30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بھر فلمیں دیکھیں ۔ جب میں باہر نکلا تو لوگ نمازِ فجر کیلئے جارہے تھے ۔ میرے پیر کی توجُّہ سے مجھے احساس ہوا کہ یہ میں کیا کر رہا ہوں! بہرحال جب میں مرکز الاولیاء اجتماع میں حاضر ہوا توانفرادی کوشش کرنے والے ایک مبلغ نے امیرِ اَہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ
الْعَالِیَہسے میری ملاقات اور تعارُف کروایا کہ یہ جاوید بھائی ہیں ۔ شاید پہلی ملاقات کے پانچ یا چھ سال بعدباقاعدہ طور پر یہ ملاقات ہوئی تھی لیکن آپ نے مجھے دیکھتے ہی فرمایا کہ یہ تو بہت پرانے ہیں، ایکٹو (activeیعنی فَعّال) اب ہوئے ہیں ۔ اُس وَقْت میں ہلکی ہلکی شیو بڑھا چکا تھا، آپ نے ترغیب دلاکر مجھے داڑھی کی نیّت کروائی، اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ یوں ایک ولیٔ کامل کی نظر سے مجھے مَدَنی ماحول نصیب ہوا ۔
کوئی اندازہ کرسکتا ہے اس کے زور بازو کا
نگاہ مردِ مؤمن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
حاجی زم زم عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الاکرم نے حیدر آباد میں اپنے علاقے ’’ہِیر آباد‘‘ کی مسجد میں مَدَنی کام شروع کیا، پھر طویل عرصہ عَلاقہ’’چل مدینہ ‘‘کے عَلاقائی نگران رہے، پھر زم زم نگر (حیدر آباد) میں چارذمّہ دار برائے کارکردگی مقرَّر کئے گئے تھے جن میں سے ایک حاجی زم زم عَلَیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہ الاکرم تھے ۔ مرکزی مجلسِ شوریٰ بننے سے پہلے ہی یہ ’’مَدَنی انعامات‘‘ کی ترغیب وتربیت کے لئے مختلف علاقوں اور شہروں میں جایا کرتے تھے ۔ 2002ء میں انہیں بابُ الاسلام (سندھ) کی مشاورت کا رُکن بنایاگیا تھا، پھر مرکزی مجلسِ شوریٰ کے تحت پاکستان انتِظامی کابینہ بنی تو یہ بھی اُس کے رُکن بنے اور ١٥ رَمَضان المبارک ١٤٢٥ھ مطابق 30اکتوبر 2004 ء کو مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رُکن بنے اور تادمِ آخر رُکنِ شُورٰی رہے، آپ مجلس مَدَنی انعامات، مجلس مکتوبات وتعویذاتِ عطاریہ اور مجلس خُصوصی اسلامی بھائی کے نگران بھی تھے ۔ کچھ عرصہ آپ مجلس معاونت برائے اسلامی بہنیں اور مجلس اِجرائے کُتُب ورسائل کے نگران بھی رہے ۔ دعوتِ اسلامی کی مَدَنی بہاریں لکھنا، لکھوانا آپ کو بہت محبوب تھا، مکتبۃ المدینہ سے چَھپنے والے مَدَنی بہاروں کے کئی رسائل آپ نے تالیف فرمائے تھے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
(4) نگران شورٰی حاجی محمّد عمران عطّاری
مبلغِ دعوتِ اسلامی و مرکزی مجلسِ شوریٰ کے نگران حضرت مولاناحاجی ابو حامِد محمدعمران عطاری مَدَّ ظِلُّہُ الْعَالِی مَدَنی ماحول سے وابستہ ہونے سے قبل عام نوجوانوں کی طرح زندگی گزار رہے تھے، بچپن ہی سے اسکول اور کالج کا ماحول ملاتھا، فیشن کی دنیا میں مست رہنا، ہرآنے والانیا فیشن اپنانااور خوب بن سنور کے گھرسے نکلنا ان کامعمول تھا، نماز جیسی عظیم عبادت کی ادائیگی سے بھی محروم تھے، فلمیں ڈرامے دیکھنا اور گانے باجے سننا، ہنسی مذاق کرنے والے، کھیل کود کے شائق اور فکرِ آخرت سے غافل دوستوں کے ہمراہ سیروتفریح کے لیے جانا، ہوٹلوں پر جاکر کھانے کے مقابلے کرنا اور بحث بازی کرنا ان کی زندگی کاحصہ تھا ۔
کارتیز چلانا آپ کا محبوب مشغلہ تھا، ایک مرتبہ ایکسیڈنٹ ہوگیا، جس کی وجہ سے ایک بائیک سوار کو شدید چوٹ لگی، راہِ فرار اختیار کرنے کی بجائے گاڑی سے اتر کر بائیک سوار کےقریب گئے جو کافی درد میں تھا، اس کی حالت دیکھ کر انہیں کافی دکھ ہوا، اِسی دوران لوگ جمع ہوگئے، پولیس بھی آ پہنچی، یہ دیکھ کر اِن پر گھبراہٹ طاری ہوگئی، پولیس انہیں اپنے ہمراہ تھانے لے گئی اور لاک اپ میں بند کردیا، رات بھر سلاخوں کے پیچھے رہے، صبح گھروالےضمانت کروا کر انہیں گھر لے آئے، چونکہ مقدمہ درج ہوچکا تھا اور کورٹ میں پیشی ہونی تھی، اس لئے یہ کافی پریشان تھے، مقدمے سے رہائی پانے کے لئے دعائیں مانگنے کا ذِہْن بناتو مسجد کی پاکیزہ فضاکی طرف ان کا رُخ ہوگیا، کھارادر میں حضرت سیّد معصوم شاہ بخاری عَلَیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہ البَارِی کے مزار شریف سے مُتّصل مسجد میں نماز ادا کرنے کے لئے جانا شروع کردیا، نماز ادا کرنے کے بعد دعائیں کرتے، جب کورٹ کی تاریخ آئی تو ان سے کہا گیا کہ کہہ دینا ’’یہ حادثہ میں نے نہیں کیا‘‘ ، مگر ان کا ضمیر ملامت کررہا تھا کہ ایک تو تمہاری وجہ سے بائیک سوار کی ٹانگ ٹوٹ گئی اور دوسرا جھوٹ بولو گے، جب جج صاحب کے سامنےان کی پیشی ہوئی اور ان سے حادثے کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے جھوٹ بولنے کی بجائے سب سچ بتادیا، غالباً اُن متأثّر شخص نے جو کورٹ میں بے ساکھی کے سہارے آئے تھے سچ سن کر جج کے سامنے انہیں معاف کردیا اور جج صاحب نے ان کا کیس خارج کردیا، مقدمے سے نجات پانے کے بعد مسجد حاضر ہونا موقوف کردیا ۔ پھر جب رمضان المبارک کی آمد ہوئی تو ظہر کی نماز بخاری مسجد کھارا در میں ادا کرنے جانے لگے، نماز ادا کرنے کے بعد کچھ دیر مسجد میں آرام بھی کرلیتے، اس مسجد میں ایک مبلغِ دعوتِ اسلامی ظہر کی نماز کے بعد درسِ فیضانِ سنّت دیتے اور مَدَنی ماحول کے فوائد و ثَمَرات سے لوگوں کو آگاہ کرتے، سنّتوں بھرے ماحول سے وابستہ ہونے کی ترغیب دلاتے اور آخرمیں دعا کرواتے ۔ یہ بھی دور بیٹھ کر درس سننے کی سعادت حاصل کرتے، انہیں مبلغِ دعوتِ اسلامی کا انداز اچھا لگتا، رفتہ رفتہ درس کے عام فہم الفاظ کا سحر ان کے دل پر اثرکرنے لگا ۔ مبلغِ دعوتِ اسلامی نے جب دیکھا کہ یہ نوجوان روزانہ دور بیٹھ کر درسِ فیضانِ سنّت سنتے ہیں تو ایک دن درس کے بعد وہ ان کے پاس تشریف لائے، خندہ پیشانی سے ملاقات کی اور انفرادی کوشش کے ذریعے ان کا مَدَنی ذِہْن بنانے لگے، مبلغ اسلامی بھائی کا مسکراتا چہرہ، اندازِ ملاقات اور نیکیوں بھری گفتگو انہیں بہت اچھی لگی، اس طرح اسلامی بھائی سے ان کی شناسائی ہوگئی، وہ اسلامی بھائی روزانہ ہی درس کے بعد ان کے پاس بیٹھ جاتے اور کچھ دیر تک اچھی اچھی باتیں سناتے اور سنّتوں بھرے اجتماعات میں شرکت کرنے کی ترغیب دلاتے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع