30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہے یعنی آخرت کی کامیابی ۔ دین میں عقیدۂ آخرت کی اسی اہمیت کے پیش نظر فرمایا گیا ہے :
هُوَ خَیْرٌ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ عُقْبًا۠(۴۴) ([1])
اس (اللہ) کا ثواب سب سے بہتر اور اسے ماننے کا انجام بھلا ۔ (سورۃ الکہف۱۸، رکوع۵)
دینِ اسلام میں عقیدۂ آخرت کی اسی اہمیت کی وجہ سے روزِ جزا کو برحق ماننا ایک مومن کی صفات میں دیگر صفات کے ساتھ لازمی سی چیز قرار دی گئی ہے
چنانچہ ایک موقعہ پر ان کی اس صفت کو اس طرح فرمایا گیا ہے :
(وَ الَّذِیْنَ یُصَدِّقُوْنَ بِیَوْمِ الدِّیْنِﭪ(۲۶) وَ الَّذِیْنَ هُمْ مِّنْ عَذَابِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُوْنَۚ(۲۷))([2])
اور وہ جو انصاف کا دن سچ جانتے ہیں اوروہ جو اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے ہیں ۔ (سورۃ المعارج۷۰، رکوع۱)
(انکارِ آخرت کے بعد خدا کو ماننا بے معنیٰ ہے :)
آخرت کے انکار کے بعد خدا کو ماننا دین اسلام میں کوئی معنی نہیں رکھتا کیونکہ آخرت کو مُسْتَـبْعـَد([3]) سمجھنا صرف آخرت ہی کا انکار نہیں بلکہ خدا کی قدرت اور حکمت کا بھی انکار ہے ، کم ظرف لوگ جنہیں دنیا میں کچھ شان و شوکت حاصل ہوجاتی ہے ہمیشہ اس غلط فہمی میں مبتلا رہتے ہیں کہ انہیں اسی دنیا میں جنّت نصیب ہوچکی ہے اور اب وہ کون سی جنّت ہے جسے حاصل کرنے کی وہ فکر کریں ؟
(منکرِِآخرت کی مثال اور اس کا انجام:)
ایسی ہی مثال خدائے تعالیٰ نے سورۃ الکہف ۱۸کے رکوع ۵ میں دو مردوں کی دی ہے جن میں ایک کو اس نے انگوروں کے دو باغ دیئے تھے جو کھجوروں سے ڈھانپ دیئے گئے تھے اور ان کے بیچ بیچ میں کھیتی رکھی گئی تھی دونوں باغوں کے بیچ میں خدا نے نہر بھی بہادی تھی اور وہ پھل بھی خوب دیتے تھے ، ایک روز یہ شخص اپنے ساتھی سے بولا کہ
وَّ كَانَ لَهٗ ثَمَرٌۚ-فَقَالَ لِصَاحِبِهٖ وَ هُوَ یُحَاوِرُهٗۤ اَنَا اَكْثَرُ مِنْكَ مَالًا وَّ اَعَزُّ نَفَرًا(۳۴)وَ دَخَلَ جَنَّتَهٗ وَ هُوَ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖۚ-قَالَ مَاۤ اَظُنُّ اَنْ تَبِیْدَ هٰذِهٖۤ اَبَدًاۙ(۳۵) وَّ مَاۤ اَظُنُّ السَّاعَةَ قَآىٕمَةًۙ-وَّ لَىٕنْ رُّدِدْتُّ اِلٰى رَبِّیْ لَاَجِدَنَّ خَیْرًا مِّنْهَا مُنْقَلَبًا(۳۶) قَالَ لَهٗ صَاحِبُهٗ وَ هُوَ یُحَاوِرُهٗۤ اَكَفَرْتَ بِالَّذِیْ خَلَقَكَ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ سَوّٰىكَ رَجُلًاؕ(۳۷) لٰكِنَّاۡ هُوَ اللّٰهُ رَبِّیْ وَ لَاۤ اُشْرِكُ بِرَبِّیْۤ اَحَدًا(۳۸) وَ لَوْ لَاۤ اِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَآءَ اللّٰهُۙ-لَا قُوَّةَ اِلَّاج بِاللّٰهِۚ-اِنْ تَرَنِ اَنَا اَقَلَّ مِنْكَ مَالًا وَّ وَلَدًاۚ(۳۹) فَعَسٰى رَبِّیْۤ اَنْ یُّؤْتِیَنِ خَیْرًا مِّنْ جَنَّتِكَ وَ یُرْسِلَ عَلَیْهَا حُسْبَانًا مِّنَ السَّمَآءِ فَتُصْبِحَ صَعِیْدًا زَلَقًاۙ(۴۰) اَوْ یُصْبِحَ مَآؤُهَا غَوْرًا فَلَنْ تَسْتَطِیْعَ لَهٗ طَلَبًا(۴۱) ([4])
میں تجھ سے مال میں زیادہ ہوں اور آدمیوں کا زیادہ زور رکھتا ہوں ، اپنے باغ (جنت) میں گیا اور اپنی جان پر ظلم کرتا ہوا بولا:مجھے گمان نہیں کہ یہ کبھی فناہو اور میں گمان نہیں کرتا کہ قیامت قائم ہو اور اگر میں اپنے رب کی طرف پھر گیا بھی تو ضرور اس باغ سے بہتر پلٹنے کی جگہ پاؤں گااس کے ساتھی نے اس سے الٹ پھیر([5]) کرتے ہوئے جواب دیا:کیا تو اس کے ساتھ کفر کرتا ہے جس نے تجھے مٹی سے بنایا پھر نتھرے پانی کی بوند سے پھر تجھے ٹھیک مرد کیا لیکن میں تو یہی کہتا ہوں کہ وہ اللہ ہی میرا رب ہے اور میں کسی کو اپنے رب کا شریک نہیں کرتا ہوں اور کیوں نہ ہوا کہ جب تو اپنے باغ میں (جن تک ) گیا تو کہا ہوتا جو چاہے ([6])اللہ ہمیں کچھ زور نہیں مگراللہ کی مدد کا اگر تو مجھے اپنے سے مال و اولاد میں کم دیکھتا تو قریب ہے کہ میرا رب مجھے تیرے باغ سے اچھا دے اور تیرے باغ پرآسمان سے بجلیاں اتارے تو وہ پَٹ پَر([7])میدان ہو کر رہ جائے یا اس کا پانی زمین میں دھنس جائے پھر تو اسے ہرگز تلاش نہ کرسکے ۔
خدانے اُسے اس کفر کا بدلہ یہ دیا کہ
(وَ اُحِیْطَ بِثَمَرِهٖ فَاَصْبَحَ یُقَلِّبُ كَفَّیْهِ عَلٰى مَاۤ اَنْفَقَ فِیْهَا وَ هِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا وَ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ لَمْ اُشْرِكْ بِرَبِّیْۤ اَحَدًا(۴۲) وَ لَمْ تَكُنْ لَّهٗ فِئَةٌ یَّنْصُرُوْنَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ مَا كَانَ مُنْتَصِرًاؕ(۴۳) هُنَالِكَ الْوَلَایَةُ لِلّٰهِ الْحَقِّؕ-هُوَ خَیْرٌ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ عُقْبًا۠(۴۴))([8])
اور اس کے پھل گھیر لیے گئے تو اپنے ہاتھ ملتا رہ گیا اس لاگت پر جو اس باغ میں خرچ کی تھی اور وہ اپنے ٹَٹِّیوں ([9])پر گرا ہوا تھا اور کہہ رہا ہے : اے کاش میں نے اپنے رب کا کسی کو شریک نہ کیا ہوتا اور اس کے پاس کوئی جماعت نہ تھی کہ اللہ کے
[1] پ۱۵، الکہف:۴۴ ۔
[2] پ۲۹، المعارج:۲۶-۲۷ ۔
[3] بعید، ناممکن ۔
[4] پ۱۵، الکہف:۳۴-۴۱ ۔
[5] یعنی بحث ۔
[6] اصل میں عبارت اس طرح تھی: " ( جن تک ) گیا ہوتا تو کیا ہوتاجو چاہیے "جسے کنز الایمان سے تقابل کر کے درست کر دی گئی ۔
[7] یعنی چٹیل ۔
[8] پ۱۵، الکہف:۴۲-۴۴ ۔
[9] یعنیچھپروں ۔
نوٹ: اصل میں لفظ "ٹیٹوں "لکھا تھا جسے کنز الایمان سے تقابل کر کے درست کر دیا گیا ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع