دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Apni Pareshani Zahir Karna Kesa | اپنی پریشانی ظاہر کرنا کیسا ؟

book_icon
اپنی پریشانی ظاہر کرنا کیسا ؟

جواب : حدیثِ پاک میں ہے کہ ’’صبر تو اوّل صدمے میں ہوتا ہے۔ ‘‘( بخاری ، 1 / 434 ، حدیث : 1283) بعد میں تو صبر آہی جاتا ہے۔ اِس لئے جیسے ہی تکلیف آئے بندہ بولے نہیں ، بس چپ ہوجائے اور اپنی باڈی لینگویج سے بھی ایسا اِظہار نہ کرے کہ سامنے والا یہ سمجھے کہ  اِسے کوئی تکلیف ہے ، کیونکہ اگر کوئی بھلے چپ رہے ، لیکن مُنہ بگاڑے ، آہ ، اُوہ کرے تو ظاہر ہے کہ سامنے والا پوچھے گا کہ کیا ہوا؟ ایسے میں بندہ بولے کہ خود تھوڑی بتایا ہے ، اِس نے پوچھا ہے تو بتایا ہے ، حالانکہ اپنے جسم یا چہرے پر بورڈ چڑھا رکھا تھا کہ مجھ سے پوچھو کہ کیا تکلیف ہے؟ جبھی اس نے آکر پوچھا ہے۔ یُوں طرح طرح کی ٹیکنیک (Technique) ہوتی ہے۔ اِنَّمَاالْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ۔ (یعنی اَعمال کا دار و مَدار نیّتوں پر ہے)۔ (بخارى ، 1 / 6 ، حدیث : 1)  بِلا ضرورت کسی کے سامنے تکلیف کا اِظہار کرنے سے صبر کی منزل ہاتھ سے نکل جاتی ہے۔ اور یہ بہت مشکل کام ہے ، کیونکہ اگر کسی کا موبائل چھن جائے یا جیب کَٹ جائے تو وہ مسکراتے ہوئے چُپ چاپ مَدَنی مُذاکَرے میں شرکت نہیں کرے گا ، بلکہ لوگوں کو پکڑ پکڑ کر بولے گا کہ ’’میرا موبائل گن پوائنٹ پر لے لیا ، مجھے مارنے کی دھمکی دے رہے تھے ، جھگڑا کرتا تو فائر کردیتے‘‘ یُوں بندہ ہمدردیاں حاصل کرتا ہے۔ بعض اَوقات مصیبت سُن کر بھی سامنے والے کے کان پر جُوں تک نہیں رینگتی اور بندے کی ناک کٹ جاتی ہے ، سامنے والا صرف ’’اچھا‘‘ کہہ کر نکل جاتا ہے ، اِس لئے بندے کو کیا بولنا! اللہ پاک کی بارگاہ میں عرض کی جائے اور دُعا مانگی جائے ، دُعا مانگنا بے صبری نہیں ہے۔ گھر میں چوری ہوجائے ، یا آگ لگ جائے یا کوئی نقصان ہوجائے یا بچّہ اور ماں باپ بیمار ہوجائیں تو بِلاضرورت کسی کو نہ بولیں ، بولنا پڑے تو ضرورتاً بولیں۔ 100 (لوگوں) کو بتانے کی ضرورت ہے تو 100 کو بتائیں ورنہ ایک کو بھی نہیں۔ مثلاً گھر میں کسی کا اِنتِقال ہونا ایک مصیبت ہے ، بلکہ بندے پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑتا ہے۔ اب ایسے میں بندہ لوگوں کو اِس مصیبت کا بتائےگا ، کیونکہ وہ جمع ہوں گے اور جنازہ پڑھیں گے۔ یہ صُورت ٹھیک ہے۔ اِس میں بھی رونے دھونے اور ایسے اَنداز سے غم ظاہر کرنے سے بچنا ہوگا جسے بے صبری کہا جائے۔ آنسو بہنا بے صبری نہیں ہے ، کیونکہ یہ خود بخود آرہے ہیں۔ ایسی کیفیت نہ بنائے جس سے خوب غم کا اِظہار ہو ، جیسے عورَتوں میں یہ عادت زیادہ ہوتی ہے کہ اکیلے ہوں گی تو چُپ ہوں گی ، لیکن جیسے ہی کوئی مِلنے یا تعزیت کرنے آئے گی تو رونا شروع کردیں گی اور بتائیں گی کہ یہ ہوگیا ہے۔ اس طرح کے اثرات کچھ مَردوں میں بھی موجود ہوتے ہیں۔ یہ بے صبری ہے۔ اللہ کریم ہم سب کو حقیقی معنوں میں صبر عطا فرمائے۔ صبر جنّت کا خزانہ ہے۔ کاش! ہم کو نصیب ہوجائے۔ نفس و شیطان صبر کرنے نہیں دیتے ، کیونکہ جنّت کا خزانہ جب اِتنی آسانی سے مِل رہا ہوگا تو نفس و شیطان کہاں حاصل کرنے دیں گے! ہماللہ پاک سے توفیقِ خیر و بھلائی کی درخواست کرتے ہیں کہ ہم کو واقعی صبر عطا کردے اور صبر کرنے والے اِمام حسین  رضی اللہ عنہ  کا صدقہ نصیب ہوجائے۔ اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم

کیا سیلفی لیتے ہوئے مَرنا خودکشی ہے؟

سُوال : جو لوگ بلند مقامات سے سیلفی (Selfie)لیتے ہوئے گِر کر مَرجاتے ہیں ، کیا اُن پر خودکشی کا حکم لگے گا؟

جواب : یہ لوگ جان بوجھ کر اپنی جان کو ختم نہیں کرتے ، اِس لئے اِن پر خودکشی کا حکم نہیں لگے گا۔ البتہ اِتنا ضرور ہے کہ ایسا کرنا اِن کے لئے شرعاً دُرُست نہ تھا۔ قرآنِ کریم میں ہے : ( وَ لَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْكُمْ اِلَى التَّهْلُكَةِ ﳝ- )(پ2 ، البقرة : 195)(ترجَمۂ کنزالایمان : اور اپنے ہاتھوں  ہلاکت میں نہ پڑو)۔ یہ لوگ اپنی بہادُری بلکہ حماقت کے چکّر میں آکر صرف یہ دِکھاوا کرنے کے لئے کہ ’’میں بڑا ہمت والا ہوں ، دیکھو! میں نے کیسی سیلفی بنائی ہے‘‘اپنی جان خطرے میں ڈال دیتے ہیں اور بعض اَوقات موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ کوئی ٹرین سے کچلا جاتا ہے تو کوئی چھت یا کسی عمارت سے گر پڑتا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے ہند کی ایک ویڈیو Viral (یعنی عام) ہوئی تھی جس میں ایک مسلمان نوجوان شیر کے ساتھ سیلفی بناتے ہوئے اُونچی دیوار سے شیر کے پنجرے میں گِرگیا تھا اور شیر اُسے گھسیٹتا ہوا لے گیا تھا ، لیکن اِس دوران اُس نوجوان کا ہارٹ فیل ہوچکا تھا۔ اللہ پاک اُس کی مغفر ت فرمائے اور غریقِ رحمت کرے۔

  اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم  ۔

سیلفی بہت خطرناک چیز ہے ، البتہ بعض اَوقات خطرناک نہیں بھی ہوتی ، لیکن اِس کی وجہ سے لوگوں کو بس ایک مصروفیت مِل گئی ہے۔ موت اگر لکھی ہو تو کسی بہانے بھی آجاتی ہے اور اِنسان کو سمجھ نہیں پڑتی جس کی وجہ سے اِنسان کوئی ایسی حرکت کرگزرتا ہے اور پھر موت کے مُنہ میں چلا جاتا ہے۔ اللہ پاک ہم سب کی حفاظت فرمائے۔

تقدیر میں سب لکھا ہے تو محنت کیوں؟

سُوال : اگر تقدیر میں ہر چیز لکھ دی گئی ہے تو ہمیں محنت کرنا کیوں ضروری ہے؟   (علی رضا۔ SMS کے ذریعے سُوال)

جواب : اگر تقدیر میں سخت سردی سے ٹھٹھر کر مَرنا لکھ دیا گیا ہے تو گرم کپڑ ے کیوں پہنتے ہو!! اگر قسمت میں چوری لکھ دی گئی ہے تو دروازہ بند کرنے کی کیا ضرورت ہے!! نوٹ اور سونے کے زیورات چھپانے کی کیا ضرورت ہے!! دروازہ کھلا رکھو! سامان نکال کر گلی میں چھوڑ دو! تقدیر میں لکھا ہوگا تو چوری ہوجائے گا ورنہ چوری نہیں ہوگا ، بلکہ کسی کو نظر بھی نہیں آئے گا۔ ساری باتوں میں آپ تدبیر کرتےہیں ، تقدیر پر نہیں چھوڑتے ، لیکن بعض مُعامَلات میں تقدیر پر چھوڑدیتے ہیں ، جیسے بعض بے باک قسم کے لوگ بولتے ہیں کہ ’’یار! اگر تقدیر میں جنّت ہوگی تو مِل جائے گی ، ورنہ دوزخ مِل جائے گی۔ ‘‘( مَعاذَ اللہ) تقدیر کے معاملے میں بحث کرنے سے حدیثِ پاک میں حضرت صدیقِ اکبر اور حضرت فاروقِ  اَعظم   رضی اللہ عنہما  کو بھی منع فرمادیا گیا تھا۔ ( معجم کبیر ، 2 / 95 ، حدیث : 1423مفہوما)اِس لئے تقدیر کے متعلق بحث نہ کی جائے۔ ہمارا کام بس اِتنا ہے کہ “ وَالْقَدْرِ خَیْرِہٖ وَشَرِّہٖ مِنَ اللہ تَعَالٰی۔ یعنی بُری اور بھلی تقدیر اللہ کی طرف سے ہے۔ ‘‘ ہمیں اللہ پاک کی رِضا پر راضی رہنا چاہیے۔  تقدیر میں بعض چیزیں معلّق بھی رہتی ہیں۔ ( بہارشریعت ، حصہ 1 ، 1 / 14 ماخوذاً ) مثلاً اِسکوٹر پر جائے  گا تو ایکسیڈنٹ ہوگا ، اِسکوٹر پر نہیں

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن