30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لئے اچھا ہو ، کیونکہ ہوسکتا ہے کہ اگر دولت مند بن جائیں تو ناشکرے بندے بن جائیں کہ مال ہو تو گناہوں کے اَسباب بہت مِل جاتے ہیں۔ اگر مال نہیں ہوگا تو گُناہوں والی چیزیں خریدنا بھی مشکل ہوگا اور یُوں آدَمی گُناہوں سے بچ جائے گا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دولت مند بننے کے بعد غریبوں کو حَقارت سے دیکھنے لگیں اور تکبّر میں پڑ جائیں ، اِس لئے اگر مال نہیں ہے تو اچھا ہے کہ بندہ تکبّر کی مصیبت سے بچا ہوا ہے۔ ہمارے پاس جو بھی کمی ہے اُس کمی پر بھی اللہ پاک کا شکر اَدا کریں ، کیونکہ ہوسکتا ہے اُس کمی کی وجہ سے ہم آزمائش سے محفوظ ہوں۔ حُسن بھی ایک آزمائش ہوتی ہے۔ اگر حُسن نہ ہو تو بعض اَوقات آدَمی کُڑھتا ہے اور ایسا عورتوں میں زیادہ ہوتا ہوگا۔ لیکن ایسا بھی تو ہوتا ہے کہ بعض لڑکیاں اپنے حُسن کی وجہ سے اغوا ہوجاتی ہیں یا مصیبت میں پڑجاتی ہیں ، اِس لئے اگر کسی کے پاس حُسن نہیں ہے تو یہ بھی اُس کے لئے عافیت کی صورت ہوسکتی ہے۔ اللہ پاک نے جس حال میں رکھا ہے ، بندے کو شکر ادا کرنا چاہیے کہ یااللہ! تیری حکمت میں نہیں سمجھ سکتا۔ بس یہ دُعا کریں : اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ الْمُعَافَاۃَ فِیْ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ۔ یعنی اے اللہ! میں دنیا اور آخرت میں تجھ سے عافیت یعنی سلامتی کا سوال کرتا ہوں۔
****
*تین فرامینِ مصطَفٰے صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم : (1)مسلمان کو جو بھی تکلیف ، بیماری ، دُکھ ، پریشانی ، اَذِیت اورغم پہنچے یہاں تک کہ اگر اس کو کانٹا بھی چُبھ جائے ، اللہ پاک ا ن کے سبب اُس کے گناہ مٹادیتا ہے۔ ( بخاری ، 4 / 3 ، حدیث : 5641) (2)قیامت کے دن جب مصیبت زدہ لوگوں کو ثواب دیا جائے گا تو عافیت کے ساتھ رہنے والے تمنا کریں گے کہ “ کاش!دنیا میں ان کی کھالیں قینچیوں سے کاٹی جاتیں۔ “ (ترمذی ، 4 / 180 ، حدیث : 2410) (3)جو ایک رات بیمار رہا ، صبر کیا اور اللہ پاک کی رِضا پر راضی رہا تو وہ گناہوں سے ایسا نکل گیا جیسے اُس کی ماں نے اُسے آج ہی جنا ہو۔
(نوادرالاصول ، 3 / 147)
جے سوہنا میرے دُکھ وِچ راضی تے میں سُکھ نوں چُلّھے پاواں
*رَحمتِ عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم حضرتِ اُمُّ السّائب کے پاس تشریف لے گئے ، فرمایا : تجھے کیا ہوا ہے جو کانپ رہی ہے؟ عرض کی : بخار ہے ، اللہ پاک اس میں بَرَکت نہ کرے۔ فرمایا : بخار کو برا نہ کہہ کہ وہ آدمی کی خطاؤں کو اس طرح دور کرتا ہے جیسے بھٹی لَوہے کے میل کو۔ ( مُسلِم ، حدیث : 2575)
*حضر ت عطا ء بن ابو رَباح رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عبّاس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے فرمایا : کیا میں تمہیں اہلِ جنت میں سے کوئی عورت نہ دکھاؤں ؟ میں نے عرض کی : ضرور دکھائیے۔ فرمایا : یہ حبشی عورت ، جب یہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے پاس آئی تو اِس نے عرض کی : مجھے “ مِرگی “ ہے جس کی وجہ سے میرا ستر یعنی پردہ کھل جاتا ہے لہٰذا اللہ پاک سے میرے لئے دعا کیجئے۔ ارشاد ہوا : اگر تم چاہو تو صبر کرو اور تمہارے لئے جنت ہے اوراگر چاہو تو میں اللہ پاک سے تمہارے لئے دعاکروں کہ وہ تمہیں عافیت عطافرما دے۔ تو اس نے عرض کی : میں صبر کروں گی۔ پھر عرض کی : میرا پردہ کھل جاتا ہے ، اللہ پاک سے دعا کیجئے کہ میرا پردہ نہ کھلا کرے ۔ پھر آپ نے اُس کے لئے دعا فرمائی۔ (بخاری 4 / 6 ، حدیث : 5652)
* حضر تِ ضحاک رحمۃُ اللہ علیہ کا قول ہے : جو ہر چالیس رات میں ایک مر تبہ بھی آفت یا فکر و پریشانی میں مبتلا نہ ہو اُس کے لیے اللہ پاک کے یہاں کوئی بھلائی نہیں۔ (مُکاشَفۃ الْقُلوب ، ص15)
میرے بیمار بخت بیدار ! دیکھا آپ نے ؟ بیماری اور آفت کتنی بڑی نعمت ہے کہ اِس کی بَرَکت سے اللہ پاک بندے کے گناہ مٹاتا اور دَرَجات بڑھاتا ہے ، بے شک مرض ہو یا زخم ، ذہنی ٹینشن ہو یا گھبراہٹ ، نیند کم آتی ہو یا نفسیاتی اَمراض ، اولاد کے سبب غم ہو یا بے اولادی کا صدمہ ، روزی کی تنگی ہو یا قرضے کا بہت بڑا بوجھ اَلغر ض مسلمان کو مصیبتوں پر ثواب ملتا ہے ، ہر صورت میں صَبر سے کام لیجئے کہ بے صبری سے تکلیف تو جاتی نہیں اُلٹا نقصان ہی ہوتا ہے اور وہ بھی بہت بڑا نقصان یعنی صبر کے ذَرِیعے ہاتھ آنے والا ثواب ہی ضائِع ہوجاتا ہے۔ یاد رکھئے ! سب سے خطرناک بیماری کفر کی بیماری ہے اور گناہوں کی بیماری بھی سخت تشو یش ناک ہے۔ آفت و مصیبت اور بیماری وپریشانی لوگو ں سے چھپانا کارِ ثواب ہے۔ فرمانِ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ہے : “ جس کے مال یا جان میں مصیبت آئی پھر اُس نے اسے پوشیدہ رکھا اور لوگوں سے شکایت نہ کی تو اللہ پاک پر حق ہے کہ اس کی مغفِرت فرمادے۔ “ ( معجم اوسط ، 1 / 214 ، حدیث737)
*حضر ت شیخ سعدی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ایک دفعہ دریا کے کنارے پر ایک بزرگ تشریف فرما تھے اُن کے مُبارک پاؤں کو چیتے نے کاٹ لیا تھا اور زَخم بے حد خطرناک صورت اِختیار کر گیا تھا۔ لوگ جمع تھے اور ان پر رَحم کھارہے تھے۔ مگروہ فرمارہے تھے ، کوئی تشویش کی بات نہیں یہ تو مقامِ شکر ہے کہ مجھے جسمانی مرض ملا ، اگر میں گناہوں کے مرض میں مبتلا ہوجاتا تو کیا کرتا !
(گلستان سعدی ، ص 60 )
(1)روزی کیلئے : یَا مُسَبِّبَ الْاَسْبَابِ 500 بار ، اوّل آخر درود شریف 11 ، 11بار ، بعدنمازِ عشا قبلہ رُو با وضو ننگے سر ایسی جگہ پڑھئے کہ سراورآسمان کے درمیان کوئی چیز حائل نہ ہو ، یہاں تک کہ سر پر ٹوپی بھی نہ ہو۔ اسلامی بہنیں ایسی جگہ پڑھیں جہاں کسی اجنبی یعنی غیرمحرم کی نظر نہ پڑے۔ اِنْ شاء اللہ روزی کی تنگی دُور ہو گی (2) یَااللہ 101بار کاغذ پر لکھ کر تعویذ بنا کربازو پر باندھ لیجئے ، جائز کام دھندے اور حلال نوکری میں دل لگ جائے گا(3)7روز تک ہر نَماز کے بعد یَا رَزَّاقُ یَا رَحْمٰنُ یَا رَحِیْمُ یَا سَلَامُ 112 بار پڑھ کر دعا کیجئے ، اِن شاءَ اللہ بیماری ، تنگدستی و ناداری سے نجات حاصِل ہو گی۔ (4)چوری سے حفاظت : یَاجَلِیْلُ ( اے بزرگی والے)10 بار پڑھ کر اپنے مال واَسباب اوررقم وغیرہ پردم کردیجئے ، اِن شاءَ اللہ چوری سے محفوظ رہے گا۔ (5)شادی کیلئے : جن لڑکیوں کی شادی نہ ہوتی ہو یا منگنی ہو کر ٹوٹ جاتی ہو وہ نمازِ فجر کے بعد یَا ذَا الْجَلاَلِ وَالْاِکْرَام 312بارپڑھ کر اپنے لئے نیک رشتہ ملنے کی دعا کریں ، اِن شاءَ اللہ جلدشادی ہو اور خاوَند بھی نیک ملے۔ (6)یَا حَیُّ یَاقَیُّوْم 143بار لکھ کر تعویذ بنا کر کنوارا اپنے بازو میں باندھے یا گلے میں پہن لے اُس کی جلد شادی ہو جائے گی اور گھر بھی اچھا چلے گا۔ (7)اولادِ نرینہ کیلئے : یَامُتَکَبِّرُ 10بار ، زوجہ سے ’’ملاپ‘‘سے قبل پڑھ لینے والا نیک بیٹے کا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع