30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہوتی تھی، کبھی سیٹ نہ ملتی تو بغیر سیٹ کے سوار ہوکر آنا پڑتا، اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ ! دعوتِ اسلامی کامَدَنی کام کرنے کے ساتھ ساتھ درسِ نظامی(یعنی عالم کورس) کا سلسلہ بھی جاری رہا، چند دَرَجے دارُالعلوم امجدیہ (عالمگیرروڈ باب المدینہ کراچی) میں پڑھنے کا موقع ملا، ساتویں دَرَجے میں پہنچ کر پڑھائی موقوف کردی ۔ تادمِ تحریر دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے نگران کی حیثیت سے دعوتِ اسلامی کی ترقّی وعروج کے لئے کوشاں ہیں ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
تُوْبُوْا اِلَی اللہ اَسْتَغْفِرُ اللہ
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
(5) حاجی ابو رَجَب محمّد شاہِد عطّاری
مبلغِ دعوتِ اسلامی و رکنِ شوریٰ، حاجی ابو رَجَب محمد شاہِد عطاری مُدَّظِلُّہُ العَالِی کی ولادت 1965-05-17کو نواب شاہ میں ہوئی، ان کا گھرانہ متوسّط تھا، والد صاحب کا نام محمد خورشید تھا اور نقشبندی سلسلے میں بیعت تھے، نہ صرف خود نمازوں کے بہت پابند تھے بلکہ خوب نماز کی تاکید بھی کرتے تھے، بالخصوص فجر کی نماز کے لئے سب گھر والوں کو اُٹھایا کرتے ۔ رُکنِ شوری ابھی چھوٹے تھےکہ ان کی پوری فیملی مرکز الاولیاء لاہور شفٹ ہو گئی، ایک عرصے تک وہاں قیام رہا اورپھر دوبارہ نواب شاہ آ گئے، عام بچوں کی طرح بچپن میں کھیلنا کودنا اور غفلت میں وقت گزارنا، گلی محلے میں لڑائی جھگڑے کرنا ان کا معمول تھا، مَدَنی ماحول میں آنے سےقبل کیرم، شطرنج اور لُڈو جیسے فضول کھیلوں میں اپنا وقت برباد کرنے اوراپنےبھائیوں کے ساتھ مل کر تاش کھیلنے کا سلسلہ بھی تھا، اسکول لائف (School Life) میں کرکٹ کے شوقین تھے، جب یہ کالج میں پہنچے تو کرکٹ کھیلنے کا شوق جُنون کی حد تک جاپہنچا، ان کی کارکردگی دیکھتے ہوئے ایک کالج کے اسپورٹس انچارج نے انہیں باقاعدہ اپنے کالج میں ٹرانسفر کروا کرنہ صرف کرکٹ ٹیم میں شامل کیا بلکہ ٹیم کی کپتانی ہی ان کے سپرد کردی، یوں ان کا کالج کا زمانہ بھی غفلتوں کی نَذْر ہوگیا ۔
گیند کیچ تو کرلی مگر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
کرکٹ کھیلنے کا اِس قدر جنون تھا کہ خوابوں خیالوں میں بھی کرکٹ کھیلتے رہتے، ایک بار یوں ہوا کہ گرمیوں کے دن تھے، دوپہر کا وقت تھا، یہ سو ئے ہوئے تھے، خواب ہی خواب میں کرکٹ کے میدان (Cricket Ground) میں پہنچ گئے، سنسنی خیز میچ جاری تھا، اچانک گیند (Ball) فضا میں اُچھلی، انہوں نے اُسے کیچ (Catch) کرنے کے لئے جست (Dive) لگائی اور اُسے پکڑنے میں کامیاب ہو گئے اورساتھ ہی آنکھ بھی کھل گئی مگر یہ دیکھ کر بہت شرمندہ ہوئے کہ قریب ہی آرام فرما والد صاحب کے اوپر گِرے ہوئے تھے ۔ الغرض! کرکٹ کا ایسا جُنون ان کے سر پر سوار رہتا تھا کہ اُس وقت پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم (National Cricket Team) میں جتنے بھی نمایاں کھلاڑی (Players) تھے اُن سب کے ریکارڈز(Records) ، سنچریاں (Centuaries) ، نصف (Half) سنچریاں، کیچز (Catches) اور وکٹیں (Wickets) انہیں حفظ تھیں ۔ اِسی طرح کرکٹ اسپورٹس میگزین ہر ماہ لینے اور شوق سے پڑھنے کے بھی ایسے شوقین تھے کہ جب ہاتھ لگتا تو اسے اکثر یا مکمل پڑھے بغیر نہ سوتے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
نواب شاہ میں آمدِ امیرِ اَہل سُنّت
نواب شاہ میں واقع محمدی مسجد عرف ملنگ والی میں سنّتوں بھرے اجتماع کا انعِقاد ہوا جس میں امیرِ اہلِ سنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی آمد ہوئی، کم وبیش 50 شُرَکا ہوں گے، امیرِ اہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے اس اجتماع میں ایک قریبی مسجد کے امام حافظ غلام یاسین (مرحوم) کو نواب شاہ کا امیرِ دعوتِ اسلامی مقرر فرمایا، ([1]) محمدی مسجد عرف ملنگ والی کے امام و خطیب حافظ محمد مصری رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ جوکہ مُحَدِّثِ اعظم پاکستان حضرتِ علّامہ مولانا محمد سردار احمدرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے شاگرد و مُرید تھے، اُن کی سرپرستی اور ایک اور اسلامی بھائی ڈاکٹر شمیم (مرحوم) کے تعاون و کوشش سے نواب شاہ میں دعوتِ اسلامی کے مَدَنی کاموں کی داغ بیل پڑی ۔
عطا ہو دعوتِ اسلامی کو قَبولِ عام اسے شُرُور و فِتَن سے سدا بچا یارب([2])
مَدَنی بَہَار
١٤٠٢ھ مطابق 1982ء کی بات ہے، یہ میٹرک میں پڑھتے تھے، ان کے ایک کلاس فیلو جن کا نام احمد رضا تھا اور خاندانی پکے سُنّی تھے، انہوں نے دعوتِ اسلامی کے سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی دعوت دی، یہ اجتماع محمدی مسجد عرف ملنگ والی شہر نواب شاہ بابُ الاسلام (سندھ) میں ہوتا تھا، انہوں نے یہ کہہ کر اس دعوت کو رد کر دیا کہ میں اہلِ سُنّت کے اجتماع میں نہیں جاتا ۔ کچھ عرصے بعد ایک مبلغِ دعوتِ اسلامی کا نواب شاہ کی ایک مسجد میں بیان تھا، جس کی انہیں بھی دعوت دی گئی، خوش قسمتی سے اس بار انہوں نے بھی شرکت کی سعادت پائی، مبلغ اسلامی بھائی نے موت کے موضوع پر دل ہلا دینے والا بیان کیا پھر ذکر و دعا کا سلسلہ ہوا، مبلغِ دعوتِ اسلامی نے حمد و صلوٰۃ کے بعد بہت ہی پُرسوز انداز کے ساتھ اس شعر سے دعا کا آغاز کیا :
خَلْق کے راندے ہوئے دنیا کے ٹھکرائے ہوئے
آئے ہیں یاربّ تیرے در پر ہاتھ پھیلائے ہوئے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع