30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اعمال کا جواب دینا ہے اگر عقیدۂ آخرت حقیقتاً نفس الاَمری ([1])کے مطابق نہ ہوتا اور اس کا انکار حقیقت کے خلاف نہ ہوتا تو ممکن نہ تھا کہ اس اقرار کے یہ نتائج ایک لزومی شان کے ساتھ ہمارے تجربے میں آتے ، ایک ہی چیز سے پیہم صحیح نتائج کا برآمد ہونا اور اس کے عدم کے نتائج کا نتیجہ غلط ہوجانا بس اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ وہ چیز بجائے خودصحیح ہے ، آخرت کو ماننے سے وہی لوگ انکار کرتے ہیں جن کے متعلق فرمایا گیا کہ
(یُّؤْفَكُ عَنْهُ مَنْ اُفِكَؕ(۹))([2])
اس قرآن سے وہی اوندھا کیا جاتا ہے جس کی قسمت میں ہی اوندھا یا جانا ہو ۔ (سورۃ الذریٰت۵۱، رکوع۱)
جب مومنین میدانِ حشر سے جنت کی طرف لے جائے جارہے ہوں گے اور آخرت سے انکار کرنے والے جن کے متعلق دوزخ کا فیصلہ ہوچکا ہوگا، اندھیرے میں ٹھوکریں کھارہے ہوں گے تو روشنی صرف اہلِ ایمان کے ساتھ ہوگی اس لئے کہ
(یَوْمَ لَا یُخْزِی اللّٰهُ النَّبِیَّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗۚ-نُوْرُهُمْ یَسْعٰى بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ بِاَیْمَانِهِمْ)([3])
جس دن ( روزِ حشر) اللہ رسوا نہ کرے گا نبی او ران کے ساتھ کے ایمان والوں کو، اُن کا نور دوڑتا ہوگا اُنکے آگے اور اُنکے دہنے ۔ (سورۃ التحریم۶۶، رکوع۲)
اس وقت اہلِ ایمان پر حقیقت کی کیفیت طاری ہوگی اور اس وقت بھی انہیں اپنے قصوروں اور کوتاہیوں کا احساس کرکے یہ اندیشہ لاحق ہوگا کہ کہیں ان کا نور بھی نہ چھن جائے اس لیے وہ دعا کریں گے کہ
(رَبَّنَاۤ اَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا وَ اغْفِرْ لَنَاۚ-اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ(۸))([4])
اے ہمارے رب ہمارے لیے ہمارا نور پورا کردے اور ہمیں بخش دے بے شک تجھے ہر چیز پر قدرت ہے ۔ (سورۃ التحریم۶۶، رکوع۲)
قیامت کی گھڑی آکر رہے گی اس لیے بھی کہ
(كُلُّ شَیْءٍ هَالِكٌ اِلَّا وَجْهَهٗؕ-لَهُ الْحُكْمُ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ۠(۸۸))([5])
ہر چیز فانی ہے سوا اُس کی ذات کے اسی کا حکم ہے اور اسی کی طرف پھر جاؤ گے ۔ (سورۃ القصص۲۸، رکوع۹)
(هُوَ الْاَوَّلُ وَ الْاٰخِرُ وَ الظَّاهِرُ وَ الْبَاطِنُۚ-وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ(۳))([6])
وہی اوّل وہی آخر وہی ظاہر وہی باطن اور وہی سب کچھ جانتا ہے ۔ (سورۃ الحدید۵۷، رکوع۱)
الٰہی آیات کی ترجمانی اقبال نے بالِ جبریل کی نظم "مسجد قرطبہ" کے اس شعر میں کی ہے کہ
اوّل و آخر فنا باطن و ظاہر فنا نقشِ کہن ہو کہ نو منزل آخر فنا
مادیت پرستی کے اس دور میں واضح طور پر محسوس کررہا ہوں کہ ہمارے افکار واعمال پر اب مذہب کی گرفت دن بہ دن ڈھیلی پڑتی جارہی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ آخرت کی باز پُرس کا خطرہ اب ایک تصوُّرِ موہوم ہو کر رہ گیا ہے حالانکہ غور فرمائیے تو مذہب کی بنیاد ہی عقیدۂ آخرت پر ہے ۔
عقیدۂ آخرت کا مطلب یہ ہے کہ اس بات کا یقین دل میں راسخ ہوجائے کہ ہم مرنے کے بعد پھر دوبارہ زندہ کیے جائیں گے اور خدا کے سامنے ہمیں اپنی زندگیکے سارے اعمال کا حساب دینا ہوگا اور اپنے عمل کے اعتبار سے جزا و سزا دونوں طرح کے نتائج کا ہمیں سامنا کرنا پڑے گا، اسی یَـوْ مُ الْحِساب(یعنی حساب کے دن) کا نام مذہبِ اسلام کی زبان میں قیامت ہے ۔
(عقیدۂ آخرت کے مُحَرِّکات([7]):)
اگر آخرت کا یہ اعتقاد دلوں سے نکل جائے تو مذہب کی پابندی کا سوال ہی بے معنی ہو کر رہ جائے ، آخر کوئی آدمی کیوں رمضان کے مہینے میں سارا دن اپنے آپ کو بھوکا پیاسا رکھے ، ٹھٹھرتی ہوئی سردی میں کیوں کوئی اپنے گرم لحاف سے نکل کر مسجدکی طرف جائے ، اپنے خون پسینے سے کمائی ہوئی دولت کیوں کوئی زکوۃ کے نام پر غریبوں میں لٹائے ، خواہشِ نفس اور قدرت و اختیار کے باوجود کیوں کوئی ایسی بہت ساری چیزوں سے منہ موڑے جسے مذہب نے ممنوع قر ار دیا ہے ؟ یہ ساری مشقتیں اور تکلیفیں صرف اسی لیے تو گوارا کرلی جاتی ہیں کہ ان کے پیچھے یا تو عذاب کا خطرہ لاحق ہے یا پھر دائمی آسائش و راحت کا تصوُّر مذہب کی ہدایات پر چلنے کی ترغیب دیتا ہے ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع