سوال:مسلمان سب سے زیادہ مہذّب قوم ہے،اچھی تعلیم رکھتی ہے،اِس کے باوجود مسلمان اتنے پریشان کیوں ہیں؟
(فیس بک کے ذَریعے سُوال)
جواب:پہلے مسلمانوں کی جو تاریخ رہی ہے وہ یہ ہے کہ مہذّب ہونا، باعمل ہونا،ایک دوسرے کے ساتھ اُخوّت والا مُعاملہ کرنا اور پابندی سے وقت پر باجماعت نمازیں ادا کرنا، جبکہ آج کا مسلمان ایسا نہیں رہا بلکہ بے نمازی ہو گیا ہے۔ مسلمانوں کی بھاری اکثریت نماز ہی نہیں پڑھتی۔ ایسا ہی حال رَمَضانُ المبارک کے روزوں کا ہے،مسلمانوں کی ایک تعداد ہے جو سِرے سے روزہ رکھتی ہی نہیں ، پاکستانی مسلمانوں کا یہ حال ہے تو بیرونِ ملک کے مسلمانوں کا کیا حال ہو گا؟آج کے دَور میں جو ٹیکنالوجی ہے مثلاً جہاز،موبائل اور کمپیوٹر وغیرہ وہ پہلے نہیں تھی اس کے باوجود امیر المومنین حضرتِ سَیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ آدھی دُنیا پر سلطنت کرتے رہے ہیں۔( ) لیکن آج اسلامی ممالک میں کسی نہ کسی طرح غیر مسلم حکومت کر رہے ہیں۔ اللہ پاک کرے کہ مسلمانوں کی وہی عظیم الشان حکومت اور شان و شوکت پھر سے قائم ہو جائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم
سوال:کیا یہ بات دُرُست ہے کہ جہاں اللہ پاک کے نیک بندوں کا ذِکر ہوتا ہے وہاں اللہ پاک کی رَحمت نازل ہوتی ہے؟( )
جواب:جی ہاں!حضرتِ سَیِّدُنا سفیان بن عیینہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ سے منقول ہے:عِنْدَ ذِکْرِ الصَّالِحِیْنَ تَنْزِلُ الرَّحْمَۃُ یعنی نیک بندوں کے ذِکر کے وقت اللہ پاک کی رَحمت نازِل ہوتی ہے۔( ) جب نیک لوگوں کے ذِکر کے وقت رَحمت نازِل ہوتی ہے تو جہاں پر پیارے پیارے آقا ،مدینے والے مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا ذِکر ہو جن کے صَدقے میں نیک بنا جاتا ہے وہاں پر رَحمتِ اِلٰہی کیوں نازل نہ ہو گی۔
سوال:کیا نومولود بچے کو جمعہ کے دِن نہلایا جا سکتا ہے؟
جواب:نومولود بچے کو نہلانا چاہیے،نیز بچے کے کان میں اذان کہی جائے یہ مُسْتَحَبہے۔ ( )
سوال:جنَّت میں کون کون سی چیزیں ہیں؟(محمد رمضان)
جواب:جنَّت میں ایسی ایسی نعمتیں موجود ہیں،جنہیں کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ ہی کسی کان نے سُنا ہے۔اللہ پاک ہم سب کو جنَّت میں داخلہ نصیب فرمائے۔ہمارے پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے جنَّت کی سَیر فرمائی ہے ۔اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ نے قصیدۂ معراجیہ میں اس کا نقشہ کچھ یوں کھینچا ہے:
وہ برج بطحا کا ماہ پارہ بہشت کی سَیر کو سدھارا
چمک پہ تھا خلد کا ستارہ کہ اس قمر کے قدم گئے تھے
طرب کی نازِش کہ ہاں لچکیے اَدَب وہ بندش کہ ہل نہ سکیے
یہ جوشِ ضدَّین تھا کہ پودے کشاکشِ اَرّہ کے تلے تھے (حدائقِ بخشش)
یعنی جب حضورِ انور صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم جنَّت میں تشریف لے گئے تو آپ کے قدمِ مُبارک کو گویا جنَّت نے چوم لیا اور اس کی قسمت چمک اُٹھی تھی کہ حضور صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی آمد ہوئی ہے۔جنَّت میں مزید نکھار آگیااور جنَّت کے پودوں نے آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی آمد کی خوشی پر جھومنا چاہا لیکن اَدب کا تقاضا یہ تھا کہ ہل بھی نہ سکتے تھے۔
سوال:کچھ لوگ اپنے بچوں کے سامنے پان اور چھالیا کھاتے ہیں، کیا ان کاایسا کرنا دُرُست ہے؟
جواب:بچوں کے سامنے پان اور چھالیا کھانا غَلَط بات ہے۔ مجھے ایک واقعہ یاد آگیا کہ کسی نے بتایا تھا کہ ایک اسلامی بہن چھالیا کھایا کرتی تھی اور اس وجہ سے ان کے منہ میں کینسر ہو گیا،اب گھر والے ان کو لے کر ہسپتال بھاگے،ڈاکٹر صاحب نے بھی کہہ دیا کہ آپریشن ہو گا اور اتنے لاکھ روپے کا خرچہ ہو گا ،وہ گھر والے غریب تھے، بیچارے کیا کرتے ،اسی کینسر کی بیماری میں اس اسلامی بہن کا اِنتقال ہو گیا۔اللہ پاک انہیں غریقِ رَحمت فرمائے۔بعض لوگ خوشبو والی چھالیا کھاتے ہیں اور کچھ لوگ سوتے ہوئے اپنے منہ میں چھالیا رکھتے ہیں یہ بھی بہت خطر ناک کام ہے۔ اگر کسی کو کھانی ہی ہیں تو بازار سے کچی سونف اور دَھنیا لے کر مکس کر کے گھر میں توے پر پکائیں، یہ دھنیا الگ ہوتا ہے جسے سالن میں نہیں ڈالا جاتا ،ضَرورتاً اس میں نمک بھی چھڑک لیں اور پھر کھائیں ،یہ سونف سُپاری بازاری چیز سے اِنْ شَآءَ اللّٰہ زیادہ مزہ دے گی۔نمک والی سونف سُپاری الگ ہوتی ہے اور مصری والی الگ ہوتی ہے۔جس کو شُوگر ہو وہ نمک والی بنا لے جس کو شُوگر نہ ہو وہ شکر یا مصری والی بنا کر کھا لے اس میں کوئی نقصان نہیں ہے ۔بازاری سونف سُپاری نہیں کھانی چاہیے،اس کے بہت نقصانات ہیں۔ ملاوٹ کا زمانہ ہے،لوگ ہر چیز میں مِلاوٹ کرتے ہیں،سونف سُپاری میں کھوپرا بھی ڈالا جاتا ہے، پاکستان میں ناریل کی اتنی پیداوار نہیں ہےلہٰذا جو گلا سڑا کھوپرا ملتا ہو گا وہی ڈال دیتے ہوں گے۔ناریل کی شکل والا ایک اور پھل ہوتا ہے جسے تاڑ کہتے ہیں یہ بہت سخت ہوتا ہے،اگر کسی کے سر پر مارا جائے تو اس کا سر پَھٹ جائے گا،اسے بھی پِیس کر کھوپرے کی جگہ ڈال دیتے ہوں تو کچھ کہہ نہیں سکتے۔ایسے لوگ بھی ہیں کہ پیسے کمانے کے چکّر میں مصری کی جگہ شیشہ پِیس کر بھی ڈال دیتے ہیں۔ اگر مسلمانوں کا حال ایسا ہی رہا تو بہت سی مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اگر مسلمان ملاوٹ کرے گا تو ترقّی کیسے کرے گا؟بےنمازی اگر نمازی بن جائیں،ملاوٹ کرنے والے ملاوٹ سے باز آجائیں اور ایک دوسرے سے ہَمدردی کریں تو اِنْ شَآءَ اللّٰہ کامیابی قدم چومے گی۔
”بہت عرصہ پہلے کی بات ہے کہ میں عطر اور اگربتی بیچا کرتا تھا،میں ایک ہول سیل کی دکان پر سامان لینے گیا تھا، وہاں ایک شخص آیا اور سستے والا عطر لے کر چلا گیا، بعد میں دکاندار نے مجھے بتایا کہ یہ اپنی دکان میں موجود پان،گٹکا اور چھالیا جیسی چیزوں میں ملا کر لوگوں کو بیچتا ہے۔اِسی طرح ہمارے ایک اسلامی بھائی تھے ان کا رنگ کا کاروبار تھا،انہوں نے بتایا تھا کہ گلابی فوڈ کلر بہت مہنگا ہوتا ہے،دکاندار اسے خرید نہیں پاتے تو کپڑے رنگنے کا رنگ خرید کر اسے کھانے کی چیزوں میں ڈال دیتے ہیں۔ ان اسلامی بھائی کا اِنتقال ہو چکا ہے اللہ پاک ان کی مغفرت فرمائے۔“ یہ جو ٹافی کی طرح کھٹی میٹھی گولیاں آتی ہیں ان پر فوڈ کلر کسی بھی طرح نہیں چڑھتا ،ان پر بھی لوگ کپڑے رنگنے کا ہی کلر لگاتے ہیں۔ پھر لوگوں کو وہ چیزیں بیچتے ہیں اور لوگ بھی خرید کر کھاتے ہیں۔ میرے سامنے گلابی رنگ کی کوئی کھانے کی چیز آتی ہےجیسے کسٹرڈ وغیرہ تو میں اسے نہیں کھاتا۔ ملاوٹ کرنے والے لوگوں کو اللہ پاک سے ڈرنا چاہیے،فوڈ کلر مہنگا ہی سہی مگر وہی لینا چاہیے تاکہ لوگوں کو اچھی چیز ہی کھانے کو ملے۔سب دکاندار ایسے نہیں ہوں گے،کچھ اچھے بھی ہوں گے جو بزنس میں کم کماتے ہوں گے لیکن لوگوں کو دُرُست چیزیں فراہم کرتے ہوں گے۔ اب مقابلے کا دور چل رہا ہے، کم قیمت پر چیز بیچنے والے کے مقابلے میں زیادہ قیمت پر بیچنے والا مقابلہ کہاں کر سکتا ہے؟یہ جو پانی آتا ہے یہ بھی خالص نہیں ہوتا ، پاکستان کا ہی صرف یہ حال نہیں بلکہ دُنیا کے تمام ممالک کا حال ایسا ہی ہے ۔اللہ پاک ہمارے حال پر رحم فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم
قرآنِ مجید کلامِ الٰہی ****
کتاب کا نام مصنف/مؤلف/متوفیٰ مطبوعات
مسلم امام ابو الحسین مسلم بن حجاج قشیری، متوفی۲۶۱ھ دارالکتاب العربی بیروت۱۴۲۷ھ
ابو داود امام ابو داود سلیمان بن اشعث سجستانی، متوفی۲۷۵ھ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱۴۲۱ھ
ابن ماجه امام ابو عبدُ اللہ محمد بن یزید ابن ماجہ، متوفی۲۷۳ھ دار المعرفۃ بیروت۱۴۲۰ھ
شعب الایمان امام ابو بکر احمد بن حسین بن علی بیہقی، متوفی۴۵۸ھ دار الکتب العلميۃ بیروت ۱۴۲۱ھ
حلية الاولیاء حافظ ابو نعیم احمد بن عبدُ اللہ اصفہانی شافعی، متوفی۴۳۰ھ دار الکتب العلميۃ بیروت ۱۴۱۹ھ
مراٰة المناجیح حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی، متوفی۱۳۹۱ھ ضیاء القرآن پبلی کیشنز لاہور
مناقب امام اعظم للکردری محمدبن محمد المعروف بابن بزارکردری ،متوفّٰی ۸۲۷ھ کوئٹہ
درمختار علاؤالدین محمد بن علی حصکفی،متوفی۱۰۸۸ھ دارالمعرفۃبیروت۱۴۲۰ھ
رد المحتار سید محمد امین ابن عابدین شامی،متوفی۱۲۵۲ھ دارالمعرفۃ بیروت۱۴۲۰ھ
فتاویٰ ھندية ملانظام الدین، متوفی۱۱۶۱،وعلمائے ھند دارالفکربیروت۱۴۱۱ھ
فتاویٰ رضویہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان، متوفی۱۳۴۰ھ رضا فاؤنڈیشن لاہور۱۴۲۷ھ
فتاویٰ مفتی اعظم مفتی اعظم ہند محمد مصطفےٰ رضا خان، متوفی۱۴۰۲ھ شبیر برادرز لاہور
بہارِشریعت مفتی محمد امجد علی اعظمی، متوفی۱۳۶۷ھ مکتبۃ المدینہ کراچی۱۴۲۹ھ
فیضانِ فاروقِ اعظم المدینۃ العلمیۃ مکتبۃ المدینہ کراچی