30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
شہرگجرات میں آمدِ عطار
28اگست1993ء میں شہرگُجرات (پنجاب، پاکستان) میں امیرِاہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی آمد کا چرچا ہوا ۔ عاشقانِ رسول بڑے جوش و جذبے کے ساتھ تیّاریوں میں مشغول تھے ۔ سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کرکے ایک ولیٔ کامل کی زیارت اورملفوظات سے بہرہ ور ہونے کی دعوتِ عام کی جاری تھی ۔ ایک عاشقِ رسول نےانہیں بھی شرکت کی ترغیب دلائی مگر انہوں نے معذرت کرلی ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
خواب میں کَرَم ہوگیا
رات جب سوئے تو قسمت انگڑائی لے کر جاگ اٹھی، کیا دیکھتے ہیں کہ ایک مسجد میں حاضر ہیں، پُر کیف سماں ہے، سامنے منبرسے ٹیک لگائے ایک روشن چہرے والے بزرگ جلو ہ افروز ہیں جن کے سر پر عمامہ شریف ہے، سفیدلباس زِیب تن ہے، پیشانی پر سجدوں کانور ہے، انہوں نے بزرگ کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھا، پھر نہایت عاجزی کے ساتھ خدمت میں حاضرہوگئے اور سلام عرض کرتے ہوئے بزرگ کے سامنے بیٹھ گئے، بزرگ نے ان پر توجّہ فرمائی اور مَدَنی پھولوں سے نوازتے ہوئے فرمایا : بیٹا! میں تمہیں دو چیزوں کے بارے میں کہنے آیا ہوں : (1) 28 اگست کو ہونے والے عاشقانِ رسول کے سنّتوں بھرے اجتماع میں ضرور بالضرور شرکت کرنا (2) اور جب بیعت کروائی جائے تو مرید ہوجانا ۔ انہوں نے خواب ہی میں ان دونوں باتوں پر عمل کرنے کی نیّت کرلی، پھر اچانک یہ سُہانامنظر ان کی آنکھوں سے اوجھل ہوگیا ۔ جب بیدار ہوئے تو ان پر ایک عجیب سرور کی کیفیت طاری تھی، بزرگ کاروشن چہرہ ان کی آنکھوں میں بسا ہوا تھا، صبح انہوں نے اپنے دوستوں کو سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کرنے کے ارادے سے آگاہ کیا اور اجتماع کی دعوت عام کرنے میں مشغول ہوگئے، خیرسے 28اگست کا دن آپہنچا اور یہ عاشقانِ رسول کے ہمراہ نعت پاک اور درود وسلام کی صداؤں میں جھومتے ہوئے اجتماع گاہ پہنچ گئے جہاں کثیر تعداد میں عاشقانِ رسول جمع تھے، ہرطرف عماموں کی بہار تھی، عاشقانِ رسول کے ہجوم میں یہ تمنا دل میں لئے آگے بڑھے کہ جس عظیم شخصیت کی بیعت کا حُکم انہیں دیا گیاہے بس جلد از جلد اُن کے دیدار سے آنکھیں ٹھنڈی کرلوں، جب منچ کے سامنے پہنچے تو یہ دیکھ کر حیرت کی انتہا نہ رہی کہ چند رات قبل جو با عمامہ روشن چہرے والے بزرگ سنّتوں بھرے اجتماع اور بیعت کی دعوت دینے ان کے خواب میں تشریف لائے تھے وہ کوئی اورنہیں بلکہ شیخِ طریقت، امیراہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ تھے، رُخِ عطار دیکھ کر دل شاد اور ایمان تازہ ہوگیا، جب امیرِاہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے حاضرین کو مرید کیا تویہ بھی سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ عطاریہ میں داخل ہو کر ولیوں کے سردار حضور غوثِ اعظم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم کے غُلاموں میں شامل ہو گئے ۔
جمیلِ قادری سو جاں سے ہو قُربان مُرشد پر
بنایا جس نے تجھ جیسے کو بندہ غوثِ اعظم کا([1])
اُس وقت سے بار بار یہ خیال ان کے دل میں آتا کہ میں خود دامنِ عطار سے وابستہ نہیں ہوا بلکہ مرشد کی دعوت اور حُکم پہ ہوا ہوں، ضرور بالضرور مُرشِدنے انہیں کسی کام کے لئے چُنا ہوگا، یوں انہیں دعوتِ اسلامی سے وابستگی نصیب ہوگئی اور انہوں نے حفظِ قرآن کے بعد درسِ نظامی کے لئے جامعۃ المدینہ میں داخلہ لے لیا، زمانۂ طالبِ علمی میں بہت سی آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑا مگر مرشِد کی نگاہِ فیض سے ان کے پائے استقلال میں لغزش نہیں آئی ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی مرکز فیضانِ مدینہ کاہنہ نو(فیروز پور روڑ) مرکزالاولیا ء لاہور کے جامعۃ المدینہ سے دورۂ حدیث کرنے کا شرف پایا اور طویل عرصہ اسی جامعۃ المدینہ میں تدریس میں مصروف ہونے کے ساتھ ساتھ دعوت ِاسلامی کے دیگر مَدَنی کاموں میں شریک ہوکر امیر اہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے فیضان سے مستفیض ہوتے رہے ۔ مَدَنی قافلوں میں سفر کی سعادت حاصل کرتے رہے جس کے ذریعے لوگوں کی بے عملی کے ایسے واقعات دیکھنے کو ملے کہ آج بھی جب وہ ان کے ذِہْن کی سطح پر ابھرتے ہیں تو ان پر ایک اضطراری کیفیت طاری ہوجاتی ہے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
زندگی کا پہلا اعتکاف
زندگی کا پہلا اعتکاف انہوں نے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہونے کے بعد 1990 یا 1998ء میں کیا، مَدَنی مرکز کی طرف سے انہیں کوٹلہ ارب علی خان کی مرکزی جامع مسجد میں اعتکاف کروانے کے لئے بطورِ مبلغ بھیجا گیا تھا، یہ آپ کا پہلا اعتکاف تھا، اس اعتکاف میں تقریباً 20اسلامی بھائی شریک ہوئے ۔
تعویذاتِ عطاریہ کی مَدَنی بہار
ایک بار ان کی پیشانی کے بالائی حصّے پر ایک پھوڑا بن گیا، ابتداءً اس میں درد وغیرہ نہیں تھا بعد میں درد شروع ہوگیا، وقتاً فوقتاً اس سے پیپ رسنےلگا جس کی وجہ سے وضو و نماز وغیرہ میں سخت آزمائش کا سامنا ہونے لگا، جہلم کے ایک اسپتال میں علاج کے لئے جانا ہوا تو ڈاکٹرصاحب نے انہیں آپریشن تجویز کردیا، کیفیت ایسی تھی کہ انہوں نے بخوشی آپریشن کروالیا، آپریشن کے بعد کچھ بہتری آئی مگر چند ماہ کے بعد دوبارہ وہی کیفیت بن گئی، ڈاکٹرصاحب نے ایک بار پھر آپریشن تجویز کردیا مگر اس بار آپریشن کروانے کی بجائے اُنہوں نے مجلس مکتوبات وتعویذات عطاریہ کے ذمّہ دار سے دم کروایا اور کاٹ کے لئے اپنا نام پیش کردیا، اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کاٹ کے مسلسل عمل کی بَرَکت سے وہ پھوڑا بغیر آپریشن کے ایسا غائب ہوا کہ پھر ظاہر نہ ہوا ۔
دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہونے کے بعد عموماً ان کا زیادہ وقت حصولِ علمِ دین کے لئے مختلف شہروں میں بسر ہوا، درسِ نظامی سے فراغت کے بعد تدریسی و تنظیمی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع