30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہوئے(کیونکہ حکمِ شرعی ہے جب خطبہ یا تلاوت سُنیں تو پوری توجہ کے ساتھ سنیں۔)( فتاوی ٰ رضویہ ، 5 / 415۔8/468ملخصاً)
انگوٹھے چومنے سے منع کس نے کیا ہے؟
امامِ اہلِ سنّت اعلیٰ حضرت مولانا شاہ امام احمد رضاخان رحمۃُ اللہ علیہ اپنے رسالے ’’ مُنِیْرُ الْعَیْنِ فِیْ حُکْمِ تَقْبِیْلِ الْاِبْھَامَیْنِ ‘‘ میں نامِ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم پر انگوٹھے چومنے کے بارے میں بڑی پیاری بات فرماتے ہیں جسے آسان کرکے پیش کیا جاتاہے : حضور پُرنور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا نامِ پاک اذان میں سُنتے وقت انگوٹھے یا دونوں شہادت کی انگلیاں چُوم کر آنکھوں سے لگانا بالکل جائز ہے، اس کے جائز ہونے پر کئی دلائل موجود ہیں اوربِالْفرض جائز ہونے پر کوئی دلیل نہ ہوتی پھر بھی ناجائز کہنے کی کوئی دلیل نہیں تھی کیونکہ شریعت میں اسے کہیں منع نہیں کیا گیا۔ مَعاذَاللہ! جو اس عمل کو ناجائز کہتا ہے اُس کے ذِمّے ثُبوت دینا ہے کہ وہ بتائے کہ قرآن و حدیث یا اَقوالِ بُزُرگان ِ دین رحمۃُ اللہ علیہم میں کہاں نامِ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سُن کر تعظیم میں انگوٹھے چومنے سے منع کیا گیا ہے۔مگریہاں تو احادیث ِ مُبارکہ، فقہ اور عُلمائے کرام کے اقوال اور بزرگانِ دین کے اس عمل کے جائز ہونے پر کئی دَلائل ہیں ۔
(فتاویٰ رضویہ، 5/430تسہیلاً)
نامِ پاکِ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے لُطف لینے والے فرشتے
اللہ پاک کےپیارے پیارے نبی، مکّی مَدَنی محمدِ عربی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم فرماتے ہیں : میں قیامت کے روز جنّت کے دروازے پر آؤں گا اور اس کو کھولنے کا حکم فرماؤں گا تو جنّت کے دروازے پر مُقَرَّر فرشتہ حضرتِ رِضوان علیہ السّلام عرض کریں گے :آپ کون؟تو میں کہوں گا’’ محمد‘‘ تو وہ عرض کریں گے:” لَبَّیْک “ کیوں نہیں مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں آپ سے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع