30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کے مُتَعَلِّق احادیث و رِوایات پچھلے صفحات میں باحوالہ پیش کی گئیں ہیں اُنہیں پڑھئے اور خود بھی نامِ محمد صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم پر انگوٹھے چومئے اور دوسروں کو بھی اس نیک کام کی ترغیب دِلا کر ثواب کے حقدار بنئے۔
صحیح حدیث نہ ہونے کا کیا مطلب ہے؟
وسوسہ: نامِ محمد صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم پر انگوٹھے چومنے کے بارے میں کوئی صحیح حدیث نہیں ہے، یہ بِدعت (یعنی نیا کام )ہے ۔
جواب: سب سے پہلے یہ بتائیے کہ مُحَدِّثین ِ کرام رحمۃُ اللہ علیہم حدیثِ پاک کی جو مختلف اَقسام بیان کرتے ہیں کیا اُن کا ذکر قرآن و حدیث میں کُھلے الفاظ کے ساتھ بیان ہوا ہے؟ تو آپ کا جواب یقیناً ”نہیں“ ہوگا۔ اچھا! یہ بتائیے کیا کسی صحابی رضی اللہ عنہ نے کسی حدیث کو’’صحیح‘‘ یا ’’حَسَن‘‘ یا ’’ضعیف‘‘ کہا ہے؟ یقیناً اس میں بھی آپ کہیں گے کہ ”نہیں“ تو جو کام قرآن و حدیث میں نہ ہو اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی نہ کیا ہو وہ آپ کے نزدیک کیا ہے؟ پھر آپ کیوں حدیثِ صحیح کی رَٹ لگاتے ہیں؟
بے شک !مُحدّثینِ کرام رحمۃُ اللہ علیہم نے جو اقسامِ حدیث بیان کی ہیں اور ان کے قواعد و ضَوابِط بیان کئے ہیں یہ نئے کام ہیں لیکن یہ کام شرعی ضرورت کی وجہ سے ہیں تو یہ بدعتِ حَسَنہ (یعنی اچھا نیا کام) ہے جس پران حضرات کو قیامت تک ثواب ملتا رہے گااور اس پر آج تک کسی نے کوئی اعتراض نہیں کیا کیونکہ سب ان قَواعِد اور اِصْطِلاحات کو مانتے ہیں۔
جب آپ صحابہ ٔ کرام رضی اللہ عنہم سے بھی بعد میں آنے والے مُحدّثینِ کرام سے علمِ حدیث کی اِصْطِلاحات لیتےاوراسے درست سمجھتے ہیں تو پھر نامِ محمد صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم پر انگوٹھے چومنے والی روایات صحابہ ٔ کرام رضی اللہ عنہم سمیت کئی بزرگانِ دین رحمۃُ اللہ علیہم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع