30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سبق:2
(حدوثِ عالم، اعیان و اعراض، صفات الٰہیہ، تنزیہ)
[7] عالم ( دنیا)اپنے تمام اجزا کے ساتھ حادث ہے ۔
[8] عالم اعیان (جو قائم بالذات ہیں) اور اَعراض (جو قائم بالغیر ہیں) کا مجموعہ ہے۔
اعیان: وہ ہیں جو بذاتہ قائم ہیں اور وہ مرکب جیسےجسم ہیں (مثلاً آسمان، زمین، پتھر، درخت)، یا غیر مرکب ہیں جیسے جوہر (وہ جز جس کی مزید تقسیم نہ ہو سکے)۔
عرض: وہ ہے جو بذاتہ قائم نہیں، بلکہ اجسام اور جواہر میں پیدا ہوتا ہے، جیسے: رنگ، حرکت، سکون، ذائقے اور بوئیں۔
[9] اللہ پاک ہی عالم کو پیدا کرنے والاہے۔
[10] اللہ پاک اکیلا ہے، ہمیشہ سے ہے، قدرت والا ، سننے والا ، دیکھنے والا اور ارادہ فرمانے والا ہے۔
[11] اللہ پاک نہ عرض ہے، نہ جسم، نہ جوہر، اور نہ صورت وشکل والا ہے۔ نہ وہ محدود ہے، نہ عدد سے متصف، نہ ٹکڑوں میں تقسیم ہوتا ہے، نہ اجزا والا ہے، نہ مرکب ہے اور نہ متناہی (ختم ہونے والا)۔
[12] اللہ پاک نہ ماہیت و کیفیت سے موصوف ہے، نہ کسی مکان و جہت میں موجود ہے، اور نہ کسی زمان میں۔ کوئی شے اس کے مشابہ نہیں اور اس کی قدرت اور علم سے کوئی چیز خارج نہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع