دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Apnay Liye Kafan Tayyar Rakhna Kaisa? | اپنے لیے کفن تیار رکھنا کیسا؟

book_icon
اپنے لیے کفن تیار رکھنا کیسا؟

غلاظتوں سے نہ بچا سکا ۔

آہ صد آہ !یہ دونوں حکم توڑنے کے بعدمیں کس مُنہ سے اس قہّار و جبّار عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر اپنے اَعمال ِ زندگی کا حساب دوں گا؟ اور پھر ایسی خطر ناک صورتِ حال کہ خود میرے اَعضائے جسمانی مثلاً ہاتھ ، پاؤں، آنکھ ، کان ، زبان وغیرہ میرے خلاف گواہی دینے کے لیے بالکل تیار ہیں۔ دوسری طرف اپنی مختصر سی زندگی میں نیک اَعمال اِختیار کرنے والوں کو ملنے والے اِنعامات دیکھ کر اپنے کرتوتوں پر شدید اَفسوس ہو رہا ہے  کہ وہ اِطاعت گزار بندے تو سیدھے ہاتھ میں نامۂ اعمال لے کر شاداں و فرحاں جنّت کی طرف بڑھے چلے جا رہے ہیں لیکن نامعلوم میرا اَنجام کیا ہو گا؟کہیں ایسا نہ ہو کہ مجھے اُلٹے ہاتھ میں نامۂ اعمال  تھماکر جہنم میں جانے کا حکم سُنا دیا جائے اور سارے عزیز واَقارب کی نظروں کے سامنے مجھے مُنہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے، ہائے میری ہلاکت!ہائے میری رُسوائی(وَالْعِیَاذُ بِاللّٰہ)

یہاں پَہُنچ کراپنی آنکھیں کھول دیجیے اور اپنے آپ سے مخاطب ہو کر یوں کہئے کہ’’ابھی یہ وقت نہیں آیا، ابھی تو میں دُنیا میں ہوں، اس مختصر سی زندگی کو غنیمت جانوں اور اپنی آخرت سَنوارنے کی کوشِش میں مصروف ہوجاؤں۔‘‘پھر پختہ اِرادہ کیجیے کہ’’میں اپنے ربّ  تَعَالٰی کا اِطاعت گزار بندہ بننے کے لیے اس کے اَحکامات پر ابھی اور اِسی وقت عمل شروع کر دوں گا تاکہ کل میدانِ محشرمیں مجھے پچھتانا نہ پڑے ۔‘‘

کچھ نیکیاں کما لے جلد آخرت بنا لے

                              کوئی نہیں بھروسا اے بھائی! زندگی کا               (وسائلِ بخشش)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! فکرِمدینہ کے دوَران ہو سکے تو رونے کی کوشش کیجیے اور اپنے آنسوؤں کو بہنے دیجیے کہ جو روتا ہے اس کا کام ہوتا ہے۔اگر رونا  نہ آئے تو رونے جیسی صُورت ہی  بنا لیجیے کہ اچھوں کی نقل بھی اچھی ہوتی ہے۔حضرتِ سَیِّدُنا سعد بن ابی وقاصرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہاللہعَزَّ وَجَلَّکے محبوب، دانائے غُیُوب، مُنَزَّہٌ عَنِ العیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے اِرشادفرمایا : رویاکرو، اگر رونا نہ آئے تو رونے جیسی صُورت ہی بنا لیا کرو۔([1])اَمیرُالْمُؤمِنِینحضرتِ سیِّدُنا مولائے کائنات، مولامشکلکشا، علیُّ المرتَضٰی شیرِ خداکَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا : جب تم میں سےکوئیاللہ عَزَّوَجَلَّکے خوف سے روئے تو وہ اپنےآنسوؤں کو کپڑے سے صاف نہ کرے بلکہ رُخساروں پر بہہ جانے دے کہ وہ اسی حالت میں ربّ  تَعَالٰی کی بارگاہ میں حاضر ہو گا۔([2])

رونے والی آنکھیں مانگو، رونا سب کا کام نہیں

ذکرِ محبت عام ہے لیکن، سوزِ محبت عام نہیں

اَنبیائےکرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کی تعداد مقررکرنا کیسا؟

عرض : لوگوں میں مشہور ہے کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار اَنبیائے کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  دُنیا میں تشریف لائے، یہ کہاں تک دُرُست ہے؟

اِرشاد : اَنبیائے کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی تعدادمعین کرنا جائز نہیں، تعدادمعین  کرنے کے بجائے یوں کہا جائے کہ’’کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار اَنبیائے کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام دُنیا میں تشریف لائے۔‘‘دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارےمکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ1250صَفحات پر مشتمل کتاب بہارِ شریعت جلد اوّل صَفْحَہ 52پر ہے : اَنبیاءِ کرام(عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام) کی کوئی 

تعداد مُعیَّن کرنا جائز نہیں کہ خبریں اِس باب میں مختلف ہیں اور تَعدادِمُعیَّن پر اِیمان رکھنے میں نبی کو نبوت سے خارِج ماننے یا غیرِ نبی کو نبی جاننے کا اِحتِمال ہے اوریہ دونوں باتیں کُفر ہیں لہٰذا یہ عقیدہ رکھنا چاہئے کہ ہمارا اللہ (عَزَّوَجَلَّ)کے ہر نبی پر اِیمان ہے۔  

آواگون کسے کہتے ہیں؟

عرض : ’’ آواگون ‘‘کسے کہتے ہیں؟

اِرشاد : غیر مسلموں کا یہ عقیدہ ہے کہ انسان کے مرنے کے بعد اس کی روح کسی دوسرے بدن میں چلی جاتی ہے خواہ وہ بدن  انسان کا ہو یا کسی جانور کا اسے آواگون کہتے ہیں جیساکہ دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ1250صَفحات پرمشتمل کتاب بہارِ شریعت جلد اوّل صفحہ103پر ہے : یہ خیال کہ وہ رُوح کسی دوسرے بدن میں چلی جا تی ہے، خواہ وہ آدمی کابدن ہو یا کسی اور جانور کا جس کو تناسُخ اور آواگون کہتے ہیں۔مَحض باطِل اور اس کا ماننا کُفرہے۔([3])

اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں صدرُالشریعہ، بدرُالطریقہ مفتی محمد امجدعلی اعظمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفتاویٰ امجدیہ میں تحریر فرماتے ہیں : اس قول سے ظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ شخص تناسخ یعنی آواگون کا قائل ہے کیونکہ وہ کہتا ہے کہ اپنے اعمال کے مطابق بارِ دیگر(دوسری بار)پیدا  ہونا ہے جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اگر اَعمال اچھے ہوں تو اس کی رُوح اچھے جسم میں جنم لیتی ہے اور بُرے  اعمال ہوں تو جانور وغیرہ کے جسم میں جنم ہوتا ہے(یہ تناسخ ہے)اور تناسخ کا قول  باطلِ محض ہے۔مسلمان تو مسلمان کسی اَہلِ کتاب یہود ونصاریٰ کے نزدیک بھی دُرُست نہیں۔قرآن کا حکم تو یہ ہے :

ثُمَّ اِنَّكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ تُبْعَثُوْنَ(۱۶) (پ ۱۸، اَلْمُؤمِنُون : ۱۶)

ترجَمۂ کنزُالایمان : پھر تم سب قیامت کے دن اُٹھائے جاؤ گے۔

 



[1]     ابنِ  ماجہ، کتاب الزھد، باب الحزن  والبکاء، ۴/ ۴۶۶-۴۶۷ ، حدیث : ۴۱۹۶

[2]     شعب الایمان ، باب فی الخوف من اللّٰہ تعالٰی ، ۱/ ۴۹۳-۴۹۴، حدیث :  ۸۰۸

[3]     بہارِشریعت، ۱/ ۱۰۳، حصّہ۱

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن