دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Arakeen-e-Shura Ki Madani Baharain | اراکینِ شوریٰ کی مَدَنی بہاریں

book_icon
اراکینِ شوریٰ کی مَدَنی بہاریں

تھے اور  اسکول پڑھانے ٹوپی پہن کر ہی جایا کرتے تھے، اِسٹاف میں ایک شخص جو  دعوتِ اسلامی کا مخالف تھا وہ اِسی وجہ سےان کی مخالفت کرتا، جب  انہیں معلوم ہوا کہ فلاں شخص دعوتِ اسلامی کی وجہ سے اِن کی  مخالفت کرتاہے تو  انہیں ایسی  مَدَنی ضِد چڑھی کہ عمامہ شریف سجا کر اسکول میں تدریس کے لئے جانے لگے،  اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ   یوں اسکول میں دورانِ تدریس عمامہ شریف باندھنے کی ترکیب بن گئی ۔ 

لباس اپنا سنّت سے آراستہ ہو      عِمامہ ہو سر پر سجا یاالٰہی([1])

پیر و مرشد سے  پہلی ملاقات

امیرِاہلِ سنّت  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  سے پہلی ملاقات کا شرف یوں حاصل ہوا کہ ان کے  ایک کلاس فیلو جن کا نام احمد رضاتھا، ان کے بڑے بھائی محمد اسلم عطاری  ان کے محلّہ دار اور بڑے بھائی کے دوست تھے، انہوں نے ملاقات کروائی ۔   بارگاہ امیرِاہلِ سنّت میں ان کا تعارف کچھ یوں کروایا گیا  کہ ان کا نام محمد شاہد ہے، کرکٹ کھیلتے ہیں ۔   جب ایک ولیٔ   کامل کی بارگاہ میں ان کے بارے میں اس طرح بتایا گیا تو قلبی طور پر انہیں اچّھا نہیں لگا ۔   امیراہل سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  نے  ان کے بارے میں سن کر کوئی لیکچر نہیں دیا، ڈانٹا نہیں بلکہ  ان  پر نظرکرم فرماتے رہے، اس ملاقات کے تقریباً 6 ماہ بعد جب دوبارہ امیرِاہلِ سنّت  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ    کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے  انہیں  نام لے کر پکارا، ایک ولیٔ   کامل کی زبانِ مبارک سے اپنا نام سن کر قلبی طور پر خوشی محسوس ہوئی کہ حضرت صاحب کو ابھی تک نام یاد ہے، آپ نے ارشاد فرمایا : کرکٹ کا کیا ہوا؟ اُس وقت  تک انہوں نے کرکٹ نہیں چھوڑی تھی، لہٰذا انہوں نے دل ہی دل میں نیّت کی کہ آئندہ نہیں کھیلوں گا اور فوراً کہہ دیا : میں نے  کرکٹ کھیلنا چھوڑ دیا، آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  نے سوال فرمایا : آخری میچ کب کھیلا؟ عرض کی : جمعہ کے روز، مسکراتے ہوئے نرمی سے ارشاد فرمایا : پھر آپ نے کیا چھوڑا؟ اِس کے بعد اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ    کرکٹ سے دل اُچاٹ ہو گیا ۔ 

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب                        صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد

مَدَنی ماحول کی برکت

امیرِاہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے بارے میں ان کا یہ ذِہْن بن چکا تھا کہ آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  خوفِ خدا اور عشقِ مصطفٰے کی نعمت سے مالامال ہیں مگر ابھی تک مرید نہیں ہوئے تھے، اس کی وجہ یہ تھی کہ مَدَنی ماحول سے پہلے نہ انہیں  بیعت کے بارے میں علم تھا، نہ ہی غوثِ پاک اور اعلیٰ حضرت رحمہما اللہ تعالی کے بارے میں معلومات تھی، اَلْحَمْدُ لِلّٰہ امیرِ اہلِ سنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کا صدقہ ہے کہ اب  اعلیٰ حضرت کا نام بھی آتاہے، حدائق بخشش کے  نہ صرف سینکڑوں اشعار یاد ہیں  بلکہ سمجھ بھی آتے ہیں، فتاوی رضویہ پڑھنا بھی  نصیب ہوتا ہے اورترجمۂ قرآن ’’کنزالایمان‘‘ تو مکمل پڑھ چکے ہیں، ترغیباتِ امیرِ اہلِ سنّت اور مَدَنی ماحول کی برکت سے تادمِ بیان انفرادی کوشش سے سینکڑوں ’’کنزالایمان‘‘ اُمّتِ مصطفٰے تک پہنچانے کی سعادت حاصل کرچکے ہیں ۔ 

بیعت کا شرف

ایک سیّد صاحب  بابُ المدینہ(کراچی) سے نواب شاہ تشریف لائے، محمدی مسجد عرف ملنگ والی میں اعتکاف  کی ترکیب تھی، کم وبیش دس اسلامی بھائیوں نے اعتکاف کیا، انہیں سیّد صاحب کی صحبت ملی، سیّد صاحب  نے انہیں سیرتِ  امیر ِ اہلِ سنّت کے حوالے سے مزید بتایا، جس کی بَرَکت سے یہ  عید الفطر پر سیّد صاحب کے ساتھ باب المدینہ (کراچی) حاضر ہو کر پچھلے گناہوں سے توبہ کر کے امیراہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے ذریعے سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ عطّاریہ میں داخل ہوگئے ۔ 

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب                        صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد

مدرسۃ المدینہ بالغان میں تدریس

دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہونے کے بعد سب سے پہلی ذمّہ داری انہیں مدرسۃ المدینہ بالغان پڑھانے کی ملی، البتّہ اُس وقت مدرسۃ المدینہ بالغان کی اِصطِلاح نہیں تھی، سبب یوں بنا کہ جو اسلامی بھائی مدرسہ پڑھاتے تھے وہ روزگار کے سلسلے میں بابُ المدینہ (کراچی) چلے گئے اور  انہیں مدرسہ بالغان پڑھانے کی سعادت مل گئی، اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ   اُس مدرسۃ المدینہ بالغان میں پڑھنے والے اسلامی بھائیوں کو دعوتِ اسلامی کی اَہم ذمّہ داریاں نبھانے کا شرف حاصل ہوا ۔ 

مکتبۃ المدینہ کا بستہ لگایا

اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ  انہیں مکتبۃ المدینہ کے بستے پر بھی اپنی خدمات پیش کرنے کا موقع ملا، ایک عرصے سے مکتبۃ المدینہ کا سامان ایک کمرے میں رکھا ہوا تھا، ایک دن  انہوں  نے نگرانِ شہر مُشاوَرت سے پوچھاکہ مکتبۃ المدینہ کا سامان اس طرح ایک کمرے میں کیوں رکھا ہوا ہے؟ بستہ کیوں نہیں لگاتے؟ انہیں بتایا گیا کہ بستہ لگانے والا کوئی نہیں ہے، انہوں نے کہا : میں بستہ لگاؤں گا، یوں انہیں ایک عرصہ تک مکتبۃ المدینہ کے بستے پر فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہ خدمت پیش کرنے کی سعادت ملی، اُس بستے سے امیرِ اہلِ سنّت  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے بیانات کی بہت سی آڈیو کیسٹیں فروخت  ہوئیں، اِسی طرح جب انہیں پنجاب، سرحد، کشمیر، خیبر پختونخواہ کی ذمّہ داری  ملی  تو  جب رمضان المبارک میں معتکفین سے ملنے جاتے تو بڑے ذمّہ داران سے پیشگی طے کرلیتے کہ اِتنی اِتنی آڈیو کیسٹیں آپ نے لینی ہیں ۔   اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ  اس طرح بھی انہوں نے ایک لاکھ سے زائد بیاناتِ امیراہلِ سنّت کی کیسٹیں عام کیں ۔ 

سردار آباد شفٹ ہونے کا سبب

آپ نواب شاہ سے سردار آباد (فیصل آباد) شفٹ ہوگئے تھے، اس کا سبب یوں بنا کہ جب انہیں مَدَنی کاموں کے لئے سردارآباد جانے کا حکم مِلا تو  انہوں  نے والدہ ماجدہ سے اجازت



2   وسائلِ بخشش (مرمّم) ، ص١٠٤ ۔   مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، باب المدینہ کراچی

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن