ابو میلاد بَرَکت علی عطاری
دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Arakeen-e-Shura Ki Madani Baharain | اراکینِ شوریٰ کی مَدَنی بہاریں

book_icon
اراکینِ شوریٰ کی مَدَنی بہاریں

نے والدہ  سے عرض کی کہ ابھی  مرشدِ کریم کا فون آیا  ہے ، آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے فرمایا ہے کہ آپ ٹھیک ہوجائیں گی، یہ سن کر والدہ نے بڑے اعتماد سے فرمایا :  گھر جانے کی تیاری کرو، اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ  2دن بعد ڈاکٹروں نے یہ کہتے ہوئے کہ اب ان کی طبیعت بہتر ہے،  گھر جانے کی اجازت دے دی ۔   تادمِ تحریر میلادی زون (گلگت، بلتستان) کے نگران  کی حیثیت سے سنّتوں کی خدمت میں مصروفِ عمل ہیں ۔ 

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب                        صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد

(12) ابو میلاد بَرَکت علی عطاری

مبلغِ دعوتِ اسلامی ورُکنِ شوریٰ، ابو میلاد بَرَکت علی عطاریمَدَّ ظِلُّہُ الْعَالِی دعوتِ اسلامی کے مشکبار مَدَنی ماحول سے منسلک ہونے سے قبل  بابُ الاسلام سندھ کے شہر فاروق نگر (لاڑکانہ) میں ان کی  رہائش تھی، مَدَنی ماحول سے دوری کے سبب سنّت کی عظمت سے نابلد تھے، فلمیں ڈرامے دیکھنے کے شائق تھے، جب کم وبیش11 برس کے ہوئے تو والدصاحب کا انتقال ہوگیا،  گھر میں گیارھویں شریف، میلاد کی نیاز وغیرہ کی ترکیب تھی، لیکن نمازوں کی طرف رجحان نہ تھا، الغرض! ٹی وی پر ڈرامے، کرکٹ میچز وغیرہ دیکھنے میں زندگی کے انمول لمحات بسر ہورہے تھے ۔   غالباًجب یہ  آٹھویں کلاس کے  طالبِ علم تھے تو امتحان میں کامیابی کے حصول کی غرض سے مسجد  میں حاضر ہوکر دعا مانگنے کا ذِہْن بنا، علاقے میں دعوتِ اسلامی کے مشکبار مَدَنی ماحول سے وابستہ  ایک سیّد صاحب رہائش پذیر تھے جو مسجد میں درسِ فیضانِ سنّت دینے کی سعادت حاصل کرتے تھے، ایک دن جب یہ  نماز پڑھنے اور امتحان میں کامیابی کی دُعا مانگنے کی غرض سے مسجدحاضر ہوئے تو سیّد صاحب سے ملاقات  ہوگئی، سیّد صاحب نے انفرادی کوشش کرتے ہوئے  انہیں مدرسۃ المدینہ بالغان میں شرکت کرنے کی ترغیب دلائی جس کی بَرَکت سے ا نہوں  نے ہاتھوں ہاتھ  قرآنِ پاک پڑھنے کی نیّت کرلی اور محمدی مسجد (دڑی محلّہ) میں لگنے والے مدرسۃ المدینہ بالغان  میں شرکت کرنے لگے، ابتداءً مخارج کی ادائیگی کے حوالے سے پریشانی ہوئی مگر مسلسل محنت کرنے کی بَرَکت سے دور ہوگئی ۔ 

ہفتہ وار اجتِماع میں حاضِری

رفتہ رفتہ مبلغِ دعوتِ اسلامی نے انہیں ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں  شرکت کرنے کی ترغیب دیناشروع کردی، چونکہ  اجتماع  ان کے گھر سے دور شاہی بازار میں واقع عثمانیہ مسجدمیں ہوتا تھا  اور اس وقت ان کی عمر بھی  چھوٹی تھی اس لئے  گھروالے انہیں تنہا اجتماع  میں نہیں جانے دیتے تھے ۔   چنانچہ ایک دن انہوں نے  علاقے کی مسجد کے قریب  واقع اہلِ سنّت کے مدرسے کے طلبہ  سے رابطہ کرکے  ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں ساتھ لے جانے کا کہا، یوں طلبہ انہیں اپنے ساتھ لے جانے کے لئے آمادہ ہوگئے اور انہیں عشا کے وقت آنے کا کہا، یہ مقررہ وقت پر مسجد پہنچ گئے اور طلبہ کا  ا نتظار کرنے لگے، کچھ دیر کے بعد  وہ  تیار ہوکر آئے  اور انہیں اپنے ہمراہ لے کر سنّتوں بھرے اجتماع کے لئے روانہ ہوگئے، یوں زندگی میں پہلی بار انہیں دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی سعادت نصیب ہوئی ۔   انہیں وہاں کا مَدَنی ماحول اس قدر اچھا لگا  کہ  سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کرنا  اور اس کی دعوت عام کرنا  ان کا معمول بن گیا، ان کی انفرادی کوشش سے متعدّد لوگ سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کرنے والے بن گئے ۔ 

1989؁ء میں دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول کے بہت قریب آگئے، مَدَنی کاموں میں حصّہ لینے لگے، ذمّہ داراسلامی بھائیوں نے ذوق و شوق کو دیکھتے ہوئے انہیں جلد ہی ایک مسجد کی ذمّہ داری سونپ دی، گھراور رشتہ داروں میں عمامہ شریف سجانے، داڑھی شریف رکھنے کا ذِہن نہ ہونے کی وجہ سے انہیں ابتداءً  عمامہ شریف سجاتے ہوئے شرم محسوس ہوتی تھی،  اس لئے یہ  مسجد  پہنچ کر عمامہ شریف باندھتے  اور نماز ادا کرتےاورجب باہر آتے  تو عمامہ کھول کر رکھ لیتے ۔   رفتہ رفتہ جھجک دور ہوگئی اور انہوں نے مستقل عمامہ شریف کا تاج سجالیا ۔ 

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب                        صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد

درسِ فیضانِ سنّت کا جذبہ

دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول کی بَرَکت سےان  پر مَدَنی رنگ چڑھنے لگا اور دل گناہوں سے توبہ کر کے نیکی کی طرف مائل ہونے لگا، جب نیکی کی دعوت عام کرنے کے لئے درسِ فیضان سنّت دینے  کی خواہش دل میں  پیدا ہوئی تو انہوں نے  چند اسلامی بھائیوں کے ساتھ مل کر پیسے جمع کئے اور فیضانِ سنّت (قدیم) 70روپے ہدیہ پر حاصل کرلی، اس وقت ان کی  تعلیم کم تھی اور مادری زبان  بھی سندھی تھی اس لئے فیضانِ سنّت پڑھنے میں دشواری ہوتی، مگراس کے باوجود درسِ فیضانِ سنّت دینے کا جذبہ سرد نہ ہوا، چنانچہ انہوں نے  فیضانِ سنّت کے ایک مقام سے درس کی تیاری شروع کردی  اور  جب اچھی طرح درس تیار ہوگیا تو اسلامی بھائیوں کی اجازت سے ایک دن نورانی مسجد میں نماز کے بعد درس دینے کے لئے بیٹھ گئے، دورانِ درس ان کے  ہاتھ پاؤں پھول گئے، جسم پر کپکپی طاری ہوگئی، بڑی مشکل سے کانپتے، گھبراتے درس مکمل کیا، درس کے اختتام پر ایک اسلامی بھائی نے کہا : درس دیتے وقت آپ  پر بہت زیادہ گھبراہٹ طاری تھی ایسا لگتا تھا کہ یہ آپ کا پہلا اور آخری درس ہوگا، انہوں نے  ہمّت اور جذبے کا اظہار کرتے ہوئے کہا : اِنْ شَآءَ اللہ میں دوبارہ بھی درسِ فیضانِ سنّت دینے کی سعادت حاصل کروں گا، اس کے بعد فیضانِ سنّت کا مطالعہ کرنا اور درس دینا ان کا معمول بن گیا، رفتہ رفتہ گھبراہٹ  بھی ختم ہوگئی، فیضانِ سنّت کا درس دینے کی بَرَکت سے ان کی اُردو بھی بہتر  ہونے لگی ۔ 

 ایک دن اُردو کے استاد صاحب نے  کلاس میں انہیں سبق پڑھنے کا حکم دیا تو  انہوں نے اس قدراَحسن انداز میں اُردو کا  مضمون  پڑھا  کہ استاد صاحب  اور کلاس فیلوز ان کی حوصلہ افزائی کئے بغیر نہ رہ سکے ۔   اس کے بعد جب بھی کلاس میں  استاد صاحب پوچھتے : کون سبق پڑھے گا؟ تو سب لڑکے کہتے : برکت بھائی ۔   الغرض! فیضانِ سنّت کی بَرَکت سے جہاں قلبی سُکون ملا وہاں ان کی اُردو بھی اس قدر بہتر ہوگئی کہ میٹرک کے امتحان میں اردو کا پیپر اچّھے نمبروں سے پاس کیا ۔ 

کُتُب و رسائل کا ترجمہ

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن