دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Apnay Liye Kafan Tayyar Rakhna Kaisa? | اپنے لیے کفن تیار رکھنا کیسا؟

book_icon
اپنے لیے کفن تیار رکھنا کیسا؟

معلومہواکہ کفن پہلے سے تیار رکھا جا سکتا ہے یہی وجہ ہے کہ ان صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنے کفن کے لیے چادر مانگی اورآپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  نے بھی اس سے منع نہ فرمایا بلکہ چادرعطافرمادی، مگر قبر پہلے سے نہیں بنانی چاہیے کہ میرے آقا اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنّت، مجدِّدِ دین وملّت مولانا شاہ امام احمد رضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفرما تے ہیں : کفن پہلے سے تیار رکھنے میں حرج نہیں اور قبر پہلے سے بنانا  نہ چاہئے۔اللہ تَعَالٰی  فرماتا ہے :

وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌۢ بِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوْتُؕ            ۲۱، لقمان : ۳۴)

ترجَمۂ کنزُالایمان : اور کوئی جان نہیں جانتی کہ کس زمین میں مرے گی۔([1])   

البتہ بعض بزرگانِ دینرَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِین نے اپنا محاسبہ کرنے اور دل کو نرم رکھنے کے لیے قبر کھدوا کر رکھی ہے اس میں کوئی حرج نہیں جیسا کہ حضرتِ سیِّدُنا ربیع بن خُثَیْمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اپنے گھر میں ایک قبر کھود ر کھی تھی۔ جب کبھی   اپنے دل میں سختی پاتے تو  اس میں لیٹ جاتے اور جب تک اللہ  عَزَّوَجَلَّ چاہتا اس میں رہتے پھر یہ آیتِ مُبارَکہ تلاوت فرماتے :         

رَبِّ ارْجِعُوْنِۙ(۹۹)لَعَلِّیْۤ اَعْمَلُ صَالِحًا فِیْمَا تَرَكْتُ (پ۱۸، المؤمنون : ۹۹، ۱۰۰)

ترجمۂ کنز الایمان : ”اے میرے رب مجھے واپس پھیر دیجئے شاید اب میں کچھ بھلائی کماؤں اس میں جو چھوڑ آیا ہوں۔“

اسے دُہراتے رہتے پھر خود کو مخاطب کر کے کہتے : اے ربیع!تیرے ربّ نے تجھے واپس بھیج دیا ہے اب عمل کر۔([2])اسی طرح حضرتِ سَیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْعَزِ  یْز کے بارے میں بھی مذکور ہے اور یہ بھی لکھا ہے کہ ایسا کرنے والے کو اجر دیا جائے گا۔ ([3])

فکرِمدینہ کامطلب اور اس کی اہمیت

عرض : فکرِ مدینہ کسے کہتے ہیں اور یہ کیوں ضروری ہے ؟

اِرشاد : دعوتِ اسلامی کی اِصطلاح میں اپنا محاسبہ کرنے  کو” فکرِ مدینہ“کہا جاتا ہے، اس کا آسان سا مطلب یہ ہے کہ اِنسان اُخروی اِعتبار سے اپنے معمولات ِ  زندگی پر غور  کرے پھر جو کام اس کی آخرت کے لیے نُقْصان دہ ثابت ہو سکتے ہوں، انہیں دُرُست کرنے کی کوشش میں لگ جائے اور جوکام اُخروی اِعتبار سے نَفْع بخش نظر آئیں ، اِن میں بہتری کے لیے اِقْدامات کرے۔([4])

فکرِ مدینہ(یعنی اپنا محاسبہ )کرنا اس لیے ضروری ہے کہ اس سے نیک اَعمال بجا لانے کی رغبت پیدا ہوتی اور گناہوں پر ندامت ہوتی ہے تو یوں انسان کو  سابقہ گناہوں سے توبہ کی توفیق مل جاتی ہے جیسا کہ حضرتِ سَیِّدُنا ابن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں : اَلتَّفَکُّرُ  فِی الْخَیْرِ  یَدْعُوْ  اِلَی الْعَمَلِ بِہٖ وَالنَّدَمُ عَلَی الشَّرِّ  یَدْعُوْ  اِلٰی تَرْکِہٖ یعنی اچھی باتوں کے بارے میں سوچنے سے ان پر عمل کی ترغیب ملتی ہے اور برائیوں پر نادم  ہونے سے انہیں چھوڑنے کی توفیق ملتی ہے ۔([5])

فکرِ مدینہ کرنے اور اس کے ذریعے  اپنی قبروآخرت بہتر بنانے والوں کے لیےسرکارِ عالی وقار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کا یہ اِرشادِ پاک بہترین نصیحت بنیاد ہےکہ پانچ سے پہلے، پانچ کو غنیمت جانو : (۱)جوانی کو بڑھاپے سے پہلے(۲)صحت کو بیماری سے پہلے(۳)مالداری کو تنگدستی سے پہلے (۴)فراغت کومَصروفیت سے پہلے اور(۵)زندگی کو موت سے پہلے۔([6]) اَمیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عثمانِ غنیرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : دنیا کی فکر دِل میں اندھیرا جبکہ آخرت کی فکر روشنی ونور پیدا کرتی ہے۔([7])

میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو! فکر ِمدینہ کی بَرکتوں  سے کماحقہ مستفید ہونے کے لیے روزانہ سونے سے پہلے گھر وغیرہ کے کسی کمرے میں تنہایا ایسی جگہ جہاں مکمل خاموشی ہو، آنکھیں بند کر کے سر جُھکائے کم اَز کم 12منٹ اپنے روزمرہ کے معمولات کا جائزہ لیجیے اور قبر وآخرت کی ہولناکیوں کا تصور باندھیے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ  اس کی برکت سے نیک اعمال کرنے، گناہوں سے بچنے اور اپنی قبروآخرت کو بہتر بنانے کاذِہن بنے گا۔     

روزمرہ کےمعمولات کا مُحاسَبَہ

عرض :  اپنے روزمرہ کے معمولات کی  کس طرح فکرِمدینہ کی جائے ؟

اِرشاد : روز مرہ کے معمولات کی فکرِ مدینہ کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ انسان رات جب بستر پر سونے لگے تو  اس وقت اپنی آنکھیں بند کر کے غور کرے کہ صُبح نیند سے بیدار ہونے کے بعد سے اب تک



[1]     فتاویٰ رضویہ، ۹/ ۲۶۵

[2]     احیاء العلوم، کتاب  ذکر الموت  ومابعدہ، بیان  حال القبر...الخ، ۵/ ۲۳۸

[3]     فتاویٰ  تاتارخانیة، کتاب الصلاة، الفصل فی القبر والدفن، ۲/ ۱۷۲ ملخصاً

[4]    اَلْحَمْدُللہ عَزَّ وَجَلَّ! شیخِ طریقت، امیرِاہلسنَّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرتِ علامہ مولانا محمد الیاس عطارؔ قادری رضویدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے اِس پرفتن دور میں آسانی سے نیکیاں کرنے اورگناہوں سے بچنے کے طریقہ کار پر مشتمل شریعت وطریقت کا جامع مجموعہ بنام”مَدَنی انعامات“بصورتِ سوالات عطا  فرمایا ہے۔اسلامی بھائیوں کے لیے 72، اسلامی بہنوں کے لیے 63اور طَلَبہ علمِ دین کے لیے 92 ، دینی طالِبات کے لیے83اور مَدَنی مُنّوں اور مُنّیوں کے لیے40اور”خصوصی اسلامی بھائیوں“(یعنی گونگے بہروں)کےلیے27 مَدَنی اِنعامات ہیں۔بے شمار اسلامی بھائی ، اسلامی بہنیں اور طَلَبہ”مدنی انعامات“ کے مطابق عمل کر کے روزانہ سونے سےقبل”فکرِمدینہ“یعنی اپنے اعمال کا جائزہ لے کر”مَدَنی انعامات“ کے پاکٹ سائز رسالے میں دیئے گئے خانے پُر کرتے ہیں ۔ ان مَدَنی انعامات کو اپنا لینے کے بعد نیک بننے اورگناہوں سے بچنے کی راہ میں حائل رُکاوٹیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فضل وکرم سے بتدریج دور ہوتی چلی جاتی ہیں اور اس کی برکت سے پابند ِ سنّت بننے، گناہوں سے نفرت کرنے اور ایمان کی حفاظت کے لیے کُڑھنے کا ذِہن بھی بنتاہے ۔(شعبہ فیضانِ مدنی مذاکرہ)

[5]     احیاء العلوم، کتاب التفکر ، فضیلة التفکر، ۵/ ۱۶۳

[6]     مستدرک حاکم، کتاب الرقاق، نعمتان مغبون  فیھما کثیر...الخ ، ۵/ ۴۳۵، حدیث : ۷۹۱۶

[7]     مُنَبِّھات ابنِ حجر، ص۴

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن