30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عقیدۂ آخرت کے یہ دومحرکات ہیں جو دل کے ارادوں پر حکومت کرتے ہیں دوسرے لفظوں میں اسی عقیدے کا نام اِیمان بِالْغَیب ہے یعنی اپنی آنکھ سے دیکھے اور اپنے کان سے سنے بغیر ان حقائق کا اپنے مشاہدہ سے بھی بڑھ کر یقین کیا جائے جن کی خبر رسولِ اعظم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کے ذریعہ ہم تک پہنچی ہے ۔
آدمی اپنی سرِشت([1]) کے اعتبار سے چونکہ مشاہدات پر زیادہ بھروسہ کرتا ہے اس لیے بہت سے لوگوں کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ مرنے کے بعد جب ہم بالکل سڑ گل جائیں گے اور جب ہمارا جسم مٹی کا غبار بن کر ہر طرف بکھر جائے گا تو ان حالات میں ہم دوبارہ کیونکر زندہ کیے جاسکیں گے ؟ عقیدۂ آخرت کے سوال پر اِلْحادوتَشْکِیْک([2]) کا دروازہ بند کرنے کے لیے ہم شدّت سے یہ محسوس کرتے ہیں کہ اسے عقلی دلائل سے اتنا مُسَلَّم([3]) کردیا جائے کہ عقلِ غلط اَندیش([4]) بھی سرجھکالے اوریہ الزام بھی رَفع([5]) ہوجائے کہ اندھی تقلید کے علاوہ عقیدۂ آخرت کی کوئی عقلی بنیاد نہیں ہے ۔
اپنی بات کا آغاز ہم مشاہدہ سے کرتے ہیں کہ انسانی معلومات کا سب سے پہلا ذریعہ مشاہدہ ہی ہے ، چوبیس ہزار میل کی گولائی والی یہ زمین، آسمان کی بلندیوں سے گلے ملتے ہوئے پہاڑوں کی یہ قطار اور بے پایاں وسعتوں میں پھیلا ہوا سمندروں کا یہ لہراتا ہوا خطہ یہ ساری چیزیں ہم سے سوال کرتی ہیں کہ ہمیں کس نے پیدا کیا ؟
ظاہر ہے کہ اس سوال کا جواب سِوا اس کے اور کیا ہوسکتا ہے کہ ان ساری چیزوں کو خدائے وَحْدَہ لَاشَرِیْک نے پیدا کیا پھر اس کے بعد دوسرا سوال اٹھے گا کہ زمین کس چیز سے بنائی گئی ، پانی کا مادّہ تخلیق کیا تھا اور پہاڑوں کا وجود کس چیز کے ذریعہ عمل میں آیا؟ اگر اپنی حماقت سے کسی چیز کا نام لے لیا گیا تو پھر اس چیز کے بارے میں اسی طرح کا سوال اٹھے گا اور سوالات کا یہ سلسلہ اٹھتا ہی رہے گا جب تک کہ یہ سچی بات کہہ نہ دی جائے کہ خداوندِ قدیر نے ان ساری چیزوں کو بغیر کسی مادّہ کے صرف اپنی قدرت سے پیدا کیا ۔
قدرت سے پیداکرنے کامطلب یہ ہے کہاللہ تعالیٰ نے جس چیز کو پیدا کرنے کا ارادہ فرمایا اس کے لیے لفظ کُنْ ( یعنی ہوجا) فرمادیا اور وہ چیز خدا کی مرضی کے مطابق وجود میں آگئی، جیسا کہ قرآنِ حکیم میں ارشاد فرمایا گیا ہے :
اِذَاۤ اَرَادَ شَیْــٴًـا اَنْ یَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ(۸۲) ([6])
یعنی اللہ تعالیٰ جب کسی چیز کو وجود میں لانا چاہتا ہے تو اُسے کلمہ دیتا ہے کہ تو ہوجا تو وہ چیز فوراً موجود ہوجاتی ہے ۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب اتنی بڑی زمین اور اتنا بڑا آسمان خداوندِ قدیر نے بغیر کسی مادہ سے محض اپنی قدرت سے پیدا کیا تو یہ بات عقل کو بھی تسلیم کرنی ہوگی کہ اس خدائے حی و قدیر کے لیے سڑے گلے مردوں کو دوبارہ زندہ کردینا کیا مشکل ہے ۔
قرآن ِحکیم نے عقیدۂ آخرت کے سلسلے میں اس طرح کے شبہے کا جواب جتنی بلاغت کے ساتھ دیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے ۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب ایک گستاخ کافر نے ایک بوسیدہ ہڈی حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کے سامنے پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ کیا سڑی گلی ہڈی دوبارہ زندہ ہوسکتی ہے ؟ اس کے جواب میں قرآن کی یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی: ([7])
وَ ضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّ نَسِیَ خَلْقَهٗؕ-قَالَ مَنْ یُّحْیِ الْعِظَامَ وَ هِیَ رَمِیْمٌ(۷۸) قُلْ یُحْیِیْهَا الَّذِیْۤ اَنْشَاَهَاۤ اَوَّلَ مَرَّةٍؕ-وَ هُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِیْمُۙﰳ(۷۹) (یٰسٓ) ([8])
اور اس نے ہمارے خلاف ایک مثل گڑھی اور اپنی تخلیق کا واقعہ بھول گیا ( دوبارہ زندہ کیے جانے کے عقیدے پر اعتراض کرتے ہوئے ) کہا کہ بوسیدہ ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا؟آپ جواب میں فرما دیجئے کہ وہی زندہ کرے گا جس نے پہلی بار اسے وجود بخشا تھا اور وہ اپنی ہر مخلوق کو جاننے والا ہے ۔
انسانی دنیا کا یہ دستور سامنے رکھئے تو جواب کی بلاغت اچھی طرح سمجھ میں آجائے گی کہ کام پہلی بار مشکل ہوتا ہے دوسری بار تو بالکل آسان ہوجاتا ہے لیکن جو کام خدا کے لیے پہلی بار بھی مشکل نہیں تھا وہ دوسری بار کیونکر مشکل ہوجائے گا!؟
اس عالمِ ہستی میں انسان کی آمد پر آپ غور کریں گے تو آپ پر یہ راز کھلے گا کہ انسان اچانک یہاں نہیں آگیا بلکہ اس عالم میں قدم رکھنے سے پہلے کئی عالم سے وہ گزر چکا تھا، پہلا عالم"عالمِ اَرواح" ہے جہاں اس کی روح موجود تھی اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ استقرار ِحمل([9])کے کچھ عرصہ بعد جب بچے کے جسم میں روح داخل ہوتی ہے اور وہ ماں کے پیٹ میں حرکت کرنے لگتا ہے تو اب سوال یہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع