30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کعبہ کا طواف کیا اور مغفرت کے لئے دعا مانگی ۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ! اب تک مَدَنی تربیت گاہ (دارُ السُّنَّہ) عالَمی مَدَنی مرکز فیضان مدینہ باب المدینہ (کراچی) ، کورسز مجلس، مجلس مَدَنی قافلہ بابُ المدینہ (کراچی) ، مجلس مَدَنی قافلہ پاکستان ، صوبہ کورنگی، ضیائی کابینہ سندھ اور بلوچستان کی نگرانی کے فرائض انجام دینے کا شرف حاصل کرچکے ہیں اور تادمِ بیان مجلس مَدَنی قافلہ، مجلس دارُ السُّنَّہ، بلالی ممالک اور رضوی زون کے نگران کی حیثیت سے دین کی خدمت کر رہے ہیں ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
(8) سیّد محمّد عارِف علی عطّاری
مبلغِ دعوتِ اسلامی ورکنِ شوریٰ ابو واصف سیّد محمد عارف علی عطاری مَدَّ ظِلُّہُ الْعَالِی کی مَدَنی بہار کا خلاصہ کچھ یوں ہے کہ ابتداءً اُنہیں دعوتِ اسلامی اور امیرِاہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی شخصیت کے بارے میں معلومات نہیں تھی، 1998ء میں انہیں دعوتِ اسلامی کا مشکبار مَدَنی ماحول نصیب ہوا، سبب یوں بنا کہ یہ جامع مسجد سنگ منیر (ضلع احمدآباد، مہاراشٹر) میں نماز پڑھنے جاتے تھے، اُس مسجد کے اِمام صاحِب نماز کے بعد درسِ فیضانِ سنّت دیا کرتےتھے جس میں انہیں بھی شرکت کی سعادت ملتی، انہیں فیضانِ سنّت (قدیم) کا باب’’ذِکْر کی فضیلت‘‘ بہت اچھا لگا، یوں درسِ فیضانِ سنّت کی برکت سے جہاں انہیں دعوتِ اسلامی کا تعارُف ہوا وہاں آہستہ آہستہ مَدَنی ماحول سے وابستگی اور فکرِ آخرت نصیب ہونے لگی، قادرشاہ بابا (بڑی) مسجد مغل پورہ میں ہونے والے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کرنے لگے، اس کے علاوہ بھی دعوتِ اسلامی کے دیگر سنّتوں بھرے اجتماعات میں شرکت اور سنّتوں پر عمل کرنے کا مَدَنی ذِہْن بننے لگا ۔
دعوتِ اسلامی کے مشکبار مَدَنی ماحول سے وابستہ ہونے کے بعد انہیں نیکی کی دعوت عام کرنے کی سعادت ملنے لگی، پہلی بار مسجد میں درسِ فیضانِ سنّت دیا تو اسلامی بھائیوں نے بڑے پیار بھرے انداز میں ان کی حوصلہ افزائی فرمائی جس کی بَرَکت سے مَدَنی کام کرنے کا جذبہ مزید بڑھا، اسلامی بھائیوں کے ہمراہ گاؤں کے اطراف میں جاکر بھی نیکی کی دعوت عام کرنے کی سعادت حصے میں آنے لگی ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ! مَدَنی کاموں کے حوالے سے گھر والوں کا تعاوُن ہمیشہ شاملِ حال رہا، ان کے والد صاحب فرماتے تھے : اگر تمہیں راہِ سنّت میں شہادت بھی نصیب ہوگئی تو یہ ہمارے لئے قیامت کے دن باعثِ فخر ہوگا ۔ چنانچہ انہوں نے خود کو مَدَنی کاموں کے لئے وقف کرلیا ۔
مَدَنی قافِلے کی نیّت کی بَرَکت
غالباً2007ء کی بات ہے کہ ان کے والد صاحب کو فالج ہوگیا، معاشی حالات بھی کمزور تھےجس کی وجہ سے انہیں پریشانی کا سامنا تھا، ایک دن والد صاحب کوسنگمنیر(ہند) کے مشہور و معروف بزرگ حضرتِ سیّدنا شاہ شبلی چشتی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی بارگاہ میں لے کر حاضر ہوئے اور صاحبِ مزار کے وسیلے سے صحّت یابی کی دعا مانگی، اس کے بعد والدصاحب کو ایک سرکاری اسپتال میں داخل کروادیا ۔ ان ہی دنوں ان کی والدہ کے پیٹ میں بھی تکلیف رہنے لگی، جب ایک پرائیوٹ اسپتال میں چیک اپ کروایاتو ڈاکٹر نے والدہ محترمہ کے پیٹ میں گانٹھ بتاتے ہوئے کینسر کے خطرے کا انکشاف کیا اور ہاتھوں ہاتھ چیک اپ کے لئے انہیں بمبئی لے جانے اور کینسر کے انکشاف کے بعد فوراً آپریشن کروانے کی تاکید کی، جس کی وجہ سے مزید ان کی پریشانی میں اضافہ ہوگیا، یہ خیال انہیں بے قرار کرنے لگا کہ اگر والدہ کی رپوٹ میں کینسر ظاہر ہوگیا تو کس طرح آپریشن کے اخراجات کی ترکیب ہو سکے گی ۔ چنانچہ ایک دن انہوں نے اللّٰہ تَعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کرتے ہوئے یہ نیّت کی کہ اگر ان کی پریشانی دور ہوگئی تو 92دن کے مَدَنی قافلے میں سفر کریں گے ۔ کَرَم ہوا اور چند ہی دنوں میں ان کے والد صاحب کی طبیعت کافی حدتک ٹھیک ہوگئی اور والدہ محترمہ کے سر سے سے بھی کینسر کا خطر ہ ٹل گیا، ان کا حُسنِ ظن ہے کہ یہ سب دعوتِ اسلامی کے مَدَنی قافلے میں سفر کرنے کی نیّت کی بَرَکت سے ہوا ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ یوں تو ان کے والد صاحب کافی حدتک ٹھیک ہوچکے تھے مگرایک ہاتھ مکمل طور پر حرکت نہیں کرتا تھا جس کی وجہ سے پریشانی تھی، 2005ء میں مرکزی مجلسِ شوری کے اراکین و نگران کی ہِنْد تشریف آوری ہوئی، چنانچہ یہ اپنے والد صاحب کو لے کر ان کی خدمت میں حاضر ہوگئے اور ہاتھ حرکت نہ کرنے کے بارے میں عرض کردی، نگرانِ مرکزی مجلس شوری مولانا محمد عمران عطاری مدّظلّہ العالی نے شفقت فرماتے ہوئے ان کے والد صاحب کے کندھے پر ہاتھ پھیر کر دم کردیا جس کی بَرَکت یوں ظاہر ہوئی کہ والدصاحب کا ہاتھ مکمل ٹھیک ہو گیا ۔
بیرونِ ملک مَدَنی کاموں کے لئے سفر
اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ سنتیں عام کرنے کیلئے ان کی 2بار ملائیشیا جانے کی ترکیب بنی، جہاں انہوں نے مدرسۃ المدینہ بالغان کا آغاز کیا، اور اسے آباد کرنے کے لئے عاشقانِ رسول کو مدرسۃ المدینہ بالغان میں شرکت کرنے کا مَدَنی ذِہْن دیا جس کی بَرَکت سے چند اسلامی بھائی مدرسے میں شریک ہونے لگے، ان میں بعض وہ تھے جو بدعقیدہ لوگوں کا شکار ہورہے تھے مگر جب انہیں مدرسۃ المدینہ بالغان کی پاکیزہ فضا نصیب ہوئی تو وہ نہ صرف دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہوگئے بلکہ سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ عطاریہ میں داخل ہو کر عطاری بن گئے، عمامہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع