30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(سورۂ طہٰ۲۰، رکوع۱)
(وَ اَنَّهٗ یُحْیِ الْمَوْتٰى وَ اَنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌۙ(۶) وَّ اَنَّ السَّاعَةَ اٰتِیَةٌ لَّا رَیْبَ فِیْهَاۙ-وَ اَنَّ اللّٰهَ یَبْعَثُ مَنْ فِی الْقُبُوْرِ(۷))([1])
اور یہ کہ وہ مردے جِلائے گا اور یہ کہ وہ سب کچھ کرسکتا ہے اور اس لیے کہ قیامت آنے والی اس میں کچھ شک نہیں اور یہ کہ اللہ اٹھائے گا اُنہیں جو قبروں میں ہیں ۔ (سورۃ الحج۲۲، رکوع۱)
جہاں تک دوبارہ زندہ کیے جانے کا سوال ہے منکرین اسکا مذاق قصۂپارِینہ([2]) کہہ کر اڑاتے تھے ؛ اس لیے خدائے تعالیٰ نے فرمایا:
(بَلْ قَالُوْا مِثْلَ مَا قَالَ الْاَوَّلُوْنَ(۸۱) قَالُوْۤا ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ(۸۲) لَقَدْ وُعِدْنَا نَحْنُ وَ اٰبَآؤُنَا هٰذَا مِنْ قَبْلُ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ(۸۳)) ([3])
انہوں نے وہی کہی جو اگلے کہتے تھے ، بولے : کیا جب ہم مرجائیں اور مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں کیا پھر نکالے جائیں گے بے شک یہ وعدہ ہم کو اور ہم سے پہلے باپ دادا کو دیا گیا، یہ تو نہیں مگر وہی اگلی داستانیں ۔ (سورۃ المؤمنون۲۳، رکوع۵)
خدائے تعالیٰ نے دوبارہ زندہ کیے جانے کی وجہ بھی اُنہیں بتائی جس کا براہِ راست تعلق عقیدۂ آخرت پر یقین رکھنے سے ہے ، فرمایا:
(ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُؕ-اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ(۳) اِلَیْهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًاؕ-وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّاؕ-اِنَّهٗ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ بِالْقِسْطِؕ-وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ وَّ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ(۴))([4])
یہ ہے تمہارا اللہ تمہارا رب تو اس کی بندگی کرو تو کیا تم دھیان نہیں کرتے اسی کی طرف تم سب کو پھرنا ہے اللہ کا سچا وعدہ بیشک وہ پہلی بار بناتا ہے پھر فنا کے بعد دوبارہ بنائے گا کہ ان کو جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے انصاف کا صلہ دے اور کافروں کے لیے پینے کو کھولتا پانی اور دردناک عذاب بدلا ان کے کفرکا ۔ (سورۃ یونس۱۰، رکوع۱)
منکرین اگر کبھی سنجیدگی سے بھی قیامت کے یقینی ہونے پر رسول اللہ کی طرف مخاطب ہوتے تھے تب بھی طنزیہ انداز ہی میں استفسار کرتے تھے کہ
(وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ(۲۵))([5])
اور کہتے ہیں یہ وعدہ کب آئے گا اگر تم سچے ہو ۔ (سورۃ الملک۶۷، رکوع۲)
(یَسْــٴَـلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَیَّانَ مُرْسٰىهَاؕ-)([6])
تم سے قیامت کو پوچھتے ہیں کہ وہ کب کوٹھہری ہے ۔ (سورۃ الاعراف۷، رکوع۲۳)
(یَسْــٴَـلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَیَّانَ مُرْسٰىهَاؕ(۴۲))([7])
تم سے قیامت کو پوچھتے ہیں کہ وہ کب کے لیے ٹھہری ہوئی ہے ۔(پ۳۰، النزعٰت:۴۲) ([8])
ان سوالات کا جواب انہیں بار بار دیا جاتا رہا، چند جوابات درج ذیل ہیں جو رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم سے دلوائے گئے :
(قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّیْۚ-لَا یُجَلِّیْهَا لِوَقْتِهَاۤ اِلَّا هُوَ ﲪ ثَقُلَتْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-لَا تَاْتِیْكُمْ اِلَّا بَغْتَةًؕ-یَسْــٴَـلُوْنَكَ كَاَنَّكَ حَفِیٌّ عَنْهَاؕ-قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ(۱۸۷))([9])
تم فرماؤ اس ( قیامت کب کو ٹھہری ہے ) کاعلم تو میرے رب کے پاس ہے اُسے وہی اس کے وقت پر ظاہر کرے گا، بھاری پڑرہی ہے آسمانوں اور زمین میں ، تم پر نہ آئے گی مگر اچانک ، تم سے ایسا پوچھتے ہیں گویا تم نے اُسے خوب تحقیق کررکھا ہے تم فرماؤ اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے لیکن بہت لوگ جانتے نہیں ۔ (سورۃ الاعراف۷، رکوع۲۳)
(فِیْمَ اَنْتَ مِنْ ذِكْرٰىهَاؕ(۴۳) اِلٰى رَبِّكَ مُنْتَهٰىهَاؕ(۴۴) اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُنْذِرُ مَنْ یَّخْشٰىهَاؕ(۴۵))([10])
تمہیں اس (قیامت کب کو ٹھہری ہے ) کے بیان سے کیا تعلق، تمہارے رب ہی تک اس کی انتہا ہے ، تم تو فقط اُسے ڈرانے والے ہو جو اس سے ڈرے ۔
[1] پ۱۷، الحج: ۶-۷ ۔
[2] پرانی کہانی ۔
[3] پ۱۸، المؤمنون: ۸۱-۸۳ ۔
[4] پ۱۱، یونس: ۳-۴ ۔
[5] پ۲۹، الملک: ۲۵ ۔
[6] پ۹، الاعراف: ۱۸۷ ۔
[7] پ۳۰، النزعٰت: ۴۲ ۔
[8] اصل میں یہاں سورۂ عبس کا حوالہ دیا گیا تھا جسے کتابت کی غلطی پر محمول کرتے ہوئے تصحیح کردی گئی ۔
[9] پ۹، الاعراف: ۱۸۷ ۔
[10] پ۳۰، النزعٰت: ۴۳-۴۵ ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع