30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جنازہ گاہ پَہُنچ کر میری نمازِ جنازہ ادا کی گئی ، اس کے بعد میری چارپائی کا رُخ قبروں کی جانب کر دیا گیا ، جہاں مجھے طویل عرصے کے لیے کسی تاریک قبر میں تنہا چھوڑ دیا جائے گا، یہ وُہی قبرستان ہے کہ جہاں دِن کے اُجالے میں تنہا آنے کے تصوّر ہی سے میرا کلیجہ کانپتا تھا۔ یہ وُہی قبر ہے جس کے بارے میں کہا گیا کہ”قبر یا تو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا۔“([1])اور یہ بھی کہاگیا ہے کہ” قبر آخرت کی سب سے پہلی مَنْزِل ہے، اگر صاحبِ قبر نے اس سے نَجات پالی تو بعد(یعنی قیامت)کا معاملہ آسان ہے اور اگر اس سے نجات نہ پائی تو بعد کا معاملہ زیادہ سخت ہے ۔“([2])وہاں پہلے سے دَفْن مُردوں نے یہ کہہ کر میرے رَنج وغم میں اِضافہ کردیا کہ’’اے اپنے پڑوسیوں اور بھائیوں کے بعد دنیامیں رہنے والے! کیاتو ہم سے عبرت نہیں پکڑ سکتاتھا؟ہم یہاں پہلے چلے آئے کیاتو اس پر غور وفکر نہیں کرسکتا تھا؟کیاتونہ جانتاتھا کہ ہمارے اعمال کا سلسلہ ختم ہوچکاہےاورتیرے پاس مہلت ہے؟پچھلے لوگ جو اَعمال نہ کر سکے تونےان کااِہتمام کیوں نہ کیا؟‘‘([3])قبرکی اس پُکار نے مجھے دَہْشَت ناک کردیا کہ ’’اےدنیاسےدھوکا کھانے والے! تونے ان رشتہ داروں سے عبرت کیوں نہ پکڑی جنہیں زمین کے گڑھے میں ڈال دیا گیا، یہ وہی تھے جنہیں دنیا نےتجھ سے پہلےدھوکے میں رکھاپھر موت انہیں قبروں کی طرف لے آئی۔“([4])یہ تو وُہی جگہ ہے کہ جہاں”دو فرشتے اپنے دانتوں سے زمین چیرتے ہوئے آتے ہیں، اُن کی شکلیں نہایت ڈراؤنی اور ہیبت ناک ہوتی ہیں، اُن کے بدن کا رنگ سیاہ اور آنکھیں سیاہ اور نیلی، اور دیگ کی برابر اور شعلہ زن ہیں، اور اُن کے مہیب(خوفناک)بال سر سے پاؤں تک، اور اُن کے دانت کئی ہاتھ کے، جن سے زمین چیرتے ہوئے آئیں گے، اُن میں ایک کو منکَر، دوسرے کو نکیر کہتے ہیں، مردے کو جھنجھوڑتے اور جھڑک کر اُٹھاتے اور نہایت سختی کے ساتھ کرخت آواز میں سوال کرتے ہیں۔پہلاسوال : مَنْ رَّبُّکَ؟تیرا رب کون ہے؟دوسرا سوال : مَا دِیْنُکَ؟تیرا دین کیا ہے؟تیسرا سوال : مَاکُنْتَ تَقُوْلُ فِیْ ھٰذَا الرَّجُل؟ان کے بارے میں تُو کیا کہتا تھا؟“([5])یہ سوچ کر میرا دل ڈوبا جارہا ہے کہ گناہوں کی نحوست کے سبب میری قبرکہیں دوزخ کا گڑھا نہ بنا دی جائے۔ اے کاش!میں نے زندگی میں نیکیاں کمائی ہوتیں، افسوس!میں نے گناہوں سے پرہیز کیا ہو تا، اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اَحکامات پر عمل کیا ہوتا، آہ ! اب میرا کیا بنے گا!
اس کے بعد آنکھیں کھول دیجیے اور اپنے آپ سے مخاطَب ہوکر کہئے کہ ’’ابھی میں زندہ ہوں، ابھی میری سانسیں چل رہی ہیں، اِن حسرت آمیز لمحات کے آنے سے پہلے پہلے مجھے اپنی قبر کو جنّت کا باغ بنانے کی جِدّوجَہد میں لگ جانا چاہیے لہٰذا اب میں خوب نیکیاں کروں گا، سرکارِ عالی وقارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی پیاری پیاری سنتوں پر عمل کروں گا، گناہوں اور بُرے لوگوں کی صحبت سے دُور رہوں گا تاکہ کل مجھے پچھتانا نہ پڑے۔‘‘ اس کے علاوہ وقتاً فوقتاً قیامت کے امتحان اور میدانِ محشرکے کٹھن وقت کو بھی سامنے رکھ کر اپنے نفس کا محاسبہ کیاجاسکتا ہے ۔
قیامت کے اِمتحان اورمیدانِ محشر کا تصور
عرض : قیامت کے امتحان اور میدانِ محشر کا تصور باندھ کر اپنا مُحاسَبَہ کرنے کا طریقہ بھی اِرشاد فرما دیجیے۔
اِرشاد : قیامت کے امتحان اور میدانِ محشرکا تصور یوں کیجیے کہ میں نے قبر میں ایک طویل عرصہ گزارنے کے بعد اَربوں کھربوں مُردوں کی طرح وہاں سے نکل کر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں حاضری کے لیے میدانِ محشر کی طرف بڑھنا شروع کردیا ہے۔ سورج نہایت کم فاصلے پر رہ کر آگ بَرسا رہا ہے ، اس کی تپش سے بچنے کے لیے کوئی سایہ بھی مُیَّسر نہیں، گرمی اور پیاس سے بُرا حال ہے، ہجوم کی کثرت کی وجہ سے دَھکے لگ رہے ہیں۔اندرونی کیفیّت یہ ہے کہ زندگی بھر کی جانے والی اللہ تَعَالٰی کی نافرمانیوں کا سوچ کر دِل ڈوبا جارہا ہے، اِن کے نتیجے میں ملنے والی جہنم کی ہولناک سزاؤں کے تصوّر سے ہی کلیجہ کانپ رہا ہے ، دِل بھی بے چینی کا شکار ہے کہ یہ تو وہی اِمتحان گاہ ہے جس کے بارے میں حدیثِ پاک میں فرمایا گیا کہ ”قیامت کے دن اِنسان اس وقت تک قدم نہ ہٹا سکے گا جب تک اس سے پانچ سوالات نہ کر لیے جائیں(۱)تم نے زندگی کیسے بسر کی؟(۲)جوانی کس طرح گزاری؟(۳)مال کہاں سے کمایا؟اور(۴)کہاں کہاں خرچ کیا ؟(۵) اپنے عِلم کے مطابق کہاں تک عمل کیا ؟“([6])
ابعمر بھر کی کمائی کا حِساب دینے کا وقت آن پَہُنچا لیکن افسوس! مجھے اپنے دامن میں سوائے گناہوں کے کچھ دِکھائی نہیں دے رہا ، شدّت کی بے بسی کے عالم میں اِمداد طلب نِگاہیں اِدھر اُدھردوڑا رہا ہوں لیکن کوئی سہارا دِکھائی نہیں دے رہا، پچھتاوے کا اِحساس بھی ستا رہا ہے کہ اللہ تَعَالٰی کی بارگاہ میں پیش کرنے کے لیے میرے پاس کچھ بھی تو نہیں کیونکہ شریعت نے جو کرنے کا حکم دیا وہ میں نے نہیں کیا مثلاًمجھے روزانہ پانچ وقت مسجد میں باجماعت نمازپڑھنے کا حکم ملا لیکن افسوس! میں نیند ، مصروفیت، تھکن اور دوستوں کی محفل وغیرہ کے سبب ان کو قضا کرتا رہا، مجھے رمضان المبارک کے مہینے میں روزہ رکھنے کا کہا گیا لیکن افسوس! میں معمولی بیماری اور مختلف حیلوں بہانوں سے روزہ رکھنے کی سعادت سے محروم ہوتا رہا، مجھے مخصوص شرائط کے پورا ہونے پر زکوٰۃوحج کی ادائیگی کا حکم ہوا لیکن افسوس! میں مال کی مَحبّت کی وجہ سے زکوٰۃ وحج کی ادائیگی سے کتراتا رہا اور جس جس گناہ سے بچنے کی تلقین کی گئی تھی، میں انہی گناہوں میں رات دن ملوث رہا مثلاً مجھے کسی مسلمان کو بِلااجازت ِ شرعی تکلیف دینے سے روکا گیا لیکن آہ!میں مسلمانوں پر ظلم ڈھاتا رہا، والدین کو ستانے سے منع کیا گیا لیکن آہ! میں نے والدین کی نافرمانی کر کے ان کو ستانا اپنی عادت بنا لیاتھا، جھوٹ، غیبت چغلی، فحش کلامی اور گالی گلوچ سے اپنی زبان پاک رکھنے کا کہا گیا لیکن آہ! میں اپنی زبان کو قابو میں نہ رکھ سکا ، مجھے غیبت ، فحش کلامی وغیرہ سُننے سے روکا گیا لیکن میں اپنی سماعت پاکیزہ نہ رکھ سکا، دِل کو بُغض، حسد، تکبّر، بَدگمانی، شَماتت(کسی کے نقصان پر خوش ہونا)، ناجائز لالچ وغُصّہ وغیرہ سے خالی رکھنے کا اِرشاد ہوا لیکن آہ! میں اپنے دِل کو اِن
[1] ترمذی ، کتاب صفة القیامة، باب (ت : ۹۱) ، ۴/ ۲۰۹، حدیث : ۲۴۶۸
[2] ترمذی ، کتاب الزھد ، باب(ت : ۵) ، ۴/ ۱۳۸، حدیث : ۲۳۱۵
[3] احیاء العلوم ، کتاب ذکر الموت وما بعدہ ، بیان کلام القبر للمیت ، ۵/ ۲۵۳
[4] احیاء العلوم ، کتاب ذکر الموت وما بعدہ ، بیان کلام القبر للمیت ط، ۵/ ۲۵۳
[5] بہارِ شریعت ، ۱/ ۱۰۶-۱۰۷، حصہ ۱
[6] تِرمِذی، کتاب صفة القیامة والرقائق والورع ، باب فی القيامة، ۴/ ۱۸۸، حدیث : ۲۴۲۴
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع