دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Arakeen-e-Shura Ki Madani Baharain | اراکینِ شوریٰ کی مَدَنی بہاریں

book_icon
اراکینِ شوریٰ کی مَدَنی بہاریں

انہوں  نے عرض کیا : آپ مجھے جو ذمّہ داری عطا فرمائیں گے میں حاضر ہوں، آپ کے در کا سگ ہوں، جہاں باندھ دیں گے بندھ جاؤں گا، پھر امیرِ اہلِ سنّت  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ   نے پوچھا : آپ کشمیری ہیں؟ انہوں نے عرض کیا : حضور! میں کشمیری نہیں، عطاری ہوں ۔   یوں انہیں مرکزی مجلسِ شوریٰ کی رُکنیت حاصل ہوگئی ۔   تادمِ تحریر پاکستان انتظامی کابینہ، مجلس فالو اپ (Follow Up) ، مجلس مکتوبات و تعویذات عطاریہ، مجلس کارکردگی، مجلس کارکردگی فارم و مَدَنی پھول، مجلس تنظیمی شکایات و تجاویز اور مجلسِ جدول و جائزہ کے نگران کی حیثیت سے دینِ متین کی خدمت کی سعادت پارہے ہیں ۔   

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب                        صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد

(6) حاجی ابو مَدَنی عبدُ الحبیب عطّاری

مبلغِ دعوتِ اسلامی ورُکنِ شوریٰ، حاجی ابو مَدَنی عبد الحبیب عطاری مَدَّ ظِلُّہُ الْعَالِی    کے والد صاحب یعقوب گَنگ عطاری کو امیرِاہلِ سنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کی صحبت سے فیض یاب ہونے کا موقع  ملا، کبھی والد صاحب خدمتِ عطار میں حاضر ہوتے تو کبھی امیرِاہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہشفقت فرماتے ہوئے ملاقات کے لئے تشریف لے آتے، یوں انہیں بھی  بچپن ہی سے زیارتِ امیراَہلِ سُنّت  کا سنہری موقع ملتا رہا ۔ 

ماڈرن ماحول کے اثرات

جب ان کی عمر تقریباً  13یا 14 سال کی ہوئی تو یہ کھارادر سے کلفٹن  شفٹ ہوگئے،  جس کی وجہ سے امیرِ اہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کے قُرب سے دوری ہوگئی، شہید مسجد کی حاضری  کم ہوگئی ۔  کلفٹن کا ماحول کافی ماڈرن تھا، لہٰذا ان پر بھی اثرات مرتب ہونے لگے، فیشن کرنا،  قیمتی پینٹ شرٹ اور جوتے پہننا  ان کا شوق بن گیا،  کھیل کے بھی اس قدر شوقین ہوگئے کہ اسکول سے چھٹی ہوتے ہی کھیل کود میں مشغول ہوجاتے، الغرض! یوں ان کی  زندگی کے لیل ونہاربسر ہونے لگے ۔ 

مَدَنی بَہَار

ایک مبلغِ دعوتِ اسلامی انہیں کھیل کے میدان میں ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع کی دعوت دینے تشریف لاتے، مگر  یہ انہیں ٹال دیتے، کبھی جھاڑ دیتے  مگر قربان جائیے اسلامی بھائی کی استقامت پر! وہ حوصلہ نہ ہارے  اور وقتاًفوقتاً نیکی کی دعوت  کا سلسلہ جاری رکھا،  کَرَم ہوا اور مسلسل انفرادی کوشش رنگ لے آئی، آخر کار اسلامی بھائی کے ہمراہ انہیں ہفتہ وار سنّتوں بھرے  اجتماع میں حاضری کی سعادت مل گئی، انہیں  دعوتِ اسلامی کی بہاریں اس قدر اچھی لگیں کہ انہوں نے مدرسۃ المدینہ بالغان میں پڑھنے کا آغاز کردیا جہاں اسلامی بھائی انہیں محنت سے پڑھاتے اور درس دینا سکھاتے، یوں  رفتہ رفتہ مَدَنی رنگ میں رنگتے چلے گئے اورمَدَنی کاموں میں حصہ لینا ان کا معمول بن گیا ۔   میلاد شریف یا گیارھویں شریف کے مبارک ایّام آتے تو انہیں ایک عجب سُرور نصیب ہوتا، ککری گراؤنڈ میں ہونے والے اجتماعِ ذکرو نعت کی  دعوت عام کرنے کے لئے انہیں مَدَنی قافلے میں سفر کرنے کی سعادت بھی  حاصل ہوتی ۔ 

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب                        صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد

اجتِماعات میں شرکت کا شوق

انہیں دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے سنّتوں بھرے اجتماعات میں شرکت کرنے  کا بہت شوق تھا، گلزارِ حبیب مسجد میں ہونے والے سنّتوں بھرے اجتماع میں جب کبھی  دیگر اجتماعات کا اعلان ہوتا  تو ایڈریس نوٹ کرلیتے اور وقتِ مقرّرہ پر  بس میں سوار ہوکر  بیانِ امیراہلِ سنّت سے مستفیض ہونے کے لئے پہنچ جاتے، یوں جہاں امیراہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کی زیارت سے آنکھیں  ٹھنڈی کرتے وہاں آپ کے علم وحکمت سے بھرپور مَدَنی پھولوں سے دل کے گلدستے کو سجانے کی سعادت حاصل کرتے ۔   اجتماع کے اختتام پرمکتبۃ المدینہ کے اسلامی بھائیوں کے ہمراہ شہید مسجد کھارادر پہنچتے  اور رات مسجد میں قیام کرتے اور صبح بس میں بیٹھ کر گھر روانہ ہوجاتے، گھر والوں کی طرف سے انہیں  مَدَنی کام کرنے کے  بارے میں  کسی قسم کی روک ٹوک نہیں تھی ۔   گھروالوں کی مکمل سپورٹ انہیں   حاصل رہی،  گھر والوں کی بس یہی  تمنّا ہے کہ یہ  دعوتِ اسلامی کی ترقّی وعروج کے لئے اپنی خدمات پیش کرتے رہیں ۔   والدہ مرحومہ کی دعائیں اور شفقتیں ہمیشہ ان کے  شاملِ حال رہیں ۔ 

والدہ مرحومہ کی شفقتیں

امیراَہلِ سنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے فیضان سے والدین کا بے حد ادب واحترام  کرنے والے ہیں، تنظیمی مصروفیات کے باعث انہیں  والدہ مرحومہ کی خدمت کرنے  کی سعادت کم میسّر آتی تھی، مگر جب گھر پر ہوتے تھے  تو ان کی یہی کوشش ہوتی کہ والدہ کی زیارت وخدمت کرکے زیادہ سے زیادہ  اجروثواب حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں ۔   والدہ مرحومہ بھی  ان سے بہت زیادہ پیار کرتی تھیں، جب گھر جاتے تووہ بہت خوش ہوتیں اور  ان کی پسند کے کھانے بناتیں ۔   جب تک یہ گھر نہیں پہنچ جاتے اس وقت تک کھانا تناول نہ فرماتیں، والدہ مرحومہ کی یہ  شفقت ومحبّت دیکھ کر ان کے دیگر بہن بھائی جب والدہ  سے عرض  کرتے : آپ ہم سے زیادہ  عبدالحبیب بھائی سے  پیار کرتی ہیں؟ تو والدہ مسکراتے ہوئے یہ جملہ ارشاد فرماتیں : ’’وہ مجھو سکھیارو آئے‘‘ (یعنی وہ مجھے سب سے زیادہ پیارا ہے) ۔ 

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب                        صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد

ہر سال حَرَمَین طَیّبَیْن کی حاضری

امیرِاہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے جب اُمّتِ مسلمہ کی خیرخواہی کے عظیم جذبے کے تحت حج کے موضوع پر کتاب لکھنے کی ضرورت محسوس فرمائی تو  پُر سکون ماحول اور یکسوئی سے لکھنے کے لئے ان کے گھر  کی اوپری منزل پر قیام فرمایا، اُس  وقت ان کی  عمر  تقریبا15 سال ہوگی، اس دوران جب کبھی  انہیں کوئی مسئلہ درپیش ہوتا، یا بہن بھائیوں سے لڑائی ہوجاتی  تو آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کی  خدمت میں پہنچ کر اپنی عرض پیش کرتے جو کہ  خلل کا باعث بنتا مگر آپدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  ناراض ہونے کی بجائے  شفقت فرماتے اور مَدَنی پھولوں سے نوازتے ۔   

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن