دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Apnay Liye Kafan Tayyar Rakhna Kaisa? | اپنے لیے کفن تیار رکھنا کیسا؟

book_icon
اپنے لیے کفن تیار رکھنا کیسا؟

میں اپنی زندگی کے کتنے گھنٹے گزار چکا ہوں؟جس اَنداز سے میں نے یہ وقت گزارا، اس دوران جو اَفعال مجھ سے سرزد ہوئے، کیا زندگی بَسر کرنے کا میرا یہ انداز، اللہ عَزَّ وَجَلَّاور اس کے پیارے رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کے نزدیک پسندیدہ ہے یا ناپسندیدہ ؟ افسوس! میرا طرزِ زندگی تو ناپسندیدہ ہی شمار ہوگا کیونکہ میں نے سب سے پہلا کام تو یہ کیاتھا کہ نیند کو عزیز رکھتے ہوئے نمازِ فجر قضا کر دی ، پھر دِن چڑھے بیدار ہونے کے بعد سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کی پیاری اور نورانی سنتِ  مبارَکہ ایک مٹھی داڑھی شریف رکھنے کو ترک کر دینے کا سلسلہ قائم رکھتے ہوئے اسے مونڈ یا کاٹ کر مَعَاذَاللہ  عَزَّ  وَجَلَّ  گندی نالی تک میں بہا دینے سے دَرِیغ نہیں کیا ، پھر کپڑے وغیرہ تبدیل کرنے کے دَوران ٹیپ ریکاڈر یا کیبل وغیرہ پر گانے سُننے کا بھی سلسلہ رہا ، نامحرم عورَتوں مثلاً بھابھی وغیرہ سے ہنسی مذاق وغیرہ بھی جاری رہی، ناشتے میں تاخیر کی وجہ سے والِدہ کے سامنے گستاخانہ اَندازِ گفتگو اِختیار کر کے ان کا دِل بھی تو دُکھایا تھا، ابّا جان نے کوئی کام کہا تو حسب ِ معمول انہیں ٹَکَّا سا جواب دے دیاتھا، پھر اپنے دفترجانے کے لیے جو لباس میں نے پہن رکھا تھا وہ بھی تو خلاف ِ سُنَّت تھا، جب گھر سے روانہ ہوا تو چلتے چلتے اپنے پڑوسیوں کی رنگ شُدہ صاف ستھری دِیوار پر پان کی پِیک پھینک کر اسے داغدار کر  ڈالاتھا، بس میں کنڈیکٹر وغیرہ سے خواہ مخواہ اُلجھ کر دو چار گالیاں بھی تو بکی تھیں  اور بس میں بیٹھی بے پردہ خواتین کومسلسل گھورابھی توتھا ، پھر دورانِ ملازمت اپنی ڈیوٹی پوری کرنے کے  بجائے اِدھر اُدھر کی باتوں میں وقت ضائع کر دیا جبکہ مشاہرہ پورا ہی لوں گا، اپنے ساتھیوں کی چیزیں انہیں ناگوار گزرنے کے باوُجُود ان کی اِجازت کے بغیر اِسْتِعمال کر ڈالیں، ظہر کی نماز کا طویل وقت اپنے دوستوں سے’’گپ شپ‘‘کرتے ہوئےگزار دیا، اسی طرح عصر و مغرب کی نمازیں بھی میں نے دیگرمصروفیات کی نذر کر دیں، واپسی پر رَش کی بنا پر دوسروں کو دَھکے دیتے ہوئے گھر واپسی کے لیے بس میں سُوار ہو گیا اور بس اسٹاپ سے گھر آتے ہوئے کوئی غریب مجھ سے اَنجانے میں ٹکرا گیا تھا تو میں نے اس کا قصور نہ ہونے کے باوُجُود اِسے گریبان سے پکڑ کر پِیٹ ڈالا تھا، گھر پَہُنچ کر ’’شدید تھکاوٹ‘‘کی وجہ سے عشا کی نماز بھی نہ پڑھی اور رات کاکھانا کھانے کے بعد’’فریش(Fresh)‘‘ہونے کے لیے آوارہ دوستوں کی محفل میں جا بیٹھا، فحش کلامی، گالی گلوچ، تاش کا کھیل اس محفل کی’’نمایاں خصوصیات‘‘تھیں، جب رات گئے گھر لوٹا تو نیند سے آنکھیں بند ہونے لگیں اور میں سونے کے لیے بستر پر چلا آیا، یوں میں  نے  سارا دن اللہ  عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی میں گزار دیا۔

اس مقام پرپَہُنچ کر آنکھیں کھول کر اپنے آپ سے یوں مخاطب ہو کہ  اے نادان !تو کب تک اِسی منحوس طرزِ زندگی کو اپنائے رکھے گا؟ کیا روزانہ یونہی تیرے نامۂ اَعمال میں گناہوں کی تعداد بڑھتی رہے گی؟کیا تجھے نیکیوں کی بالکل حاجت نہیں؟کیا تجھ میں اِتنی ہمت وطاقت ہے کہ دوزخ کے عذابات برداشت کر سکے؟کیا تو جنّت سے محرومی کا دُکھ برداشت کر پائے گا؟یاد رکھ! اگراب بھی توخواب ِ غفلت سے بیدار نہ ہوا تو موت کے جھٹکے بالآخر تجھے جھنجھوڑ کر اُٹھا دیں گے۔لیکن اَفسوس !اُس وقت بَہُت دیر ہوچکی ہو گی ، پچھتانے کے سوا تو کچھ نہ کر سکے گا۔ابھی تو زندہ ہے ، اِس لیے اس وقت کو غنیمت جان اورسنبھل جا اور اپنی اِس مختصر زندگی کو خدائے اَحْکمُ الْحَاکمِیْن جَلَّ جَلَالُہ کی اِطاعت اور اس کے پیارے  حبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کی  سُنَّتوں کی اِتباع میں بسر کر لے ۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!رات جب سونے لگیں تو بیان کردہ طریقے کے مطابق دن بھر کے اپنے  اَعمال واَفعال کو  یا د کر لیا کریں  ، اگر کوئی نیک کام کیا ہوتو اس پر شکر بجالائیں اور اگر مَعَاذَ اللہ

  عَزَّ  وَجَلَّ  کو ئی گناہ سرزد ہوا ہے تو اس سے توبہ کرتے ہوئے آئندہ اس سے بچنے کا پکا عہد کرلیجیے اس طرح نیکیاں کرنے اور گناہوں سے بچنے کا ذہن بنے گا۔حضرتِ سَیِّدُنا  مکحول شامیقُدِّسَ سِرُّہُ السّامی فرماتے ہیں : انسان جب بستر پر آرام کرنے لگے تو اپنا محاسبہ کرے کہ آج اس نے کیااَعمال کیے ؟پھر اگر اس نے اچھے اَعمال کیے ہوں تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کا شکر کرے اور اگر اس سے گناہ سرزد ہوئے ہوں تو توبہ واِستغفار کرے  کیونکہ اگر یہ ایسا نہ کریگا تو اس تاجر کی طرح ہوگا جو خرچ کرتا جائے لیکن حساب کتاب نہ رکھے توایک وقت ایسا آئے گا کہ وہ کنگال ہوجائے گا۔([1])اس کے علاوہ نزع کی کیفیات اور قبرکے امتحان کا تصور باندھ کر بھی فکرِ مدینہ کی جاسکتی ہے ۔

وقتِ نزع اورقبر کے  امتحان کا تصوّر

عرض : نزع کی کیفیات اور قبرکے امتحان کا کس طرح تصور باندھ کر مُحاسَبَہ کیا جائے ؟

اِرشاد : اپنی آنکھیں بند کر کے نزع کی کیفیت اور قبرکے امتحان کا تصور اس طرح  کیجیے کہ میری موت کا وقت آن پَہُنچا اور مجھ پر غشی طاری ہو چکی ہے، رشتہ دار وغیرہ بے بسی کے عالَم میں مجھے موت کے مُنہ میں جاتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔نَزع کی ناقابلِ بیان تکالیف کا سامنا ہے، زبان کی قوتِ گویائی رُخْصت ہوچکی ، مجھے سخت پیاس مَحسوس ہو رہی ہے۔اسی اِثنا میں کسی نے سرہانے سورۂ یٰسین شریف کی تلاوت شروع کر دی، رِشتہ داروں کی صورتیں مدہم ہوتی نظر آرہی ہیں۔اب گلے سے خرخراہٹ کی آوازیں آنے لگیں اور روح نے جسم کا ساتھ چھوڑ دیا ۔میری موت واقِع ہوجانے کے بعدعزیز و اَقارب پر گریہ طاری ہوگیا۔ بیوی بچے ، بہن بھائی اور  ماں باپ وغیرہ سبھی شدّتِ غم سے آنسو بہا رہے ہیں اور کچھ لوگ میرے گھر والوں کو دِلاسہ دے رہے ہیں ۔ اِن میں سے کسی نے آگے بڑھ کر میری بے نور آنکھیں بند کر دیں اور پاؤں کے دونوں انگوٹھے اوردونوں جبڑوں کو کپڑے کی پٹی سے باندھ دیا۔ پھر کچھ لوگ قبر کی تیّاری کے لیے اور کچھ کفن و تختۂ غسل لانے کے لیے روانہ ہو گئے۔غسل کا اِنتظام ہونے پر مجھے تختۂ غسل پر لِٹاکر غسل دیا گیا اور سفید کفن پہنا کر آخری دِیدار کے لیے گھر والوں کے سامنے  لٹا دیا گیا۔ میرے چاہنے والوں نے آخری مرتبہ مجھے دیکھا کہ یہ چہرہ اب دُنیا میں دوبارہ ہمیں دکھائی نہ دے گا۔پورے گھر کی فضا پر عجیب سوگواری چھائی ہوئی ہے، دَرودِیوار پر اُداسی طاری ہے۔بالآخر!میری چارپائی کو کندھوں پر اُٹھا لیا گیا اور میں نے ایک حسرت بھری نظر اپنے گھر پر ڈالی کہ یہ وُہی گھر ہے جہاں میری پیدائش ہوئی، میرا بچپن گزرا، یہیں میں نے جوانی کی بہاریں دیکھیں، اپنے کمرے کی طرف دیکھا جہاں اب کوئی دوسرا بسیرا       کرے گا، اپنے اِستعمال کی چیزوں کی طرف دیکھا جنہیں اب کوئی اور اِستعمال کرے گا، اپنے ہاتھوں سے لگائے ہوئے پودوں کی جانب دیکھا جن کی نگہبانی اب کوئی دوسرا کرے گا۔لوگ میرا جنازہ اپنے کندھوں پر اُٹھائے جنازہ گاہ کی طرف بڑھنا شروع ہو گئے۔ میں نے اِنتہائی حسرت کے ساتھ آخری مرتبہ اپنے ماں باپ، بیوی بچوں، بھائی بہنوں، دیگر رِشتہ داروں، دوستوں اور محلے والوں کی طرف دیکھا، اِن گلیوں، اِن راستوں کو دیکھا جن سے گزر کر کبھی میں اپنے کام کاج یا اِسکول وغیرہ کے لیے جایا کرتا تھا ۔

 



[1]     تنبیہ الغافلین، باب التفکر ، ص ۳۰۹

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن