30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(سورۃ النزعٰت۷۹، رکوع۲)
(قیامت کا وقت چھپائے جانے کی حکمت:)
اس وقت کو مخفی اس لیے رکھا گیا ہے کہ آزمائش کا مدَّعا پورا ہوسکے اور جب یہ ساعتِ مُنْتَظَرَہ([1]) آئے تو ہر شخص کو جس نے دنیا میں جیسی سعی کی ہے اس کا اُسے ٹھیک ٹھیک بدلہ دیا جاسکے ۔
فیصلہ کی گھڑی کو دور سمجھ لینا انسان کی سب سے بڑی بھول ہے کیونکہ انسان کی ہر سانس آخری سانس ہوسکتی ہے آخرت پر یقین رکھنے اور نہ رکھنے والوں کا نفسیاتی تجزیہ خدا نے اس طرح پیش کیا ہے :
(وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِیْبٌ(۱۷) یَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهَاۚ- وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مُشْفِقُوْنَ مِنْهَاۙ-وَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّهَا الْحَقُّؕ-اَلَاۤ اِنَّ الَّذِیْنَ یُمَارُوْنَ فِی السَّاعَةِ لَفِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ(۱۸))([2])
اور تم کیا جانو شاید قیامت قریب ہی ہو، اس کی جلد ی مچارہے ہیں وہ جو اس پر ایمان نہیں رکھتے اور جنہیں اس پر ایمان ہے وہ اس سے ڈررہے ہیں اور جانتے ہیں کہ بیشک وہ حق ہے ، سنتے ہو بے شک جو قیامت میں شک کرتے ہیں ضرور دور کی گمراہی میں ہیں ۔ (سورۃ الشوری۴۲، رکوع۲)
(ابتدائی دور کی سورتوں میں "عقیدۂ آخرت"پرزور دینے کی وجہ:)
مکی دور میں رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی دعوت میں سب سے زیادہ جس چیز کا مذاق منکرین نے اڑایا وہ آخرت کے وجوب سے تھا اور وہ اس بات پر صرف حیرانی اور تعجب کا ہی اظہار نہیں کرتے تھے بلکہ اسے بالکل بعید اَز عقل و امکان سمجھ کر اسے ناقابل یقین ہی نہیں بلکہ ناقابل تصوُّر سمجھتے تھے مگر چونکہ آخرت کے عقیدے کو مانے بغیر انسان کا طرزِ فکر سنجیدہ نہیں ہوسکتا، خیر و شر کے معاملے میں اس کا معیارِ اَقدار([3]) بدل نہیں سکتا اور وہ دنیا پرستی کی راہ چھوڑ کر اسلام کی راہ پرنہیں چل سکتا اس لیے مکہ مُعَظَّمَہ کے ابتدائی دور کی سورتوں میں زیادہ تر زور آخرت کا عقیدہ دلوں میں بٹھانے میں صَرف کیا گیا اور اس انداز میں کیا گیا کہ توحید کا تصوُّر بھی خود بخود ذہن نشیں ہوتا چلا جاتا ہے ۔
(انکار ِآخرت کے بھیانک نتائج:)
انکارِ آخرت وہ چیز ہے جو کسی شخص ، گروہ یا قوم کو مجرم بنائے بغیر نہیں رہتی، اخلاق کی خرابی اس کا لازمی نتیجہ ہے اور تاریخ ِانسانی شاہد ہے کہ زندگی کے اس نظریے کو جس قوم نے اختیار کیا ہے وہ آخر کار تباہ ہو کر رہی، آخرت سے انکار دراصل خدا اور اس کی قدرت اور حکمت سے انکار ہے اور آخرت سے انکار وہی لوگ کرتے ہیں جو خواہشاتِ نفس کی بندگی کرنا چاہتے ہیں اور عقیدۂ آخرت کو اپنی اس آزادی میں مانِع([4]) سمجھتے ہیں جب وہ آخرت کا انکار کردیتے ہیں تو ان کی بندگیٔ نفس اور زیادہ بڑھتی چلی جاتی ہے اور وہ اپنی گمراہی میں روز بہ روز زیادہ ہی بھٹکتے چلے جاتے ہیں ، ارشاد ہے :
(اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ زَیَّنَّا لَهُمْ اَعْمَالَهُمْ فَهُمْ یَعْمَهُوْنَؕ(۴) اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْعَذَابِ وَ هُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ(۵))([5])
وہ جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے ہم نے اُن کے کَوتک([6]) اُن کی نگاہ میں بھلے کر دکھائے ہیں تو وہ بھٹک رہے ہیں ، یہ وہ ہیں جن کے لیے بڑا عذاب ہے اور یہی آخرت میں سب سے بڑھ کر نقصان میں ۔ (سورۃ النمل۲۷، رکوع۱)
(كَذَّبُوْا بِالسَّاعَةِ- وَ اَعْتَدْنَا لِمَنْ كَذَّبَ بِالسَّاعَةِ سَعِیْرًاۚ(۱۱))([7])
یہ تو قیامت کو جھٹلاتے ہیں اور جو قیامت کو جھٹلائے ہم نے اس کے لیے تیار کررکھی ہے بھڑکتی ہوئی آگ ۔ (سورۃ الفرقان۲۵، رکوع۲)
نماز کا پابند ہونا یا نہ ہونا بھی قرآن کی رو سے عَلَی التَّـرْ تِیب([8]) آخرت پر یقین رکھنے یا نہ رکھنے کے مترادِف قرار دیا گیا ہے ، فرمایا گیا:
(وَ اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-وَ اِنَّهَا لَكَبِیْرَةٌ اِلَّا عَلَى الْخٰشِعِیْنَۙ(۴۵) الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَ اَنَّهُمْ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ۠(۴۶))([9])
اور صبر اور نماز سے مدد چاہو اور بے شک نماز ضرورضروربھاری ہے مگر ان پر جو دل سے میری طرف جھکتے ہیں جنہیں یقین ہے کہ انہیں اپنے رب سے ملنا ہے اور اس کی طرف پھرنا ۔ (سورۃ البقرہ۲، رکوع۵)
(انفرادی اور اجتماعی رویّوں کی اصلاح کا ذریعہ:)
انسان کا انفرادی رویہ اور انسانی گروہوں کا اجتماعی رویہ کبھی اس وقت تک درست نہیں ہوتا جب تک یہ سُطُور([10]) اور یہ یقین انسانی سیرت کی بنیاد میں پیوست نہ ہو کہ ہم کو خدا کے سامنے اپنے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع