30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو نُور مانتے تھے ۔ اب شیطان نے لوگوں کے دِلوں میں وَساوس ڈالنا شروع کر دیئے ہیں اور لوگوں نے اِختلاف شروع کیا ہے اور بعض لوگ ان وَساوس کا شِکار ہو جاتے ہیں ۔ پہلے اِختلاف نہیں تھا اور سب سرکارِ عالی وقار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو نُور مانتے تھے ، اِس لیے ان کے اِیمان بھی نُور نُور تھے ۔
نُور اور بشر ایک جگہ جمع ہو سکتے ہیں
سُوال : حضورِ انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نُور بھی ہیں اور بشر بھی، کیا نُور اور بشر دونوں ایک ساتھ جمع ہو سکتے ہیں ؟
جواب : جی ہاں! مشہور مُفَسِّر حکىمُ الامَّت حضرتِ مفتى احمد ىار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم بشر(یعنی اِنسان)بھی ہیں اور نُور بھی یعنی نُوری بشر ہیں ۔ ظاہِری جسم شریف بشر ہے اور حقیقت نُور ہے ۔ ([1])ىاد رہے کہ نُور اور بشر اىک دوسرے کى ضِد (یعنی اىک دوسرے کا اُلٹ)نہیں کہ اىک جگہ جمع نہ ہو سکىں ۔ حضرتِ جبرىل عَلَیْہِ السَّلَام نُورى مخلوق ہونے کے باوجود حضرتِ سَیِّدَتُنا بى بى مَر ىم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے سامنے اِنسانى شکل مىں جَلوہ گر ہوئے تھے جىسا کہ پارہ 16سورۂ مَرىم کی آىت نمبر 17میں اِرشاد ہوتا ہے : (فَاَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهَا رُوْحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِیًّا(۱۷))ترجمۂ کنز الایمان : ”تو اس کی طرف ہم نے اپنا روحانی بھیجا وہ اس کے سامنے ایک تندرست آدمی کے روپ میں ظاہر ہوا ۔ “نیز حضرت مَلَکُ الْمَوت عَلَیْہِ السَّلَام بشرى صورت مىں حضرتِ سَیِّدُنا مُوسىٰ کَلِیْمُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکى خِدمت مىں حاضِر ہوئے ([2]) ۔ ([3])
سرکار عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اللہ کا بندہ کہنا کیسا؟
سُوال : کىا ہم سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو اللہ کا بندہ کہہ سکتے ہىں؟ (ہند سے سُوال)
جواب : سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم اللہ پاک کے خاص بندے ہیں جیسا کہ ڈاکٹر اقبال کا شعر ہے :
عَبد دِیگر عَبْدُہٗ چیزے دِگر
ایں سراپا اِنتظار او منتظر ([4])
سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم عَبد (یعنی بندے ) ہىں مگر عام بندوں کی طرح نہیں بلکہ”عَبْدُہٗ “یعنی اللہ پاک کے خاص بندے ہیں لہٰذا اِن معنوں پر سرکار عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اللہ پاک کا بندۂ خاص کہنے میں حَرج نہیں ۔
کیا مَدَنی مُنّے بھی ہفتہ وار رِسالے کی کارکردگی پیش کریں؟
سُوال : اگر مَدَنى مُنّے بولتا رِسالہ سُن لىں تو کیا وہ بھی اپنی کارکردگی پیش کریں ؟
جواب : اگر مَدَنی مُنّے اتنے سمجھ دار ہىں کہ بولتا رِسالہ میں جو کچھ بیان کیا جا رہا ہے انہیں کافی حَد تک اُس کی سمجھ پڑتى ہے تو اِس صورت میں اُن کا کارکردگی دینا اچھی بات ہے ۔ کارکردگی جتنی زیادہ بڑھے گی اتنی ہی زیادہ ذِمَّہ داران کی حوصلہ اَفزائی ہو گی اور دوسروں کو بھی تَرغیب ملے گی کہ آخر کوئی بات تو ایسی ہے کہ جس کے باعِث لاکھوں لوگ ہفتہ وار مَدَنی رِسالہ پڑھ اور سُن رہے ہیں لہٰذا میں کیوں پیچھے رہوں اَب میں بھی مَدَنی رِسالہ پڑھوں یا سُنوں گا ۔ اگر مَدَنی مُنّے بولتا رِسالہ بالکل ہی نہ سمجھ پائیں بس خالی آواز اُن کے کانوں میں جا رہی ہو یا جو مَدَنی مُنّا صِرف انگلش سمجھتا ہے وہ اُردو میں بولتا رِسالہ سُنے اور جو صِرف اُردوسمجھتا ہے وہ انگلش میں بولتا رِسالہ سُنے تو ایسی صورت میں کارکردگی نہ دی جائے ۔
سامان توڑنے والے مَزدور گناہ گار ہوں گے
سُوال : ہم مَزدور جب لوگوں کا سامان اُٹھا کر ایک جگہ سے دوسری جگہ رکھتے ہیں تو ایک ایک چیز اُٹھا کر رکھنے سے ہمارا وقت بہت ضائع ہوتا ہے ، اِس لیے ہم
[1] رَسائل نعیمیہ، رِسالہ نور، ص ۳۹تا۴۰ ضیاء القرآن پبلی کیشنز مرکز الاولیا لاہور
[2] بخاری، کتاب الجنائز، باب من احب الدفن فی الارض...الخ، ۱ / ۴۵۰ دار الکتب العلمیة بیروت
[3] جو شخص نبیٔ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی بَشَرِیَّت کا مُطلقاً اِنکار کرے وہ کافر ہے اور جو شخص آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی نورانیت کا اِنکار کرے وہ خود گمراہ ہے اور دوسروں کو گمراہ کرتا ہے ۔ (العقائد والمسائل(عربی و اُردو)، ص۶۱-۱۰۲مکتبہ تنظیم المدارس مرکز الاولیا لاہور)
[4] یعنی عبد اور ہے عَبْدُہٗ اور یہ سَراسراِنتظار ہے اور وہ خود منتظَر ۔ (شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع