30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سے مروی ہیں (جو پیچھے گزرچکیں) ان پر کیوں عمل نہیں کرتے؟
نامِ پاک پر انگوٹھے چومنے والی روایت کا حکم اور حدیث ِ صحیح کا مطلب
اہم بات:صحیح حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ صحیح اور غلط ۔بلکہ محدّثین ِکرام رحمۃُ اللہ علیہم نے حدیث ِپاک کی کئی اَقسام بیان کی ہیں ۔جن میں سب سے اعلیٰ قِسم ’’صحیح ‘‘ہے۔ اذان میں نامِ محمد ( صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ) پر انگوٹھے یا شہادت کی انگلیاں چومنے پر صحیح حدیث نہ ہونے کا ہرگزیہ مطلب نہیں کہ مَعاذَ اللہ !یہ حدیثِ پاک موضوع(یعنی من گھڑت ) ہے بلکہ اہلِ علم جانتے ہیں کہ اگر کوئی حدیث صحیح نہ ہوتو وہ دوسری قسم کی حدیث ِ پاک میں سے ہوگی، صِحاح ِسِتّہ (حدیثِ پاک کی سب سے زیادہ قابلِ اعتماد 6 کُتُب :بخاری ،مسلم ،ابوداؤد، نَسائی، ترمِذی اور ابنِ ماجہ) میں سب احادیثِ مبارکہ صحیح نہیں بلکہ اکثر صحیح ہونے کی وجہ سے ان کتابوں کو ’’صحاح ‘‘ (یعنی صحیح )کہا جاتا ہے۔
’’انگوٹھے چومنے کے بارے میں کوئی صحیح حدیث نہیں ہے‘‘اِس وسوسے کو آسان الفاظ میں یوں سمجھئے کہ اگر کوئی شخص کسی سے پوچھے آپ جہاز اُڑا لیتے ہیں اور وہ جواب دے کہ نہیں ۔تو کیا اس کا مطلب یہ ہو گا کہ اس انسان کو کچھ بھی چلانا نہیں آتا؟ہوسکتا ہے وہ شخص بحری جہاز یا ٹرین یا ٹرک یا کار یا بائیک چلا لیتا ہو۔ ایک بات کی نفی سے ہرچیز کی نفی نہیں ہوتی ۔ مزید تفصیلات کے لئے میرےا ٓقا اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ علیہ کی کتاب ’’ مُنِیْرُ الْعَیْنِ فِیْ حُکْمِ تَقْبِیْلِ الْاِبْھَامَیْنِ ‘‘پڑھئے !آپ رحمۃُ اللہ علیہ نے اِس کتاب میں علمِ حدیث کے دریا بہا دئیے ہیں ،نامِ محمد ( صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ) پر انگوٹھے چومنے کے موضوع پر ا علیٰ حضرت رحمۃُ اللہ علیہ نےتقریباً 200 صفحات کی یہ عالی شان کتاب 29 سال کی عمر میں لکھی۔اگر کوئی ایمانداری کے ساتھ اورتنقید کے چشمے اُتار کرعقیدت و محبّت کی عینک لگا کر اس کو پڑھے تو وہ خود بھی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع