30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
ایک بار یہ ماموں جان کے ہمراہ ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع کی بَرَکتیں سمیٹنے کے لئے محمد ی مسجد ملنگ والی میں حاضر ہوئے، جہاں سنّتوں بھرا بیان سُنا، ذِکْرُاللہ کرنے کی سعادت حاصل کی، الغرض! سنّتوں بھرے اجتماع کے پُرکیف مناظِر سے اس قدر متأثّر ہو ئے کہ باقاعدگی سے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کرنا ان کا معمول بن گیا، جس کی بَرَکت سے پچھلے گناہوں پر ندامت ہونے لگی اور ان کی زندگی کا رُخ بدلنے لگا، فضول اور بے ہودہ تقاریب اور پروگرامز سے بھی کٹنے لگے، چونکہ گھر کا ماحول ماڈرن، فلموں ڈراموں اور ہنسی مذاق والاتھا، اس لئے گھروالے ان کی بدلتی ہوئی عادات و اطوار کو محسو س کرنے لگے، آخر گھر والوں نے سنّتوں بھرے اجتماعات میں شرکت کرنے پر پابندی عائد کردی، اس طرح انہیں آزمائش ومسائل سے دوچار ہونا پڑا، مگر انہوں نے ہمّت نہ ہاری، کسی بھی طرح اجازت لے کر سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کرکے بَرَکتیں لوٹتے رہے، رفتہ رفتہ مَدَنی رَنگ چڑھتا چلا گیا اور انہوں نے سر پر عمامہ شریف کا تاج سجالیا، جس پر گھر والے سخت ناراض ہوگئے، عمامہ شریف اتروانے کی کوششیں کرنے لگے، کرخت لہجے میں بات چیت کی جانے لگی مگر انہوں نے ہمّت واستقلال کے ساتھ نفس وشیطان کا مقابلہ کیا، عمامہ باندھنے پر اَہْلِ خانہ کی طرف سے ہونے والی سختیوں اور آزمائشوں پر صبْر کیا، ایک مرتبہ غالباً سنّتوں بھرے اجتماع میں جانے کی ترکیب تھی، یہ گھر میں آئینہ دیکھ کر عمامہ شریف باندھنے میں مشغول تھے کہ اسی دوران والدصاحب گھر میں داخل ہوئے اور انہیں عمامہ شریف باندھتے ہوئے دیکھ کر غصّے میں یہ کہتے ہوئے کہ کیاپکّے مولوی بن گئے ہو؟ کچن سے ایک چیز اُٹھا کر انہیں دے ماری، مگر انہوں نے صبر کیا اور خاموشی اختیار کی، اس وقت گھر میں پھوپھا جان موجود تھے جنہوں نے آگے بڑھ کر انہیں والد صاحب کی مار پیٹ سے بچالیا، والدہ نے انہیں چھپالیا اور سمجھاتے ہوئے کہا : بیٹا! اپنے والد صاحب کا کہنا کیوں نہیں مان لیتے!! اس پر انہوں نے عرض کی : امّی جان! میں ایسا کونسا غلط کام کررہا ہوں جس کی وجہ سے مجھے اس قدر آزمائشوں سے دوچار کیا جارہا ہے، مجھ سے نفرت کی جارہی ہے ۔ رفتہ رفتہ اَہْلِ خانہ پر فیضانِ دعوتِ اسلامی کا ظہور ہوتا گیا اور گھروالوں نے نہ صرف ان پر تنقید کے تیر برسانے موقوف کردئیے بلکہ دعوتِ اسلامی سے محبّت کرنے والے بن گئے ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ تادمِ بیان ان کے ددھیال، ننھیال اور سسرال والے سب دعوتِ اسلامی کے مشکبار مَدَنی ماحول سے وابستہ ہیں ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
زِیارتِ امیراہل سنّت
ایک بار دعوتِ اسلامی کا 2روزہ سنّتوں بھرا اجتماع زَم زَم نگر حیدر آباد باغِ مصطفٰی گراؤنڈ میں منعقد ہوا، جس میں انہوں نے بھی شرکت کی نیّت کی، مگر گھروالوں کی طرف سے اجازت ملنا دشوار تھی، لہٰذا انہوں نے ماموں جان کی خدمت میں عر ض کی کہ آپ گھر والوں سے اجازت دلوادیجئے، کَرَم ہوگیا اور ماموں جان کی کوشش سے انہیں اجتماع میں شرکت کی اجازت مل گئی، چنانچہ مقررہ دن اجتماع گاہ پہنچ گئے، جہاں کثیر عاشقانِ رسول موجود تھے، روح پرور مناظر تھے، انہیں پہلی بار امیر اہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی زیارت کا شرف نصیب ہوا، جب پہلی نظر رُخِ عطار پر پڑی تو دیکھتے ہی رہ گئے، آخری نشست کے ایمان افروز مناظر نے دل باغ باغ بلکہ باغِ مدینہ بنادیا، اجتماع کے اختتام پر یہ ایمان افروز خواب سُن کر دعوتِ اسلامی کی محبّت مزید دل میں گھر کر گئی کہ دورانِ اجتماع ایک حافظ صاحب کو سرکا ر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ کی زیارت نصیب ہوئی ہے، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَنےان سے فرمایا ہے : الیاس قادری سے کہو کہ ملتان میں جاکر اجتماع کرے ۔ حاضرین بھی یہ ایمان افروز خواب سن کر خوشی سے جھوم اُٹھے ۔
مدینۃ الاولیاءملتان اجتماع پر نور کی برسات
آخر وہ وقت بھی آگیا جب سرکا رصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ کے حکم پر مدینۃ الاولیاء ملتان شریف میں دعوتِ اسلامی کے تحت عظیم الشان سنّتوں بھرے اجتماع کی تیاریاں شروع ہوگئیں، دعوت عام کی جانے لگی، جہاں ان کا دل اجتماع کی خوشی سے جھوم رہا تھا وہاں اجازت نہ ملنے کے بادل بھی منڈلا رہے تھے، نواب شاہ سے عاشقانِ رسول کا مَدَنی قافلہ مدینۃ الاولیاء ملتان شریف جانے کے لئے تیار ہوگیا، اگلے دن روانگی تھی، انہوں نے والد صاحب کی خدمت میں دست بستہ حاضر ہو کر اجازت طلب کی مگر انہوں نے منع کردیا، جب والد صاحب اپنے بستر پر جاکر لیٹے تو یہ اجازت کی غرض سے سرہانے کھڑے ہو گئے، کچھ دیر کے بعد والد صاحب سوگئےاور یہ ساری رات کھڑے رہے، صبح جب والد صاحب بیدار ہوئے تو انہیں کھڑا دیکھ کر حیران رہ گئے، الغرض! اجازت کی ترکیب بن گئی، جیب خرچی بھی مل گئی اور یہ عاشقان ِرسول کے ہمراہ پہلی بار بین الاقوامی سنّتوں بھرے اجتماع کی مَدَنی بہار دیکھنے مدینۃ الاولیاء ملتان شریف پہنچ گئے، انہوں نے وہاں زیارتِ امیرِاہلِ سنّت سے آنکھیں ٹھنڈی کیں، آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے سنّتوں بھرے بیانات سننے کی سعادت حاصل کی، کَرَم بالائےکَرَم یہ کہ انہوں نے اپنے سر کی آنکھوں سے اجتماع گاہ پر نورانی بارش کا رُوح پَروَر منظر دیکھا جس سے ان کا ایمان تازہ ہوگیااور دعوتِ اسلامی کی محبّت وعقیدت مزید دل میں گھر کر گئی، مَدَنی حلیہ ان کے لباس کا حصّہ بن گیا اور یہ دعوت ِاسلامی کےمَدَنی کاموں میں حصّہ لینے لگے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
امیر اہل سنّت سے پہلی ملاقات
ایک بار انہیں گیارہویں شریف کے پُربہار مہینے میں بابُ المدینہ کراچی حاضری کی سعادت نصیب ہوئی، غالباً سعید آباد میں اجتماعِ ذکرونعت کا انعقاد کیا گیاتھا، یہ بھی اجتماع کی برکتیں سمیٹنے پہنچ گئے، اجتماع کے اختتام پرامیراہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے قُرب کی برکتیں نصیب ہوئیں، زیارت کے ساتھ ساتھ آپ سے مُصافَحہ کرنے کا شرف بھی حصّے میں آیا، کَرَم بالائے کَرَم یہ کہ آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے ساتھ بیٹھ کر انہوں نے کھانا تناول کیا، اس دوران آپدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہنے شفقت فرماتے ہوئے اپنے ہاتھوں سے انہیں چند لقمے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع