئی جس میں فاروق نگر (لاڑکانہ) ، عطار آباد، کندھ کوٹ، کشمور، وغیرہ کے شہر شامل تھے ۔ 2000 ء کے آخر میں باب المدینہ (کراچی) میں امیراہلِ سنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوری کا اعلان فرمایا، اس وقت یہ فاروق نگر لاڑکانہ میں تھے، باڈھ شہر کے ایک ذمّہ دار اسلامی بھائی جو باب المدینہ (کراچی) کے ہفتہ وار اجتماع میں شریک تھے، انہوں نے فون پر انہیں مبارک باد دیتے ہوئے بتایا کہ دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوری بن گئی ہے اور آپ اس کی رکنیت سے مشرف ہوئے ہیں ۔ انہوں نے حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا : مجھے اس کے بارے میں معلوم نہیں مگر مُرشد کے حکم پر سر خم ہے، میں حاضر ہوں ۔ مرکزی مجلسِ شوری کے مَدَنی مشورے میں انہیں شعبۂ تعلیم کی ذمّہ داری مل گئی، شعبہ تعلیم کی مجالس کا قیام عمل میں آیا، اس وقت چار صوبے تھے اور ان چاروں صوبوں میں شعبہ تعلیم کو مضبوط کرنے کے لئے انہیں جانے کی سعادت ملی ۔ تادمِ بیان دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوری کے رُکن ہونے کے ساتھ ساتھ مجلسِ تراجِم اور مجلس برائے تحفظِ رزق کی ذِمّہ داری سرانجام دے رہے ہیں ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
(13) حاجی ابو الحسن محمد امین عطاری
رُکنِ شوریٰ حاجی ابو الحسن محمد امین عطاری مَدَّ ظِلُّہُ الْعَالِی کی مَدَنی بہار کا خلاصہ ہے کہ مَدَنی ماحول کی مشکبار فضاؤں میں داخل ہونے سے پہلے عام نوجوانوں کی طرح ان کی زندگی کے شب وروز بسر ہورہے تھے، ہنسی مذاق کرنا، اسکول وکالج کی غیر نصابی سر گرمیوں میں پیش پیش رہنا، اسٹیج ڈراموں کی رونق بننا، کھیل کود اور فلمیں ڈرامے دیکھنے میں وقت ضائع کرنا، ہوٹلوں پر جاکر عمدہ کھانے کھانا اور سیر وسیاحت کے لئے مختلف تفریح گاہوں کا رُخ کرنا ان کا مَحبوب مشغلہ تھا ۔
زیارتِ امیر اہل سنّت
ابتداءً زم زم نگر حیدرآباد میں ان کی رہائش تھی، دعوتِ اسلامی کے مشکبار مَدَنی ماحول سے وابستہ اسلامی بھائی ان کے علاقے کی مسجد میں نیکی کی دعوت عام کرنے تشریف لاتے تھے، وہ اسلامی بھائی جہاں دیگر عاشقانِ رسول پر انفرادی کوشش کرتے وہاں انہیں بھی نیکی کی دعوت پیش کرتے، غالباً 1983ء میں اسلامی بھائیوں کی انفرادی کوشش کی بَرَکت سے میمن سوسائٹی میں واقع مریم مسجد( زم زم نگر، حیدر آباد ) میں امیر اہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی زیارت کا پہلی بار شرف حاصل کیا اور اس قدر متأثّر ہوئے کہ ہاتھوں ہاتھ پچھلے گناہوں سے توبہ کر کے سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ عطاریہ میں داخل ہوگئے ۔
ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتِماع میں حاضِری
1985ء میں زَم زَم نگر سے بابُ المدینہ منتقل ہوئے تو کالج میں ایڈمیشن لے لیا اورحسبِ عادت دوستوں کے ساتھ دنیاوی مشاغل میں مشغول ہوگئے، علاقے میں جہاں سب دوست جمع ہوتے تھے وہاں دعوتِ اسلامی سے وابستہ عاشقانِ رسول تشریف لاتے اور نہایت محبّت بھرے انداز میں نیکی کی دعوت پیش کرتے، سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کا مَدَنی ذِہْن دیتے مگر یہ سُنی اَن سُنی کردیتے اور اجتماع میں حاضر ہونے سے محروم رہتے، آخر 1990ء میں عاشقانِ رسول کی انفرادی کوشش رنگ لائی اور انہیں دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی سعادت نصیب ہوگئی، اُس وقت اجتماع دعوتِ اسلامی کے اوّلین مَدَنی مرکز ’’گلزارِ حبیب‘‘ (سولجر بازار) میں ہوتا تھا ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ اُنہی دنوں مدینۃ الاولیاء ملتان شریف میں ہونے والے بین الاقوامی سنّتوں بھرے اجتماع میں بھی جانے کا موقع ملا، یوں اسلامی بھائیوں کی صحبت ملتی چلی گئی اور یہ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول کے قریب ہوتے چلے گئے، مدرسۃ المدینہ بالغان میں شرکت کی سعادت حصّے میں آنے لگی، دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے دیگر اجتماعات میں ذِمّہ دار اسلامی بھائی انہیں اپنے ہمراہ لے جاتے، جہاں انہیں امیراہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے سنّتوں بھرے بیانات سننے کا موقع ملتا، اس طرح وقتاًفوقتاً بارگاہِ امیراہلِ سنّت میں حاضر ی بھی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع