دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Arakeen-e-Shura Ki Madani Baharain | اراکینِ شوریٰ کی مَدَنی بہاریں

book_icon
اراکینِ شوریٰ کی مَدَنی بہاریں

مصروفیات کی وجہ سے  بھی اپنے علاقے میں کم رہے ۔   مگر اپنے  علاقے میں مَدَنی کام کرنے کی مَدَنی  سوچ تھی جسےعملی جامہ پہنانے کے لئے انہوں نے علاقے کے اسلامی بھائیوں کو مدرسۃالمدینہ و جامعۃ المدینہ میں داخل کرواناشروع کردیا،  یوں  علاقے کے متعدّد اسلامی بھائی حافظ اور مَدَنی بن کر مختلف تنظیمی ذمّہ داریوں پر مَدَنی کام کرنے کی سعادت حاصل کررہے ہیں ۔  اَلْحَمْدُ لِلّٰہ! فیضانِ مرشد سے مَدَنی کام کر تے رہے اور ترقّی کے زینے چڑھتے رہے، یہاں تک کہ اگست 2013؁ء میں مرکزی مجلسِ شوری کے رُکن بن گئے ۔   تادمِ تحریر مجلس جامعۃ المدینہ ( للبنین وللبنات) ، مجلس فیضانِ مدینہ(مدنی مراکز) ، مجلس صحرائے مدینہ، مجلس ائمہ مساجد، مجلس امامت  کورس، مجلس تَخَصُّصْ فِیْ الْفِقْہ ، مجلس اجتماعی قربانی، مجلس لغۃ العربیہ، انگریزی اور چائنہ زبان کورسز اور مجلس المدینہ  لائبریری کے نگران کے طور پر سنّتوں کی خدمت کررہے ہیں ۔   

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب                        صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد

(10) ابو ثَوبان محمّد اطہر عطاری

مبلغِ دعوتِ اسلامی ورُکنِ شوریٰ، ابوثَوبان محمد اطہر عطاریمَدَّ ظِلُّہُ الْعَالِی  نے مَدَنی چینل کے سلسلے’’کھلے آنکھ صَلِّ علیٰ کہتے کہتے‘‘ میں اپنی مَدَنی بہار بیان فرمائی جس کا مفہوم  پیشِ خدمت ہے : ان کا تعلق ماڈرن گھرانے سے تھاجس کی وجہ سےسنّتوں سے دور اور دنیاوی معاملات میں مشغول رہا کرتے تھے، غفلت کا یہ عالم تھا کہ نمازِ جمعہ تک پڑھنے سے محروم  رہتے،  حالانکہ مسجد چند قدم کے فاصلے پر تھی، عام لڑکوں  کی طرح کھیل کود کے شائق تھے ۔ 

مدرسۃ المدینہ کی بہار

ان کی زندگی میں مَدَنی اِنقِلاب رونما ہونے کا سبب یوں بنا کہ  ان کی  کلاس  کے ایک طالبِ علم جو ان کے ساتھ اسکول آتے جاتے، کھیلتے کودتے، ہنسی مذاق کرتے، اچانک ان کا  اندازِ زندگی بدلنے لگا، کھیلنا کودنا، بات کرنا، ہنسی مذاق کرنا ترک کر دیا، سنجیدہ سنجیدہ رہنے لگے، ایک دن اسکول آئے تو ٹوپی سر پر سجی ہوئی تھی، لہٰذا انہوں نے  اس سے پوچھ ہی لیا کہ  کیا وجہ ہے؟  آپ کا اخلاق وکردار اور حلیہ  چینج ہورہا ہے؟ اس نے  بتایا کہ میں  محلے کی مسجد میں لگنے والے  دعوتِ اسلامی کے مدرسۃ المدینہ میں قرآنِ کریم کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے جانے لگا ہوں، قاری صاحب بہت اچھے ہیں، درست مخارج  سےپڑھانے کے ساتھ ساتھ  اخلاقی تربیت بھی فرماتے ہیں، فضول باتوں اور بری عادتوں سے بچنے اور اچھے اخلاق وکردار اپنانے کا مَدَنی ذِہْن دیتے ہیں، جس کی بَرَکت سے مجھے فضول باتوں اور بُرے کاموں سے نفرت سی ہونے لگی ہے،  سنجیدہ اور خاموش رہنے کو جی چاہتا ہے، یہ سن کر انہوں نے  کہا : دیگر مدارِس میں  بھی تعلیمِ قرآن دی جاتی ہے مگر وہاں پڑھنے والوں میں ایسی تبدیلی نہیں دیکھی جاتی اور میں  خود بھی فلاں مدرسے میں پڑھتا ہوں مگر کھیلتا کودتا اور ہنسی مذاق کرتاہوں، میرے اندر تو کوئی تبدیلی نہیں آئی ۔   اس نے کہا : دیکھو! قرآنِ پاک تو ہر مدرسے میں پڑھایا جاتا ہے مگر دعوتِ اسلامی کے مدارِسُ المدینہ میں قواعِد ومخارِج کے ساتھ قرآنِ پاک پڑھانے کے ساتھ ساتھ اس پر عمل کرنے اورسرکارِ دوعالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ کی مُبارَک سنتیں اپنانے کی بھر پور ترغیب دلائی جاتی ہے ۔   دوست کی  یہ باتیں سن کر انہیں  سنّتِ رسول کے بارے میں معلومات حاصل کرنے  کا شوق ہوگیا اور مدرسۃ المدینہ  میں داخلہ لینے کاارادہ کرلیا، مگر مدرسہ علاقے سے دور ہونے کی وجہ  سے حاضر ہونے سے محروم رہے،  اس طرح ایک کلاس فیلو کے ذریعے پہلی بار انہیں  مدرسۃ المدینہ کا تعارُف ہوا، جس مدرسۃ المدینہ  میں  ان کے دوست پڑھتے تھے اس میں قرآنِ کریم کی درست تعلیم کے ساتھ ساتھ سنّتوں کی تربیت کرنے والے قاری صاحب اور کوئی نہیں، دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوری کے رُکن حاجی ابورَجَب محمد شاہد عطاریمَدَّ ظِلُّہُ الْعَالِی تھے ۔ 

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب                        صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد

نورانی چہرے والے نوجوان مبلغ

یہ اُن دنوں کی بات ہے جب  یہ کمرشل ایریا میں رہتے تھے اور کپڑا مارکیٹ کے اوپر  ان کی رہائش تھی، مارکیٹ میں ان کے نانا جان کی کپڑےکی دوکان تھی، اسکول کے بعد کبھی کبھار یہ بھی  دکان پر بیٹھ جاتے، ایک دن یہ  ماموں جان کے ساتھ دکان پر بیٹھے ہوئے  تھے  کہ دریں اثنا  خوشبو سے معطّر، بارونق چہرے والے ایک  نوجوان تشریف لائے جن  کا اندازِگفتگو  بڑا مؤدّبانہ تھا، انہوں نے  پہلی بار سنّتوں کے آئینہ دار عاشقِ رسول کو دیکھا  تو بہت متأثّر ہوئے، قریب جاکر بیٹھ گئے اور ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے لگے،  جب تک وہ اسلامی بھائی تشریف فرمارہے یہ انہیں دیکھتے رہے، ماموں جان نے اسلامی بھائی سے کہا : یہ میرے بھانجے ہیں، اسلامی بھائی نے انہیں  شفقت بھری نظروں سے دیکھا، یہ نورانی چہرے والے نوجوان مبلغ رُکنِ شوری حاجی ابورَجَب محمد شاہد عطاری کے چھوٹے بھائی تھے ۔ 

رُکنِ شوری کی احتیاط

اُن کے ماموں جان کی دکان پر کبھی کبھار مرکزی مجلسِ شوری کے رُکن حاجی محمد شاہِد عطاریمَدَّ ظِلُّہُ الْعَالِی بھی تشریف لاتے اور ماموں جان پر اِنفِرادی کوشش فرماتے، نیز  دعوتِ اسلامی کی مشکبار فضاؤں میں داخل ہونے کی دعوت دیتے، ایک دن بارش برس رہی تھی کہ اس دوران حاجی محمد شاہِد عطاری ماموں جان سے ملنے تشریف لائے، اس وقت  یہ گھر پر تھے،  اچانک ماموں جان  نے دروازہ کھٹکھٹا یا  اور انہیں پانی کا جگ لانے کا فرمایا، لہٰذا یہ پانی کا جگ لے کر دکان پر پہنچے تو  حاجی شاہِد مَدَّ ظِلُّہُ الْعَالِی  کو دیکھ کر ان کا  دل شاد ہوگیا، بارش کی وجہ سے آپ  کے  کپڑوں پر کیچڑ لگی ہوئی تھی، ماموں جان نے  پانی کا  جگ پیش کیا تو  حاجی شاہِد مَدَّ ظِلُّہُ الْعَالِی نے بڑی احتیاط سے اپنے کپڑوں سے کیچڑ دھویا، اس دوران  انہوں نے عرض کی : حضور! پانی تو کولر میں بھی موجود تھا  پھر آپ نے  مزید پانی کیوں منگوایا؟ فرمایا : کولر  میں پینے کے لئے ٹھنڈا  پانی تھا جس سے کپڑے دھونا مناسب نہیں، یہ  احتیاط سن کر  بہت متأثّر  ہوئے، یوں گاہے گاہے اسلامی بھائی ماموں جان کے پاس تشریف لاتے رہے، فکرِ آخرت کا درس دیتے  رہےجس کی بَرَکت سے ماموں جان مَدَنی ماحول سے وابستہ ہوگئے  اور ایک مبلغ کی حیثیت سے دین کی خدمت  کرنے لگے ۔ 

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن