30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ، وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِیّٖن ۔
* عقائدِ نسفی (اردو، عربی)*
(صفحات:16)
سبق:1
(حقائقِ اشیا، علم کے اسباب: صحیح حواس/ سچی خبر/عقل)
[1]اہل حق (علماء ِ اہل سنّت وجماعت ) نے فرمایا : اشیا کی حقیقتیں موجودہیں اور ان حقیقتوں کا علم بھی ثابت ہے، برخلاف سُوفِسْطائیہ (فلسفیوں کا ایک گروہ جو حقائقِ اشیا کے منکر ہیں) کے۔
[2]مخلوق کے لیے علم کے ذرائع تین ہیں:(1) حواسِ سلیمہ (2)خبرِ صادق اور(3) عقل ۔
جب کہ حواس پانچ ہیں: سننا ، دیکھنا، سونگھنا،چکھنا اورچھونا۔ان حواس میں سے ہر حاسہ صرف اسی چیز کا ادراک کرتا ہے جس کے لیے وہ بنایا گیا ہے۔(مثلاً : آنکھ کو دیکھنے کے لیے بنایا گیا ہے)
[3]خبرِ صادق کی دو قسمیں ہیں:
①:خبرِ مُتواتِر: وہ خبر جو اتنے کثیر لوگوں کی زبان پر جاری ہو جن کے جھوٹ پر متفق ہونے کا تصور نہ کیا جاسکے ۔ اور یہ خبر علمِ بدیہی کا سبب بنتی ہے ،جیسے: ماضی کے بادشاہوں اور دور دراز کے شہروں کا علم۔
② :خبرِ رسول: رسولُ اللہ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی خبر ہے جس کی رسالت معجزہ سے ثابت ہو۔
[4]رسولُ اللہ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی خبر سے حاصل ہونے والا علم استدلالی یقین کا سبب ہوتا ہے، لیکن یقین اور ثبات کے لحاظ سے وہ علمِ ضروری (بدیہی) کے مشابہ ہوتا ہے۔
[5]عقل بھی یقینی علم کا سبب ہے۔( وہ امر جو عقل سے بدیہی طور پر ثابت ہو وہ ’’ضروری‘‘ہے ،جیسے: کُل کا اپنی جز سے بڑا ہونے کا علم۔ اور جو علم غور و فکر اور استدلال سے ثابت ہو وہ’’اکتسابی‘‘ ہے۔جیسے: آگ کو دیکھ کر دھوئیں کا علم حاصل ہونا)
[6]الہام اہل حق کے نزدیک کسی شے کی صحت کی (یقینی )معرفت کے اسباب میں سے نہیں ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع