30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس عالم ِہستی میں انسان کی آمد پر آپ غور کریں گے تو آپ پر یہ راز کھلے گا کہ انسان اچانک یہاں نہیں آگیا بلکہ اس عالَم میں قدم رکھنے سے پہلے کئی عالم سے وہ گزر چکا تھا، پہلا عالم "عالَمِ اَرواح" ہے جہاں اس کی روح موجودتھی اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ استقرارِ حمل کے کچھ عرصہ بعد جب بچے کے جسم میں روح داخل ہوتی ہے اور وہ ماں کے پیٹ میں حرکت کرنے لگتا ہے تو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بچے کے جسم میں داخل ہونے سے پہلے وہ روح کہاں تھی یا کہاں سے آئی؟ وہ جہاں بھی موجود ہو یا جہاں سے بھی آئی ہو اسی عالم کا نام عالمِ ارواح ہے ۔
اب عالمِ ارواح کے بعد دوسرا عالَم ہے '' شکمِ مادر'' جسے عالم ارحام بھی کہا جاتا ہے ، اس عالم میں بھی انسان کو کم و بیش نو مہینے رہنا پڑتا ہے ، ایک منٹ رک کر ذرا قدرت کا یہ حیرت انگیز انتظام دیکھئے کہ ایک چلتی پھرتی قبر میں نو مہینے تک ایک بچہ زندہ رہتا ہے ، اس کے معنی یہ ہیں کہ انسانی زندگی کے لیے جتنے اسباب کی ضرورت ہے وہ سارے اسباب بچے کو وہاں فراہم کیے جاتے ہیں ۔
شکمِ مادر سے باہر آجانے کے بعد اگر ساری دنیا کے اَطبّاء وحکماء چاہیں کہ پیٹ چاک کرکے پھر بچے کو دوبارہ اس جگہ منتقل کردیں تو یقین ہے کہ ایک منٹ بھی وہاں زندہ نہیں رہ سکے گا، یہیں سے خدا اور بندوں کے انتظام کا فرق سمجھ میں آجاتا ہے کہ جو چیز بندوں کے لیے ناممکن ہے وہ خدا کی قدرت کے سامنے ممکن ہی نہیں بلکہ واقع ہے اور یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ ہر عالم کا ماحول اور تقاضا الگ الگ ہے ، ایک کا قیاس دوسرے پر نہیں کیا جاسکتا ۔
اتنی تفصیل کے بعد کہنا یہ ہے کہ عالم ِدنیا میں آنے سے پہلے اگر انسان کو مرحلہ وار دوعالم سے گزرنا پڑتا ہے تو عالم دنیا کے بعد بھی اگر کوئی چوتھا عالم مان لیا جائے تو اس میں کیا عقلی قباحت ہے ؟ اسی چوتھے عالم کا نام ہم عالم آخرت رکھتے ہیں اگر اسی نام سے اختلاف ہے تو کوئی اور نام رکھ لیا جائے لیکن ایک چوتھا عالم تو بہرحال ماننا ہی پڑے گا؛ کیونکہ مرنے کے بعد جب روح جسم سے نکل جاتی ہے تو وہی سوال یہاں بھی اٹھے گا کہ نکل کر وہ کہاں گئی؟وہ جہاں بھی گئی ہو اسی کا نام عالمِ آخرت ہے ۔
توحید کے بعددوسری صفت جو ہر زمانے میں تمام انبیاء عَلَیْہِمُ السَّلَام پر مُنْکَشِف کی گئی اور جس کی تعلیم دینے پر وہ مامور کیے گئے وہ آخرت پر یقین رکھنا تھا؛ کیونکہ دین کا پہلا بنیادی اصول یہ ہے کہ ہمارا رب صرف اللہ ہے جس کی عبادت کی جانی چاہیے اور دوسرا بنیادی اصول آخرت پر یقین رکھنا ہے جسے سورۃ البقرہ۲ کی پہلی ہی آیت میں عَلَی التَّرتِیب اس طرح فرمایا گیا ہے کہ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ ([1]) (ترجمهٔ کنز الایمان:وہ جو بے دیکھے ایمان لائیں ) اور وَ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَ([2]) (ترجمهٔ کنز الایمان:اور آخرت پر یقین رکھیں ) اور ایسے ہی لوگوں کو ان ہی آیات میں مُتَّقِین (ڈر والے ) کے لقب سے نوازا گیا ہے اور بلند مرتبہ کتاب (قرآن) ایسے ہی ڈر والوں کی ہدایت کے لیے نازل فرمائی گئی ہے ۔
کُفْر بِاللہ محض ہستیِ باری کے انکار کا نام ہی نہیں ہے بلکہ تکبر اور فخر و غرور اور انکارِ آخرت بھی اللہسے کفر ہی ہے ، جس نے یہ سمجھا کہ میری دولت اور شان وشوکت کسی کا عطیہ نہیں بلکہ میری قوت و قابلیت کا نتیجہ ہے اور میری دولت لازوال ہے کوئی اس کو مجھ سے چھیننے والا نہیں اور کسی کے سامنے مجھے حساب دینا نہیں وہ اگر خدا کو مانتا بھی ہے تو محض ایک وجود کی حیثیت سے مانتا ہے اپنے مالک اور آقا اورفرمانروا کی حیثیت سے نہیں مانتا حالانکہ اِیمان بِاللہ اسی حیثیت سے خدا ماننا ہے نہ کہ محض ایک موجود ہستی کی حیثیت سے ۔
آخرت کے انکار کے بعد خدا کو ماننا دینِ اسلام میں کوئی معنی نہیں رکھتا کیونکہ آخرت کو مُسْتَـبْعـَدسمجھنا صرف آخرت ہی کا انکار نہیں بلکہ خدا کی قدرت اور حکمت کا بھی انکار ہے ، کم ظرف لوگ جنہیں دنیا میں کچھ شان و شوکت حاصل ہوجاتی ہے ہمیشہ اس غلط فہمی میں مبتلا رہتے ہیں کہ انہیں اسی دنیا میں جنت نصیب ہوچکی ہے اور اب وہ کون سی جنت ہے جسے حاصل کرنے کی وہ فکر کریں ؟
انکارِ آخرت وہ چیز ہے جو کسی شخص، گروہ یا قوم کو مجرم بنائے بغیر نہیں رہتی، اَخلاق کی خرابی اس کا لازمی نتیجہ ہے اور تاریخِ انسانی شاہد ہے کہ زندگی کے اس نظریے کو جس قوم نے اختیار کیا ہے وہ آخر کار تباہ ہو کر رہی، آخرت سے انکار دراصل خدا اور اس کی قدرت اور حکمت سے انکار ہے اور آخرت سے انکار وہی لوگ کرتے ہیں جو خواہشاتِ نفس کی بندگی کرنا چاہتے ہیں اور عقیدۂ آخرت کو اپنی اس آزادی میں مانع سمجھتے ہیں جب وہ آخرت کا انکار کردیتے ہیں تو ان کی بندگیٔ نفس اور زیادہ بڑھتی چلی جاتی ہے اور وہ اپنی گمراہی میں روز بہ روز زیادہ ہی بھٹکتے چلے جاتے ہیں ۔
عالمِ آخرت کا تصوُّر صرف اہلِ اسلام ہی کے عقیدے میں نہیں ہے بلکہ دنیا کے سارے انسانوں کی فطرت اسی عقیدہ سے ہم آہنگ ہے ۔
چند مخصوص طبقات اور چند مخصوص عہد کے لوگوں کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ وہ فکرو اِ عتقاد کی غلطیوں میں مبتلا ہوگئے لیکن نسلِ انسانی کے یوم آغاز سے لے کر آج تک بلا تفریق سار ی دنیا کے انسانوں پر یہ الزام ہر گز عائد نہیں کیا جاسکتا کہ آخرت کے تصوُّر کو اپنے مذہبی عقائد کی فہرست میں شامل کرکے وہ فریب ِمسلسل کا شکار رہے خاص طور پر ان حالات میں جب کہ عقیدۂ آخرت کی تعلیم دینے والوں میں وہ انبیاء و مرسلین(عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام)بھی ہیں جن کی شخصیتیں نہ صرف اہلِ اسلام میں بلکہ اقوام عالم میں بھی مُسَلَّمُ الثُّبُوتاورعزت وشرف کی حامل ہیں اور وہ لوگ بھی ہیں جو اپنے اپنے حلقے میں مذہبی اور روحانی پیشوا کی حیثیت سے جانے اور مانے جاتے ہیں اس لیے کہنے دیا جائے کہ اگر تاریخ کے ہر دور کے سارے انسانوں کو ہم جھوٹا قرار دے دیں تو پھر اس دنیا میں کون سچا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع