30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بھی کھلائے ۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰہ! اب تک یہ مختلف ذِمّہ داریاں سرانجام دے چکے ہیں جو درج ذیل ہیں : ذیلی حلقہ، حلقہ، علاقہ، نواب شاہ کی شہر سطح پر ذمّہ داری، 2سال اسلام آباد اور ایک عرصے تک جہلم سے لے کر اٹک تک کے علاقوں میں مَدَنی کام کرنے کا موقع ملا، سکّھر، فاروق نگر (لاڑکانہ) اور نواب شاہ کے اطراف بالخصوص مورو میں بھی ایک عرصے تک سنّتوں کی خدمت کی، مَدَنی کاموں کی ترقّی وعروج کے لئے ساؤتھ افریقہ میں 19ماہ کے مَدَنی قافلے میں سفرکیااور وہاں ایک شہر کی ذمّہ داری کی ترکیب بنی، پھر جب پاکستان آئے تو شعبہ تعلیم کی ذمّہ داری مل گئی، اَلْحَمْدُ لِلّٰہ تادمِ تحریر مجلس دارُالمدینہ (للبنین وللبنات) ، مجلس دارُالمدینہ (اسکول) ، مجلس دارُالمدینہ کالج و یونیورسٹی، مجلس شعبۂ تعلیم، مجلس ڈاکٹرز، مجلسِ رابطہ، مجلس حفاظتی اُمور، مجلس نشرو اِشاعت، مجلسِ رابطہ برائے شوبِز، مجلسِ رابطہ برائے اسپورٹس، مجلس اِصلاح برائے قیدیان، مجلس تاجران، مجلس تاجران برائے گوشت، مجلس آئی ٹی اور مِصری زون میں دین کی خدمت کررہے ہیں ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
(11) ابو سجّاد محمّد بغداد رضا عطاری
مبلغِ دعوت ِاسلامی و رُکنِ شوریٰ، ابو سجّاد، محمد بغداد رضا عطاری مَدَّ ظِلُّہُ الْعَالِی عام نوجوانوں کی طرح نمازوں کی ادائیگی کے سلسلے میں غفلت کا شکار تھے، نفس وشیطان کے مکروفریب میں گرفتار ہوکر زندگی کے شب وروز ضائع کررہے تھے، کھیل کود کے شائق دوستوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا تھا، فٹبال کھیلنے کے اس قدر شوقین تھے کہ صبح سویرے کھیل کے میدان میں پہنچ جاتے ۔ اس کے علاوہ فلمیں ڈرامے دیکھنے اورگانے باجے سننے کا جُنون سر پر سوار رہتا، الغرض! دعوتِ اسلامی کے مشکبار مَدَنی ماحول سے وابستہ ہونے سے قبل فضول کاموں میں زندگی کی سانسیں بسر ہورہی تھیں ۔ خوش قسمتی سے 1994 میں ضلع چکوال پنجاب کی مرکزی جامع مسجد تلہ گنگ میں دعوتِ اسلامی کے 4 دن کے مَدَنی قافلے میں سفر کی سعادت مل گئی، امیرقافلہ رُکنِ شوریٰ ابوشعبان محمد بلال رضا عطاریمَدَّ ظِلُّہُ الْعَالِی تھے، رُکنِ شوری نے شفقتیں فرمائیں، بالخصوص رُکنِ شوری کے اَخلاق وکردار اور محبّت بھری گفتار سے بہت متأثّر ہوئے ۔ انہیں مَدَنی قافلے میں بہت لطف آیا، مسجد کی پاکیزہ فضاؤں میں ایک قلبی سکون کا احساس ہوا ۔ وقتاًفوقتاً ہونے والے درس وبیان اور مَدَنی حلقوں میں شرکت کرنے کی بَرکت سے مزید دل کی صفائی ہونے لگی اور عمل کا ایسا جذبہ ملا کہ انہوں نے پچھلے گناہوں سے توبہ کر کے دعوتِ اسلامی کا مشکبار مَدَنی ماحول اپنالیا اور داڑھی شریف سے چہرہ سجالیا ۔ الغرض! مَدَنی قافلے کی بَرَکت سے ان کی زندگی کا رُخ بدلنے لگا ۔
مزید رُکنِ شوریٰ حاجی محمد وقار المدینہ عطاریمَدَّ ظِلُّہُ الْعَالِی کی انفرادی کوشش سے انہوں نے مسجد درس دینے اور ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کرنے کی نیّت کرلی، کھیل کود اورفلمیں ڈرامے دیکھنے، گانے باجے سننے سے دل اُچاٹ ہوگیا، فکرِآخرت کی شمع دل میں فروزاں ہونے لگی، عمامے شریف کا تاج سجالیا اور سنّتوں کی خدمت میں مشغول ہوگئے، پہلے ذیلی حلقہ میں درس کی ذمّہ داری ملی، اس کے بعد حلقہ نگران بن گئے، پھر علاقائی قافلہ ذمّہ دار اور اس کے بعد علاقائی نگران کی حیثیت سے سنّتوں کی خدمت کرنے لگے، یوں مختلف ذمّہ داریاں سرانجام دیتے ہوئے ترقّی کرتے رہے اور بالآخر نگاہِ مرشد سے مرکزی مجلسِ شوری کے رُکن بن گئے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
1997 یا 1998ء میں حاجی وقارالمدینہ عطاریمَدَّ ظِلُّہُ الْعَالِی کی انفِرادی کوشش سےزیارتِ امیرِاہلِ سنّت کے لئے چند اسلامی بھائیوں کے ہمراہ گلزارِ طیبہ(سرگودھا) سے بابُ المدینہ کراچی روانہ ہوئے، تقریباً25گھنٹے میں عالَمی مَدَنی مرکز فیضانِ مدینہ پہنچے، طبعی حاجات سے فارغ ہوکرانہوں نے نمازِ ظہر ادا کی اور آرام وغیرہ کیا، نمازِ عصر ادا کرنے کے بعد زیارت کے لئے امیر ِاہلِ سنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے مکانِ عالیشان پر حاضر ہوگئے، دیدار کی تڑپ دل میں لئے مکان کے سامنے کھڑے تھے کہ اچانک ایک حارِس (Security Guard) اسلامی بھائی باہر نکلے اور انہیں ایک طرف کردیا، پھرامیرِ اہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ باہر تشریف لائے اور مسکراتے ہوئے ان پر نظر ِکَرَم فرمائی اور سینے سے لگاکر فرمایا : کیسے آئے ہیں؟ عرض کی : زیارت وملاقات کے لئے حاضر ہوا ہوں، فرمایا : ابھی مجھے جانا ہے، آپ بھی ساتھ گاڑی میں بیٹھ جائیے، یوں انہیں مرشدِ کریم کا قُرب نصیب ہوگیا، ان کی والدہ ایک عرصے سے بیمار تھیں، چنانچہ انہوں نے موقع غنیمت جانتے ہوئے امیرِ اہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی خدمت میں عرض کی : حضور! میری والدہ کے گلے میں غُدود ہیں، جس کی وجہ سے ہم بہت پریشان ہیں، ڈاکٹروں کے تجویز کردہ نسخے استعمال کرنے کے باوجود گلے کی تکلیف کم ہونے کی بجائے بڑھتی جارہی ہے، والِدہ صاحبہ کی آواز ختم ہوچکی ہے، اشاروں سے بات کرتی ہیں، ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ آپریشن ہوگا جس میں کامیابی کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں، امیر اہلِ سنت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے فرمایا : آپریشن نہ کروائیں، میں تعویذ دوں گا، وہ استعمال کریں اِنْ شَآءَ اللہعَزَّ وَجَلَّ آپریشن کی ضرورت نہیں پڑے گی ۔ چنانچہ واپسی پر مرشد کی بارگاہ سے والدہ کے لئے تعویذ لے کر وہ گلزارِ طیبہ روانہ ہوگئے، بتائے ہوئے طریقے کے مطابق تعویذ استعمال کیا، حیرت انگیز طور پر غُدود ختم ہونے لگے، اَلْحَمْدُ لِلّٰہ برسوں سے ان کی والدہ کو دوبارہ کبھی گلے کی تکلیف نہیں ہوئی، آواز بھی پہلے سے بہتر ہوگئی ہے، تعویذاتِ عطاریہ کی بَرَکت دیکھ کر والدہ محترمہ کے دل میں امیراہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی محبّت وعقیدت اس قدر راسخ ہوگئی کہ ایک بار انہیں دل میں تکلیف ہوئی، علاج کے لئے ایک اسپتال میں داخل کروادیاگیا، حالت نازک تھی، سب اَہلِ خانہ پریشان تھے، ایک دن اسپتال میں جانشینِ امیرِ اَہلِ سنّت، حضرت مولانا حاجی ابو اُسید عبید رضا عطاری مَدَنی مدظلہ العالی کا فون آیا، آپ نے فون پر تسلّی دی ۔ کَرَم بالائے کَرَم یہ کہ پھر امیر اہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے شفقت فرمائی، سلام سے نوازا، تسلّی عطافرمائی، والدہ کی طبیعت کے بارے میں دریافت فرمایا، عرض کی : ابھی حالت خراب ہے، علاج کا سلسلہ جاری ہے، امیراہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے فرمایا : اِنْ شَآءَ اللہعَزَّ وَجَلَّ صحت یاب ہوجائیں گی، فرمانِ مرشد سے قلب میں ایک عجیب خوشی داخل ہوئی، جب انہوں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع