دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Apni Pareshani Zahir Karna Kesa | اپنی پریشانی ظاہر کرنا کیسا ؟

book_icon
اپنی پریشانی ظاہر کرنا کیسا ؟

جائے گا تو نہیں ہوگا۔ یہ ’’تقدیرِ معلّق‘‘ کہلاتی ہے۔ اِس میں بھی اللہ پاک کو معلوم ہے کہ یہ اِسکوٹر پر جائے گا یا نہیں جائے گا ، لیکن اُس کے معلوم ہونے نے اِسے اسکوٹر پر جانے یا نہ جانے کے لئے مجبور نہیں کیا۔ مثلاً دوا کی بوتل پر Expiry dateلکھی ہوتی ہے ، کمپنی والوں کو تجربے سے پتا ہوتا ہے کہ یہ دَوا کب تک کار آمد رہے گی ،  لیکن اُن کے Expiry date لکھنے سے وہ دَوا Expire ہونے پر مجبور نہیں ہوتی ، اگر کمپنی والے نہیں بھی لکھتے تب بھی دَوا اُسی تاریخ کو Expireہوجاتی ، لہٰذا لکھنے اور نہ لکھنے سے کوئی فرق نہیں پڑا۔ اِسی طرح تقدیر میں بھی ایسا نہیں ہے کہ اللہ پاک نے لکھ دیا ہے ، اِس لئے بندے کو کرنا پڑ رہا ہے ، بلکہ بندہ جیسا کرنے والا تھا ، اللہ پاک نے ویسا ہی اپنے علم سے لکھ دیا۔ (بہارشریعت ، 1 / 11 ، حصہ : 1 ملخصا)اللہ پاک کو سب معلوم ہے ، اُس سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں ہے۔

خوف دُور کرنے کا روحانی عِلاج

سُوال : رات کو اچانک آنکھ کھلنےکے بعد بہت ڈر لگتا ہے ، اِس صُورت میں کیا کیا جائے؟   (SMSکے ذریعے سُوال)

جواب : اگر ایسا ہو تو “ یَارَءُوْفُ ، یَارَءُوْفُ “  پڑھتے رہیں ، اِن شاءَ اللہ خوف دُور ہو جائے گا۔

سچائی میں عظمت ہے

سُوال : سچ کے متعلق کچھ اِرشاد فرمادیجئے ، لوگ سچ کو اَہمیت نہیں دیتے۔

جواب : ایک جملہ ہے : ’’سانچ کو آنچ نہیں۔ ‘‘ جَہالت اِتنی چھا گئی ہے کہ اب لوگ بولتے ہیں کہ ’’جھوٹ کے بغیر گزارہ نہیں ہے ، جھوٹ نہیں بولیں گے تو فُلاں فُلاں کام نہیں ہوگا۔ ‘‘ حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ سچائی کی زِندگی گزارنے والے گزارتے ہیں۔ سچے آقا   صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم   کے سچّے غُلام جن کے مَزارات پر آج چراغاں ہورہا ہے ، جن کا عُرس منایا جارہا ہے اور اِیصالِ ثواب کیا جارہا ہے ، اُنہوں نے دُنیا میں سچائی کے ساتھ زِندگی گزاری ہے ، یہی وجہ ہے کہ آج اُن کی موج لگی ہوئی ہے۔ قرآنِ کریم میں حکم ہے :  (وَ كُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ(۱۱۹)) (پ11 ، التوبۃ : 119)(ترجَمۂ کنز الایمان : اور سچوں کے ساتھ ہو)۔ یہ بڑی غَلَط سوچ ہے کہ ’’سچائی کا زمانہ نہیں ہے ، یا جھوٹ کے بغیر گزارہ نہیں ہے۔ ‘‘ دراصل ذہن خراب ہوچکا ہے ، اِس لئے ایسی باتیں کی جاتی ہیں ، ورنہ حقیقت یہ ہے کہ سچّائی میں عظمت ہے ، جھوٹ میں کوئی عظمت نہیں ہے ، بلکہ تباہی و بَربادی ہے ، اِس لئے ہمیشہ سچ بولنا چاہیے۔ اَحادیثِ مُبارَکہ میں سچ کے فضائل موجود ہیں۔ ( بخاری ، 4 / 125 ، حدیث : 6094)

                             کاروبار میں جھوٹ بول کر بظاہِر ایسا لگتا ہے کہ نفع ہوگیا ہے ، لیکن ہوسکتا ہے کہ یہی آنے والا نفع سکون چھین لے۔ آپ اگر مالداروں کے اندر جھانک کر دیکھیں گے تو آپ کو سکھی لوگ کم ملیں گے۔ یہ اچھے کپڑ ے پہن کر آپ کے سامنے بیٹھے ہوتے ہیں ، مگر اندرونی طور پر ایک تعداد ٹوٹی ہوئی ہوتی ہے۔ کسی کو کوئی ٹینشن تو کسی کو کوئی۔ ضروری نہیں کہ یہ سب جھوٹ بولنے کی وجہ سے ہی ہوا ہو ، کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اِس دور میں جھوٹ بولے بغیر زیادہ دولت جمع کرلینا بڑا دشوار ہے۔ مزید یہ کہ تِجارت کے مسائل بھی پتا نہیں ہوتے ، یوں بھی گُناہوں میں پڑ جاتے ہیں۔ اگر جھوٹ بول کر مال بِک بھی گیا تو اُس میں بَرَکت اور بھلائی نہیں ہوگی۔ کبھی بیماری میں چلے جائیں گے یا کبھی ڈاکو اُٹھا کر لے  جائیں گے۔ اگر کسی کے ساتھ ایسا ہو تو اِس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ مال حَرام کا تھا ، میں ایک جنرل بات کررہا ہوں۔ جھوٹ بول کر زیادہ مال آبھی جائے تو اُس میں بَرَکت اور سُکون نہیں ہوتا۔ جو غریب آدمی صابِر اور شاکِر ہوگا وہ آپ کو پُرسُکون مِلے گا ، اُس کی دُنیا بھی پُرسُکون ہوتی ہے ، کیونکہ اُسے فُٹ پاتھ پر بھی نیند آجاتی ہے اور اُسے اغوا ہونے یا ڈکیتی ہونے کا بھی خوف نہیں ہوتا ، کیونکہ اُس کے پاس اِتنا مال ہی نہیں ہوتا جس کی وجہ سے اُسے خطرہ ہو۔ اور ایسا غریب حدیثِ پاک کے مُطابِق مالدار لوگوں سے 500 سال پہلے جنّت میں بھی چلا جائے گا۔ ( ترمذی ، 4 / 157 ، حدیث : 2358)  مالدار اِس لئے رُکا رہے گا کہ اُس نے اپنے مال کا حساب دینا ہوگا اور اگر مال حَرام کا ہوگا تو پھر عذاب بھی ہوگا۔ جو غریب آدَمی گلے شکوے کرتا ہے یا دُوسروں کے مال پر نظر رکھتا ہے اُس کے لئے یہ فضیلت نہیں ہے۔ ( شرح صحیح بخاری لابن بطال ، 10 / 173 ماخوذا)

بہر حال! جھوٹ بول کر وقتی طور پر نجات مِل بھی جائے ، تب بھی جھوٹے شخص کا اِعتِماد ختم ہوجاتا ہے ، آہستہ آہستہ لوگو ں کو پتا چل جاتا ہے کہ اِس کی زبان کا ٹھکانا نہیں ہے اور پھر وہ لوگوں میں بدنام ہوجاتا ہے۔ بعد میں سچ بھی بولتا ہے تو لوگ اُس کی بات کو جھوٹ سمجھتے ہیں۔ جیسا کہ ایک چرواہا بکریاں چَراتا تھا ، ایک بار اُسے مستی سُوجھی اور اُس نے جنگل میں ایک اُونچے ٹیلے پر چڑھ کر چیخنا شروع کردیا کہ ’’شیر آگیا ، شیر آگیا۔ “  قریبی آبادی کے لوگ ڈنڈے ، بھالے اور جو ہاتھ آیا لے کر دوڑے ، لیکن جب پہنچے تو چرواہا کھڑا ہنس رہا تھا۔ بات آئی گئی ہوگئی۔ ایک بار سچ مچ شیر آگیا۔ چرواہا پھر ٹیلے پر چڑھا اور چیخنے لگا : ’’شیر آگیا ، شیر آگیا‘‘لوگوں نے سُنا تو بولا کہ جھوٹ بول رہا ہے ، اِس کا کیا بھروسہ! بعد میں جب لوگوں کا وہاں سے گزر ہوا تو دیکھا کہ شیر نے اُس کو چیر پھاڑ دیا تھا اور اُس کی بکریاں بھی بھاگ گئی تھیں ، یا اُس کی بکریوں کو شیر نے کھالیا تھا اور چرواہا زِندہ تھا ، اُس نے لوگوں سے کہا کہ تم لوگ کیوں نہیں آئے؟ لوگوں نے کہا کہ پہلے تم نے جھوٹ بولا تھا ، اِس لئے ہم سمجھے کہ اب بھی جھوٹ بول رہے ہو۔  یُوں اس کے جھوٹ کی وجہ سے اُسے نقصان ہوا۔ جھوٹ میں دونوں جہاں کا نقصان ہے اور اِس کا ایک سے ایک عذاب ہے۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن