30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
از: مفتی فضیل رضا قادری عطاری مُدَّظِلُّہُ الْعَالِی
قرآنِ کریم میں اللہ سُبْحَانَہ وَتَعَالٰی کا یہ فرمان موجود ہے :
فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِهٖ وَ عَزَّرُوْهُ وَ نَصَرُوْهُ وَ اتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ مَعَهٗۤۙ-اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۠(۱۵۷)[1]
ترجمهٔ کنز الایمان :تو وہ جو اس (نبی مکرم ) پر ایمان لائیں اور اسکی تعظیم کریں اور اسے مدد دیں اور اس نور (یعنی قرآ ن) کی پیروی کریں جو اسکے ساتھ اترا وہی بامراد ہوئے ۔
اس آیتِ مبارکہ کی روشنی میں اگرحضرت علامہ فہامہ ارشد القادری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی حیاتِ طیبہ کاجائزہ لیا جائے تو ان کا ایمان بھی کامل کہ نبی کی محبت و عقیدت اور تعظیم و توقیر سے ان کا دل نہ صرف یہ کہ خوب سیراب ہوچکاتھا بلکہ اس سے چھلکتے عشقِ رسول کے فیضان سے ایک زمانہ سیراب ہوتا رہا اور ہورہا ہے نبی کی عزت و ناموس اور نبی کے دین کی خدمت و حفاظت میں بسر ہونے والے ان کی زندگی کے صفحات کا ایک عالَم گواہ ہے خود بھی شریعت کے پابند قرآن کے نور سے منوَّر دل اور اسلام کی پاکیزہ تعلیمات پر سختی سے کاربند اور دوسروں کو پابندی کازندگی بھر درس دیتے رہنا ۔
الغرض مذکورہ بالا آیتِ کریمہ کی رو سے نجات و فلاح کا مدار جن چار چیزوں پر ہے وہ حضرت کی زندگی میں کمال کے ساتھ جمع دکھائی دیتی ہیں ، خود جاگ کر دوسرے کو جگانے اورخود کام کرنے اور دوسروں کی ذہن سازی کرکے کام میں لگانے والے افراد کی تعداد انگلیوں پر گنی جاسکتی ہے مگر محسنِ ملت علامہ ارشد القادری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی ذات با برکات ایسے علمائے حق کے زمرے میں ممتاز مقام پر فائز نظر آتی ہے ان کی زندگی بھر کی فکری ، عملی ، تقریری اور تحریری سرگرمیوں کاجائزہ لیا جائے توتین میدان سامنے آتے ہیں :
(الف) دین کے بنیادی عقائد کے تحفظ و دفاع اور علماءِ سُوء کی تخریب کاریوں کو طشت اَزبام کرنا ۔
(ب)کسی فرد کے دل و دماغ کو جھنجھوڑنا اور اُسے خوابِ غفلت سے بیدار کرکے دین پر عمل کرنے اور اس کے ڈنکے بجانے کے لئے تیار کرنا ۔
(ج)اسلام و سنّیت کے اجتماعی مقاصد کے لئے علمائے حق کو اتحاد و اتفاق کے ساتھ وسیع پیمانے پر دینِ متین کی خدمت کرنے کے لئے مختلف اداروں اور تنظیموں کی بنیادیں رکھنا ۔
دین سے دوری کی بناء پر محض مادی ماحول میں پروان چڑھنے والے جو طرح طرح کی غلط فہمیوں اور فکری الجھنوں میں گرفتار دکھائی دیتے ہیں موجودہ نازک حالات میں ان کی ذہنی سطح کو ملحوظ رکھتے ہوئے اسلام کے بنیادی نظریات اور ضروری احکام کو دلنشین تمہید و مدلل تشریح کے ساتھ مسلمانوں کے دل و دماغ میں پیوست کرنا ضروری ہے اورصرف اتنا ہی نہیں بلکہ اسلام و سنّیت اور اسلامی شخصیات پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات بھی مدلل مگر تاثیری حُسن کے ساتھ عصری اسلوب میں دینا ناگزیر ہوچکا ہے ، رئیس التحریر علامہ ارشد القادری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو اس لحاظ سے مثالی مصنف ہونے کا مقام بھی حاصل ہے اور اس دعویٰ پر کسی قسم کی نئی دلیل کی حاجت نہیں بلکہ آپ کی کتب و رسائل خود مُسَلَّم گواہ کی صورت میں موجود ہیں بس کھول کر پڑھنے کی دیر ہے ، ان کی یہ باقیات خصوصیت کے ساتھ مدارِس کے طلباء اور فارغ التحصیل ہونے والے علماء کے لئے بہترین رہنما ثابت ہوسکتی ہیں ۔
موجودہ کتاب جو'' عقیدۂ آخرت ''کی اہمیت عقل و نقل کی روشنی میں اجاگر کرتے ہوئے لکھی گئی ہے اس میں پیچیدہ مضامین کو کس قدردلنشین اسلوب میں خوب سہل کرکے بیان کیا ہے پڑھنے کے بعد ہی اس کا احساس قاری کو ہوسکتا ہے اس پُرفتن دور میں جب ترقی و آزادی کے نام پربد ترین قسم کی برائیاں معاشرے میں پروان چڑھ رہی ہیں حیا و حجاب کے سنہری مقدَّس زیور کے بجائے بے حیائی اور بے غیرتی کو اپنے لئے پسند کیا جارہا ہے خوفِ خدا اور خوفِ روزِ جزا کا خیال تک ذہنوں سے نکلتا جارہا ہے مُسَلَّمہ احکامات کی کھلم کھلا خلاف ورزیاں ہورہی ہیں اس قسم کی صورت حال میں عقیدۂ آخرت کی سچی یاد دلانا اور دل و دماغ میں اس عقیدہ کو راسخ کرنا کس قدر ضروری ہوچکا ہے ہر ایک اس کی اہمیت کا اندازہ بخوبی لگاسکتا ہے بس اس اہم کتاب کو آپ کی اپنی آخرت کی بھلائی کے لئے کامل توجہ درکار ہے اسی کتاب کے چند اہم مضامین پیش خدمت ہیں ۔
مادیت پرستی کے اس دور میں واضح طور پر محسوس کررہا ہوں کہ ہمارے افکار واعمال پر اب مذہب کی گرفت دن بہ دن ڈھیلی پڑتی جارہی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ آخرت کی باز پرس کا خطرہ اب ایک تصوّرِموہوم ہو کر رہ گیا ہے حالانکہ غور فرمائیے تو مذہب کی بنیاد ہی عقیدۂ آخرت پرہے ۔ عقیدۂ آخرت کا مطلب یہ ہے کہ اس بات کا یقین دل میں راسخ ہوجائے کہ ہم مرنے کے بعد پھر دوبارہ زندہ کیے جائیں گے اور خدا کے سامنے ہمیں اپنی زندگی کے سارے اعمال کا حساب دینا ہوگا اور اپنے عمل کے اعتبار سے جزا و سزا دونوں طرح کے نتائج کا ہمیں سامنا کرنا پڑے گا، اسی یَومُ الْحِساب کا نام مذہبِ اسلام کی زبان میں قیامت ہے ۔
اگر آخرت کا یہ اعتقاد دلوں سے نکل جائے تو مذہب کی پابندی کا سوال ہی بے معنی ٰہو کر رہ جائے ، آخر کوئی آدمی کیوں رمضان کے مہینے میں سارا دن اپنے آپ کو بھوکا پیاسا رکھے ، ٹھٹھرتی ہوئی سردی میں کیوں کوئی اپنے گرم لحاف سے نکل کر مسجدکی طرف جائے ، اپنے خون پسینے سے کمائی ہوئی دولت کیوں کوئی زکوۃ کے نام پر غریبوں میں لٹائے ، خواہشِ نفس اور قدرت و اختیار کے باوجود کیوں کوئی ایسی بہت ساری چیزوں سے منہ موڑے جسے مذہب نے ممنوع قر ار دیا ہے ؟ یہ ساری مشقتیں اور تکلیفیں صرف اسی لیے تو گوارا کرلی جاتی ہیں کہ ان کے پیچھے یا تو عذاب کا خطرہ لاحق ہے یا پھر دائمی آسائش و راحت کا تصوّر مذہب کی ہدایات پر چلنے کی ترغیب دیتاہے ۔
عقیدۂ آخرت کے یہ دومُحَرِّکات ہیں جو دل کے ارادوں پر حکومت کرتے ہیں دوسرے لفظوں میں اسی عقیدے کا نام"اِیمان بِالْغَیب"ہے یعنی اپنی آنکھ سے دیکھے اور اپنے کان سے سنے بغیر اِن حقائق کا اپنے مشاہدہ سے بھی بڑھ کر یقین کیا جائے جن کی خبر رسولِ اعظم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کے ذریعہ ہم تک پہنچی ہے ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع